உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    تلنگانہ : کے سی آر حکومت کی اردو دوستی پرسوالیہ نشان، کئی سرکاری اردومیڈیم اسکول خطرے میں

    تلنگانہ : کے سی آر حکومت کی اردودوستی پرسوالیہ نشان،کئی سرکاری اردومیڈیم اسکول خطرے میں

    تلنگانہ : کے سی آر حکومت کی اردودوستی پرسوالیہ نشان،کئی سرکاری اردومیڈیم اسکول خطرے میں

    تلنگانہ حکومت رائٹ ٹو ایجوکیشن بل (قانون حق تعلیم) میں ترمیم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے لیکن اس کی پیچھے اردو میڈیم اسکولوں کے خاتمہ کی سازش نظرآرہی ہے۔

    • Share this:
      تلنگانہ حکومت نے اردوزبان کودوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا ہے لیکن زمینی سطح پر اس پرعمل آوری نہ کے برابر ہی نظرآتی ہے۔ تاہم وقفہ وقفہ سے تلنگانہ حکومت اپنی اردو دشمنی کا مظاہرہ کرتی رہتی ہے۔ کبھی سرکاری پروگرام کے اشتہارات صرف تیلگواخبارات میں شائع کیے جاتے ہیں تو کبھی سرکاری پروگرام کے بینرس پراردو زبان کو جگہ نہیں دی جاتی ہے لیکن اب حکومت ریاست تلنگانہ میں موجود اردو میڈیم اسکولوں کو بند کرنے کا ناپاک منصوبہ بنا رہی ہے۔ ظاہری طورپرتوحکومت رائٹ ٹو ایجوکیشن بل (قانون حق تعلیم) میں ترمیم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے لیکن اس کی پیچھے اردو میڈیم اسکولوں کے خاتمہ کی سازش نظرآرہی ہے۔

      تلنگانہ کے وزیراعلیٰ چندر شیکھر راؤ: فائل فوٹو
      تلنگانہ کے وزیراعلیٰ چندر شیکھر راؤ: فائل فوٹو


      حکومت تلنگانہ نے رائٹ ٹو ایجوکیشن بل (قانون حق تعلیم) میں ترمیم کرنے کیلئے ایک  کمیٹی کا قیام عمل میں لایا ہے۔ اس کا مقصد 5 کلومیٹر کے دائرہ میں صرف ایک ہی اسکول کو محدود کرنے کے اثرات کا جائزہ لینا ہے۔ سرکاری اساتذہ کا ماننا ہے کہ اگراس تجویز پرعمل کیاجاتا ہے توریاست میں موجود آدھےاسکول ختم ہوجائیں گے  اور اس سے  سب سے زیادہ متاثراردومیڈیم کے اسکول اورمسلم طالبات ہوں گی۔



      حکومت تلنگانہ نے رائٹ ٹو ایجوکیشن ایکٹ میں ترمیم کیلئے 6رکنی کمیٹی کا قیام عمل میں لایا ہے۔ یہ کمیٹی موجودہ سرکاری اپر پرائمری اسکول کیلئے 1 کلومیٹر اور پرائمری اسکول کیلئے 3 کلومیٹراور ہائی اسکول کیلئے 5 کلومیٹر کی شرط کے بجائے تینوں  سطح کے اسکولوں کیلئے 5 کلومیٹر کا دائرہ مختص کرنے کے امکانات کا جائزہ لے گی۔ سرکاری اسکول ٹیچرس کا ماننا ہے کہ ریاستی حکومت کی یہ تجویز ریاست میں تعلیم کی صورتحال کیلئے تباہ کن ہوگی اگراس تجویز پرعمل کیاجاتاہے توریاست میں اسکولوں کی موجودہ تعداد 26 ہزا ر سے  گھٹ  کر اس کی نصف یعنی 13 ہزار ہو جائے گی۔

      تلنگانہ کے وزیراعلیٰ چندر شیکھر راؤ: فائل فوٹو
      تلنگانہ کے وزیراعلیٰ چندر شیکھر راؤ: فائل فوٹو


      تلنگانہ حکومت کی جانب سے آر ٹی ای ایکٹ میں امکانی ترمیم سے خدشہ ہے کہ سب سے زیادہ نقصان اردو میڈیم اسکولوں کو ہوگا اور اس کے نتیجہ میں  مسلم طلبہ متاثرہوں گے ۔تلنگانہ کے سرکاری اسکولوں کے  ٹیچرس کا ماننا ہے کہ سرکاری اسکولوں کی تعداد میں کمی کرنے کا منصوبہ  غریب مخالف ہوگا کیونکہ سرکاری اسکولس میں کمی کا سیدھا فائدہ نجی اسکولس کو ہوگا۔ انہیں یہ بھی خدشہ ہے کہ ریاستی حکومت شہری علاقوں میں سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کو حاصل کرتے ہوئے اسے کمرشیل مقا صد کیلئے استعمال کرنا چاہتی ہے۔

      نیوز18 اردو کے لیے حیدرآباد سے انیس الرحمان کی رپورٹ
      First published: