شہریت ترمیمی بل سے لے کر معاشی مندی تک ، سرمائی اجلاس میں اپوزیشن پارٹیاں اٹھا سکتی ہیں یہ مسائل

پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے ہنگامہ خیز رہنے کا امکان ہے ۔ اس سیشن میں حکومت کا منصوبہ ہے کہ وہ شہریت ترمیمی بل پیش کرے ۔

Nov 17, 2019 10:42 PM IST | Updated on: Nov 17, 2019 11:07 PM IST
شہریت ترمیمی بل سے لے کر معاشی مندی تک ، سرمائی اجلاس میں اپوزیشن پارٹیاں اٹھا سکتی ہیں یہ مسائل

این آر سی سے لے کر معاشی مندی تک ، سرمائی اجلاس میں اپوزیشن پارٹیاں اٹھا سکتی ہیں یہ مسائل

پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کےدوران حذب مخالف جموں و کشمیر کی صورتحال، معاشی مندی (کساد بازاری)، مہنگائی، بے روزگاری، ماحولیاتی آلودگی اور کئی دیگر مسائل پر حکومت پر دباؤ بنانے کی کوشش کرے گا جس کے نتیجے میں پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے ہنگامہ خیز رہنے کا امکان ہے ۔ اس سیشن میں حکومت کا منصوبہ ہے کہ وہ شہریت ترمیمی بل پیش کرے ۔

پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی کی جانب سے منعقدہ کل جماعتی اجلاس کے بعد اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈروں نے کہا کہ سیشن کے دوران کشمیر کی صورتحال، وہاں کے رہنماؤں کی نظر بندی، مہنگائی، بے روزگاری، معاشی مندی اور ماحولیاتی آلودگی جیسے مسائل کو زوروشور سے اٹھایا جائے گا جبکہ وزیراعظم نریندر مودی نے اپوزیشن پارٹیوں سےسرمائی اجلاس کے دوران تخلیقی تعاون کرنے کی اپیل کی ہے۔

Loading...

راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر اور کانگریس کے سینیئر رہنما غلام نبی آزاد نے مودی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نیشنل کانفرنس کے سینیئر رہنما فاروق عبد اللہ کو وِنٹر سیشن میں حصہ لینے کی اجازت دے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہماری سابقہ روایت رہی ہے کہ اراکین پارلیمنٹ کےخلاف مقدمے کی سماعت چل رہی ہو تو انھیں ایوان کی اجلاس میں حصہ لینے کی اجازت دی جاتی تھی۔ مسٹر عبد اللہ تین ماہ کے زیادہ عرصے سے نظر بند ہیں۔ انھیں پارلیمنٹ کے اجلاس میں حصہ لینے کی جازت دی جانی چاہیے ۔

کانگریس کےسینیئر رہنما آنند شرما نے کہا کہ اراکین پارلیمنٹ کو ملک کے کسی بھی حصے میں جانے کا حق ہے۔ ترنمول کانگریس کےرہنما مسٹر بندوپادھیائے نے کہا کہ ان کی پارٹی مہنگائی، قیمتوں کے آسمان پر ہونے اور بے روزگاری کے مسائل اٹھائے گی۔ عام آدمی پارٹی کے رہنما سنجے سنگھ نے کہا کہ ماحولیاتی آلودگی ایک قومی بحران کے طور پر سامنے آرہاہے۔ حکومت کو اس مسئلے پر وسیع پیمانے پر بحث کرواکر حل نکالنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

pm modi

وہیں دوسری طرف کل جماعتی میٹنگ میں وزیر اعظم مودی نے کہا کہ حکومت اپوزیشن سے زیادہ سے زیادہ تعاون کی توقع کرتی ہے ۔ نئے چہروں کے ساتھ پارلیمنٹ میں نئی سوچ آئے گی ، تب ہی نیا ہندوستان بنے گا۔ وزیر اعظم مودی نے خوشی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کا یہ سیشن خاص اہمیت کا حامل ہوگا ، کیونکہ اس دوران راجیہ سبھا کا 250 واں سیشن ہو گا ۔

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ سیشن کے دوران ایوان بالا کو ہندوستانی پارلیمنٹ کی طاقت دکھانے کا حیرت انگیز موقع ملے گا ۔ انہوں نے اپوزیشن جماعتوں کے لیڈروں کی جانب سے مخصوص مسائل اٹھائے جانے پر کہا کہ حکومت اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر طریقہ سے کام کرنا چاہتی ہے، جس سے زیر التوا بلوں کے ساتھ ساتھ ماحول اور آلودگی ، اقتصادی ، زرعی اور کسانوں کے مسائل کا پالیسی پر مبنی حل ہو سکے ۔ وہ معاشرے کے محروم نوجوانوں اور خواتین کے حقوق کو حل چاہتے ہیں ۔

انہوں نے لوک سبھا چیرمین اور راجیہ سبھا کے چیئرمین کو پارلیمنٹ کے گزشتہ سیشن کے حسن طریقے سے چلنے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پارلیمنٹ چلنے سے لوگوں میں مثبت سوچ پیدا کرنے کی کوشش کی۔وزیر اعظم نے امید ظاہر کی کہ حکمراں جماعت اور اپوزیشن سرمائی اجلاس کے دوران مثبت رویہ اپنا ئے گے جس سے یہ سیشن کامیاب اور بہتر کام کاج نمٹانے والا ثابت ہوگا۔

Loading...