உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    والد کی موت کے بعد سڑک پر رہنے کو مجبور 17 سالہ لڑکی کی اجتماعی آبروریزی

    پولیس (Police) نے اطلاع کی بنیاد پر تین ملزمین کے خلاف آئی پی سی کے متعلقہ دفعات اور جنسی جرائم سے پاکسو ایکٹ (POCSO Act) کی مختلف دفعات کے تحت معاملہ درج کرلیا ہے۔

    پولیس (Police) نے اطلاع کی بنیاد پر تین ملزمین کے خلاف آئی پی سی کے متعلقہ دفعات اور جنسی جرائم سے پاکسو ایکٹ (POCSO Act) کی مختلف دفعات کے تحت معاملہ درج کرلیا ہے۔

    پولیس (Police) نے اطلاع کی بنیاد پر تین ملزمین کے خلاف آئی پی سی کے متعلقہ دفعات اور جنسی جرائم سے پاکسو ایکٹ (POCSO Act) کی مختلف دفعات کے تحت معاملہ درج کرلیا ہے۔

    • Share this:
      پال گھر: مہاراشٹر (Maharashtra) کے پال گھر (Palghar) ضلع کے وسئی میں 17 سالہ یتیم لڑکی سے مبینہ طور پر اجتماعی آبروریزی کے معاملے میں پولیس نے تین لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ اطلاع کے مطابق، ملز اس واردات سے پہلے بھی نومبر 2020 سے اس سال اگست کے درمیان کئی مواقع پر متاثرہ لڑکی کا مبینہ طور پر الگ الگ جنسی استحصال کرچکے ہیں۔

      ڈپٹی کمشنر آف پولیس (ریلوے) پردیپ جادھو نے بتایا کہ لڑکی کی ماں فیملی کو چھوڑ کر چلی گئی تھی، جس کے بعد نابالغ اپنے والد کے ساتھ کرایے کے گھر میں رہنے لگی تھی۔ گزشتہ سال نومبر میں والد کی بھی موت ہوجانے کے بعد مکان مالک نے لڑکی کو کمرہ خالی کرنے کو کہا تھا، جس کے بعد وہ وسئی کے فٹ پاتھ پر رہنے لگی۔

      انہوں ے بتایا کہ تین اگست کو پولیس کی ایک ٹیم نے لڑکی کو وسئی ریلوے اسٹیشن علاقے میں بھٹکتے ہوئے پایا۔ جب اس سے پوچھا گیا کہ وہ کہاں سے ہے تو اس نے کچھ نہیں بتایا اور وہ خوف میں نظر آرہی تھی۔ پولیس نے اس کے بعد اس سے بات چیت کے لئے ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنس ( ٹی آئی ایس ایس) اور کچھ غیر سرکاری تنظیموں کی مدد لی۔

      ڈی سی پی نے بتایا کہ لڑکی کو میڈیکل چیک اپ کے لئے بھیجا گیا، جس میں اس کے ساتھ آبروریزی کی بات سامنے آئی۔ پولیس نے اطلاع جمع کرکے تین ملزمین کے خلاف آئی پی سی کی متعلقہ دفعات اور جنسی استحصال سے بچوں کے تحفظی قانون (پاکسو ایکٹ) کی مختلف دفعات کے تحت معاملہ درج کرلیا۔ وسئی ریلوے پولیس تھانے کے سپرنٹنڈنٹ باپو صاحب باگل نے بتایا کہ لڑکی خوف میں ہے۔ انہوں نے کہا، ہم کاونسلر کی مدد لے رہے ہیں۔ لڑکی کی باز آباد کاری کی جائے گی اور اسے پیشہ ورانہ تربیت دی جائے گی۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: