ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

جی20ورچوئل میٹنگ: گلوبلائزیشن انسانیت پرمرکوز،ڈبلیوایچ او کابااختیارہونا ضروری ہے: پی ایم مودی کاخطاب

وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ آئیے کوویڈ 19 کے بحران سے پید ا شدہ چیلنجوں کو ہم مواقعوں میں تبدیل کریں۔

  • Share this:
جی20ورچوئل میٹنگ: گلوبلائزیشن انسانیت پرمرکوز،ڈبلیوایچ او کابااختیارہونا ضروری ہے: پی ایم مودی کاخطاب
جی20 ورچوئل میٹنگ: معاشی اہداف کو نہیں ، بلکہ عالمی خوشحالی اور تعاون کے وژن ترجیح دیں، پی ایم مودی کا خطاب

دنیا بھر میں اس وقت کورونا وائرس کا قہر جاری ہے۔ ایسے میں تمام ممالک کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی پر غور کررہے ہیں ۔ خلیجی ممالک اور سعودی عرب میں بھی کورونا وائرس کی وباء سے پریشان ہے اور تمام مساجد میں نمازیں معطل کردی گئی ہے۔ تمام ممالک کورونا وائرس سے شہریوں کو بچانے پر کیے جانے والے اقدامات پر غور کررہے ہیں۔اسی سلسلہ میں جی 20 ممالک کی ورچوئل میٹنگ ہوئی ہے۔ 19 ممالک اور یوروپی یونین کے قائدین ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے ایکشن پلان پر تبادلہ خیال کیاگیاہے۔۔ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اس اجلاس کی صدارت منعقد کی اس ورچوئل میٹنگ میں ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی بھی اس نے بھی شرکت کی ہے۔۔ یہ میٹنگ صرف ان کے پہل پر کی جارہی ہے۔ پی ایم مودی نے تجویز پیش کی کہ اس دور میں گلوبلائزیشن  کو معاشی یا مالی شعبے کے علاوہ انسانوں پر بھی توجہ دی جانی چاہئے۔وزیراعظم مودی نے اس دوران کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ عالمی ادارہ صحت کو بہتر بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ڈبلیو ایچ او کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے پاس شروع میں ہی ایسی وبائی امراض سے نمٹنے کا مینڈیٹ نہیں تھا ، اسی لئے ڈبلیو ایچ او کی بااختیار ہونا ضروری ہے۔ مؤثر ویکسینوں کی تیاری میں کورونا وبا ءکی ابتدائی انتباہ ضروری ہے۔ پی ایم مودی نے اس دوران کہا کہ ہمیں گلوبلائزیشن کے نئے مقاصد طے کرنے ہیں۔



وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کے روز سعودی عرب کے زیر اہتمام ورچوئل جی 20 سمٹ کے دوران عالمی رہنماؤں سے خطاب کیا۔ جہاں انہوں نے کورونا وائرس وبائی مرض کے بحران کے دوران انسانی مفادات کو اولین ترجیح دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بحران شروع ہونے کے تین ماہ بعد ، تمام ممالک ایک مربوط جواب پر غور کرنے کے لئے بالآخر متحد ہوگئے ہیں۔وزیر اعظم مودی نے کہا کہ اس سنگین صورتحال میں نہ صرف ہمارے اپنے شہری بلکہ پوری دنیا ہماری طرف دیکھ رہی ہے۔ ہمارے فیصلے اور اقدامات دنیا کے ردعمل کو نہ صرف کورونا کا بلکہ مستقبل میں آنے والے وبائی امراض اور بحرانوں سے نمٹنے کی تحریک دیں گے۔یادر رہے کہ اس بار کورونا وائرس کے وبا کی وجہ سے ، جی -20 کانفرنس ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے منعقد کی گئی۔ اس میں ، پی ایم مودی نے کہا ، 'عالمی سطح پر صحت کی خدمات کو مضبوط اور بڑھانے کی ضرورت ہے۔ نیز ، اس بحران کی صورت میں وبا سے نمٹنے کے لئے انتظامی پروٹوکول کی ضرورت ہے۔

وزیر اعظم مودی نےکن باتو ں پر دیاہے زور؟

وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ آئیے کوویڈ 19 کے بحران سے پید ا شدہ چیلنجوں کو ہم مواقعوں میں تبدیل کریں۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو معاشی اہداف کو نہیں ، بلکہ عالمی خوشحالی اور تعاون کے ہمارے وژن کےترجیحات میں رکھنا ہوگا۔ پی ایم مودی نے تمام انسانیت کے مفاد کے لیے آزادانہ طور پر اور میڈیکل ریسرچ کی ترقی میں حصہ لینے پر زور دیاہے۔وزیراعظم مودی شعبہ صحت کی مستحکم بنانے کی ضرروت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہمیں زیادہ موافقت مند ، جوابدہ ، سستا اور انسانی صحت کی نگہداشت کے نظام اور وسائل کی ترقی کو فروغ دینے والے ایسے شعبہ صحت کی ضرورت ہے جو پوری دنیا میں کام آئے۔

مشترکہ تحقیق پر دیا گیا زور

ہم آپ کو بتادیں کہ جمعرات کو منعقدہ جی 20 کانفرنس کوآپریٹو تھی۔ اس دوران کورونا وائرس کی وباء کے لیے کسی کو بھی قصوروار نہیں ٹھہرایا گیا تھا۔ اس کے علاوہ ، جی 20 ممالک کے مابین صحت کی خدمات اور ویکسین کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ پی ایم مودی نے کہا کہ کورونا کی وباء سے نمٹنے کے لئےمشترکہ تحقیق ضروری ہے۔

معاشی اور معاشرتی نقصانات کا تذکرہ

پی ایم مودی نے جی 20 ممالک کو بتایا کہ کورونا وائرس کے انفیکشن کی وبا ء کے 3 ماہ بعد بھی ، ہم اب بھی اس سے نمٹنے کے طریقے تلاش کر رہے ہیں۔ پوری دنیا ہمارے اقدامات دیکھ رہی ہے۔ اس دوران ، پی ایم مودی نے وبا کی وجہ سے ہونے والے معاشی اور معاشرتی نقصان پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے انفیکشن کے 90 فیصد اور 88 فیصد اموات صرف جی 20 ممالک میں ہوئی ہیں۔ یہ ممالک عالمی جی ڈی پی کا 80 فیصد اور عالمی آبادی کا 60 فیصد ہیں۔
First published: Mar 26, 2020 09:47 PM IST