உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Free Fall of Freebies:مکسر گرائنڈر سے ہوئی شروعات، رقومات کی تقسیم سے ملاعروج، چاند کی سیرکے وعدہ کے ساتھ زوال یقینی

    (Shutterstock)

    (Shutterstock)

    Free Fall of Freebies: دہائیوں سے ہندوستان کے سیاستدانوں کے درمیان ووٹرس کو الیکشن سے پہلے رعایت کا وعدہ عام رواج رہا ہے ۔ نقد سے لے کر شراب ، گھریلو سامان، اسکالر شپ ، سبسڈیز اور اشیائے خوردنی تک ، لامتناہی آپشنز ہیں ۔ آئیے ایسے کچھ پر نظر ڈالتے ہیں ، جو یادگار تھے ۔

    • Share this:
      نئی دہلی : اس بات کا مشاہدہ کرتے ہوئے کہ مفت اور سماجی اسکیمیں دو الگ الگ تصورات ہیں، سپریم کورٹ نے پیسہ کھونے والی معیشت اور فلاحی اقدامات کے درمیان توازن قائم کرنے کیلئے کہا ہے۔ نیز عدالت نے ان پارٹیوں کو ڈی ریکگنائز کرنے سے متعلق درخواست پر غور کرنے کے امکان کو بھی مسترد کر دیا، جو مفت دینے کا وعدہ کرتی ہیں ۔

      ایڈووکیٹ اشونی اپادھیائے کے ذریعہ دائر کی گئی عرضی میں سیاسی جماعتوں کے انتخابات کے دوران مفت دینے کا وعدہ کرنے کے عمل کی مخالفت کی گئی تھی اور الیکشن کمیشن پر زور دیا گیا تھا کہ وہ ان کے انتخابی نشانات کو فریز کرنے اور ان کے رجسٹریشن کو منسوخ کرنے کیلئے اپنے اختیارات استعمال کا کرے ۔

      اسٹیک ہولڈرز سے 17 اگست سے پہلے اس پہلو پر تجاویز پیش کرنے کیلئے کہتے ہوئے چیف جسٹس این وی رمن اور جسٹس کرشنا مراری پر مشتمل بینچ نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو انتخابات کے دوران غیر معقول مفت دینے کے وعدے کرنے پر ان کو ڈی ریکنگنائز کرنے کا آئیڈیا غیر جمہوری تھا۔

       

      یہ بھی پڑھئے: جموں۔کشمیر: اننت ناگ میں پولیس اور  CRPF کی ٹیم پر دہشت گردانہ حملہ،  1پولیس اہلکار زخمی


      سی جے آئی نے کہا کہ مفت تحائف اور سماجی بہبود کی اسکیمیں دو الگ الگ ہیں...  پیسے گنوا رہی معیشت اور لوگوں کی بہبود، دونوں کو متوازن رکھنا ہوگا اور یہی وجہ ہے کہ یہ بحث ہورہی ہے ۔ کوئی تو ہونا چاہئے جو اپنا نظریہ اور خیال کو پیش کر سکے۔ براہ کرم میری ریٹائرمنٹ سے پہلے کچھ جمع کروائیں ۔

      خیال رہے کہ دہائیوں سے ہندوستان کے سیاستدانوں کے درمیان ووٹرس کو الیکشن سے پہلے رعایت کا وعدہ عام رواج رہا ہے ۔ نقد سے لے کر شراب ، گھریلو سامان، اسکالر شپ ، سبسڈیز اور اشیائے خوردنی تک ، لامتناہی آپشنز ہیں ۔ آئیے ایسے کچھ پر نظر ڈالتے ہیں ، جو یادگار تھے ۔

      فری بی سیاست کی 'امّا'؟

      تمل ناڈو کی آنجہانی وزیر اعلیٰ اور اے آئی اے ڈی ایم کی لیڈر جے جئے للتا کئی طرح سے فری بی کلچر (ریوڑی کلچر) کی علمبردار تھیں۔ انہوں نے ووٹروں کو مفت بجلی، موبائل فون، وائی فائی کنکشن، سبسڈی والے اسکوٹر، انٹریسٹ فری لون، پنکھا، مکسر گرائنڈر، اسکالرشپ اور بہت کچھ دینے کا وعدہ کیا۔ ان کی طرف سے شروع کی گئی امّا کینٹین کا سلسلہ بھی کافی کامیاب رہا تھا ۔

       

      یہ بھی ہڑھئے : پی ایم مودی نے جانا Raju Srivastav کا حال، ان اہلیہ کو دیا ہر ممکن مدد کا بھروسہ


      کیش فار ووٹ تنازع اور وکی لیکس

      سال 2011 میں تمل ناڈو میں ووٹ کے بدلے کیش اسکینڈل سامنے آیا تھا ۔ وکی لیکس کی کیبل میں الزام لگایا گیا تھا کہ سیاستدانوں نے 2009 کے تھرومنگلم ضمنی انتخابات میں ووٹروں کو متاثر کرنے کیلئے انتخابی قانون کی خلاف ورزی کا اعتراف کیا تھا ۔ کیبل میں ڈی ایم کے کی طرف سے اپنائے گئے کیش کی تقسیم کے مبینہ طریقہ کار کی وضاحت بھی کی گئی تھی ۔

      چاند کے مفت سفر کا وعدہ

      پچھلے سال تمل ناڈو انتخابات میں جنوبی مدورائی سیٹ سے آزاد امیدوار تھلم سراونن نے چاند پر 100 دن کے مفت سفر، آئی فونز، گھریلو کاموں میں مدد کرنے کیلئے روبوٹ، ہر ایک کیلئے سوئمنگ پول کے ساتھ تین منزلہ مکان، منی ہیلی کاپٹر اور ہر کنبہ کیلئے ایک کشتی وغیرہ وغیرہ کا وعدہ کیا تھا ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: