உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    وزیر اعظم مودی نے طلبہ کو امتحانات کیلئے عملی تجاویز دیں

    وزیر اعظم نے طلبہ سے بات چیت کی اور ان پر کچھ بھی تھوپنے کی کوشش نہیں کی۔

    وزیر اعظم نے طلبہ سے بات چیت کی اور ان پر کچھ بھی تھوپنے کی کوشش نہیں کی۔

    پروگرام سے پہلے تک چہار سو خاموشی چھائی ہوئی تھی ، ہر کسی کو لگ رہا تھا کہ امتحان کافی سنگین معاملہ ہے ، لہذا ہر کوئی خاموش تھا۔

    • Share this:

      پرکاش جاوڑیکر
      پریکشا پر چرچا ایک انوکھا پروگرام تھا ، جہاں وزیر اعظم مودی نے ملک بھر کے طلبہ ، والدین اور اساتذہ سے بات چیت کی ۔ پروگرام سے پہلے تک چہار سو خاموشی چھائی ہوئی تھی ، ہر کسی کو لگ رہا تھا کہ امتحان کافی سنگین معاملہ ہے ، لہذا ہر کوئی خاموش تھا۔
      مگر جیسے ہی وزیر اعظم اسٹیج پر آئے ، ماحول بدل گیا ۔ انہوں نے آتے ہی پوچھا "آپ لوگ ٹینشن میں ہیں کیا ؟" پھر کیا تھا پورے ہال میں ہنسی کا دور شروع ہوگیا۔ وزیر اعظم کے اس سوال نے وہاں بات چیت کا ماحول بنادیا ۔ انہوں نے حاضرین کو واضح کردیا کہ وہ ہندوستان کے وزیر اعظم کی حیثیت سے ان سے بات چیت نہیں کررہے ہیں بلکہ ایک دوست کے ناطے وہاں موجود ہیں ۔ وزیر اعظم کے ان الفاظ نے نوجوانوں کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیر دی۔
      پریکشاپر چرچا پروگرام میں ملک بھر کے 10 کروڑ سے زیادہ لوگوں نے وابستہ ہوکر اس کو تاریخی بنادیا ۔ یہ پروگرام طلبہ کے ساتھ مسلسل بات چیت کرنے کیلئے وزیر اعظم مودی کی کوششوں کی ایک اور مثال تھی ۔ سال 2015 ، 2016 اور پھر 2017 میں انہوں نے "من کی بات "پروگرام میں امتحانات کو لے کر گفتگو کی تھی ۔ کچھ ہفتہ قبل ان کی کتاب "ایگزام واریئرس "بھی ریلیز ہوئی تھی ، جس میں انہوں نے امتحانات کو تہوار کی طرح منانے کی بات کی تھی ۔ انہوں نے اپنی کتاب میں اس پر زور دیا کہ طلبہ نمبرات کے پیچھے نہ بھاگیں ۔ اس کتاب کے ذریعہ انہوں نے طلبہ کو خوش ہوکر امتحان میں شامل ہونے کی اپیل کی تھی۔



      دہلی کے تال کٹورہ اسٹیڈیم میں تقریبا 90 منٹ تک وزیر اعظم نے طلبہ سے گفتگو کی اور اس دوران وہاں ماحول جوش سے پر رہا ۔ اس پوری بات چیت کے دوران وزیر اعظم کا رویہ انتہائی دوستانہ تھا ۔ سنگین معاملات کو پیش کرنے کا ان کا طریقہ انوکھا ہوتا ہے ۔ پروگرام کے دوران بیچ بیچ میں وہ طلبہ کو ہنسا بھی رہے تھے ، مجھے یقین ہے کہ اس بے حد شاندار پروگرام کے بعد بچوں نے وزیر اعظم جی کو 10 میں سے 10 نمبرات دئے ہوں گے ۔
      بات چیت کے دوران انہوں نے ایک مرتبہ یہ بھی کہا کہ ہندوستانی بچے پیدائش سے ہی سیاستداں ہوتے ہیں ۔ انہوں نے کہا" ہمارے بچے کافی اسمارٹ ہوتے ہیں ، کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ کنبہ میں اپنی ضرورت پوری کرنے کیلئے کن سے رابطہ کیا جائے ، جب ماں باپ نا کہہ دیتے ہیں تو ہم لوگ دادا دادی کے پاس جاتے ہیں اور اگر پھر بھی بات نہیں بنتی ، تو ہم خاص کر بہن کے پاس جاتے ہیں ، کیونکہ باپ کبھی بھی اپنی بیٹی کو کسی چیز کیلئے منع نہیں کرتے" ۔
      جب وزیر اعظم سے کسی نے سوال کیا کہ کس شعبہ میں کیرئیر بنایا جائے ، تو ان کا جواب الگ ہی تھا ۔ انہوں نے کہا "کچھ بننے کا نہیں کچھ کرنے کا خواب دیکھو "۔ وزیر اعظم نے طلبہ کو نئی جگہیں دیکھنے اور نئے لوگوں سے ملنے کا مشورہ دیا۔
      ایک طالب علم نے جب وزیر اعظم سے پوچھا کہ کیا وہ اگلے سال اپنے امتحان ( لوک سبھا انتخابات ) کو لے کر نروس ہیں ؟ تو اس پر وزیر اعظم نے اس طالب علم کے سوال کی تعریف کی ۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اسے صحافت میں اپنا کیرئیر بنانا چاہئے ۔



      وزیر اعظم نے ہر سوال کا جواب ہلکے پھلکے انداز میں دینے کے علاوہ طلبہ کو امتحانات کو لے کر خاص مشورہ دیا ۔ انہوں نے کہا " طلبہ کیلئے میرا مشورہ ہے ، سیکھنے پر توجہ مرکوز کریں ، ہمیشہ سیکھنے کی خواہش رکھیں ، علم کا تعاقب کریں ، امتحان ، نتائج اور نمبرات پر توجہ نہ دیں ، اگر آپ نمبرات کیلئے پوری طرح سے کام کرتے ہیں تو آپ کبھی اپنی حقیقی صلاحیتوں کو نہیں سمجھ پائیں گے ، سیاست میں میں بھی ایسا ہی کرتا ہوں ، میں ہر لمحہ 125 کروڑ باشندگان وطن کیلئے کام کرنا چاہتا ہوں ، انتخابات آتے رہیں گے اور جاتے رہیں گے "۔
      وزیر اعظم نے اپنی گفتگو کے دوران طلبہ پر کچھ بھی تھوپنے کی کوشش نہیں کی ۔ وزیر اعظم نے ان کے ذریعہ اٹھائے گئے کسی بھی سوال کو خارج یا نا منظور بھی نہیں کیا ۔ اس کے برعکس انہوں نے بے حد آسان اور سادہ الفاظ میں ان کے سوالوں کو زندگی سے جوڑ کر ہر چیز کو سمجھایا ۔ انہوں نے آئی کیو اور ای کیو دونوں کو سمجھانے کی کوشش کی ۔ وزیر اعظم نے کہا "سائنسداں مانتے ہیں کہ آئی کیو پانچ سال کی عمر سے پہلے پنپنا شروع ہوجاتا ہے ، جس طرح چار پانچ ماہ کا بچہ ماں کے ذریعہ بجائے گئے گھنگھرو پر توجہ مرکوز کردیتا ہے ، اسے ہی آئی کیو کہتے ہیں ، جذبہ ترغیب کا سب سے بڑا ذریعہ ہوتا ہے ، آپ جتنی جذبات سے جڑی چیزوں سے جڑتے ہیں ، آئی کیو اتنی ہی تیزی کے ساتھ ای کیو میں تبدیل ہوتا ہے "۔



      طلبہ اس وقت زور زور سے ہنسنے لگے جب مودی جی نے ایک ایسے ماں باپ کا تذکرہ کیا جو اپنے بچوں سے کہہ رہے تھے کہ اس مارک شیٹ کو وہ سماج میں لوگوں کو کیسے دکھائیں گے ؟ حالانکہ اس تصویر کے ذریعہ انہوں نے یہ بتایا کہ خوابوں اور امیدوں کی وجہ سے والدین اپنے بچوں پر بوجھ ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں ، معاملہ کافی سنجیدہ تھا ، لیکن وزیر اعظم نے اس کو اپنے انداز میں سمجھا کر ہر کسی کا دل جیت لیا ۔
      بات چیت کا سب سے اہم حصہ تھا وزیر اعظم کا امتحان کو لے کر عملی تجاویز شیئر کرنا ۔ انہوں نے توجہ مرکوز کرنے اور بچوں کو بریک لینے کی ضرورت پر زور دیا ۔ انہوں نے یوگ اور کھیل کے بارے میں بات کی ، جو ذہنی تناو سے بچنے اور آرام کے ذرائع ہیں ۔
      وزیر اعظم نے کہا کہ امتحانات میں طلبہ اس لئے گھبراتے ہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ کوئی ان کی صلاحیتوں پر فیصلہ سنانے والا ہے ۔ بچوں کو یہ سوچنا چاہئے کہ امتحانات خود کو سدھارنے کا ایک موقع ہے ۔ امتحان ہماری زندگی کے کسی بھی لمحہ میں ہوسکتا ہے ، جہاں ہم خود کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ وزیر اعظم نے اس دوران مارک میک مارس کی کہانی بھی سنائی ۔ کناڈا کے مارک میک مارس نے سرمائی اولمپکس میں کانسے کا تمغہ جیت کر تاریخ رقم کردی تھی ۔ کناڈا کا یہ کھلاڑی اسنو بورڈنگ کرتے وقت پیڑ سے ٹکرا گیا تھا ۔ اس حادثہ کے تقریبا 11 مہینوں کے بعد انہوں نے سرمائی اولمپکس میں شرکت کی اور شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کانسے کا تمغہ جیت کر سبھی کو حیران کردیا تھا۔
      وزیر اعظم نے بچوں سے ایک دوست ، ایک گائیڈ اور ایک موٹیویٹر کے طور پر بات چیت کی ۔ نوجوان طلبہ کیلئے یہ بات چیت انتہائی حوصلہ افزا تھی ۔ وزیر اعظم نوجوان طلبہ کے خوف اور عدم تحفظ کے احساس کو دور کرنے کیلئے سب سے اچھے شخص ہیں ۔
      مجھے امید ہے کہ ملک کے طلبہ کے ساتھ وزیر اعظم مودی کی یہ بات چیت انہیں امتحانات کے وقت ذہنی تناو سے نکلنے میں مدد کرے گی۔
      ۔( پرکاش جاوڑیکر فروغ انسانی وسائل کے وزیر ہیں ۔ 16 فروری کو دہلی کے تال کٹورہ اسٹیڈیم میں وزیر اعظم مودی کی بچوں کے ساتھ بات چیت "پریکشا پر چرچا "کو لے کر نیوز 18 کیلئے یہ خاص تحریر لکھی ہے )۔ 

      First published: