உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Rajasthan Crisis: راجستھان کانگریس میں بغاوت، گہلوت خیمہ کے اراکین اسمبلی نے سی پی جوشی کو سونپا استعفیٰ

    راجستھان کانگریس میں بغاوت، گہلوت خیمہ کے اراکین اسمبلی نے دیا استعفیٰ

    راجستھان کانگریس میں بغاوت، گہلوت خیمہ کے اراکین اسمبلی نے دیا استعفیٰ

    Rajasthan Congress Crisis: اشوک گہلوت کے 82 اراکین، اسمبلی اسپیکر سی پی جوشی کے گھر پہنچ چکے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ وہ سبھی سی پی جوشی کو اپنا استعفیٰ سونپ رہے ہیں۔ کانگریس رکن اسمبلی پرتاپ سنگھ کھاچریاواس نے کہا کہ سبھی اراکین اسمبلی ناراض ہیں اور استعفیٰ دے رہے ہیں۔ ہم اس کے لئے اسپیکر کے پاس جا رہے ہیں۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Jaipur, India
    • Share this:
      جے پور: راجستھان میں وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت کے کانگریس صدر عہدے کا الیکشن لڑنے کے اعلان کے ساتھ ریاست میں نئے وزیر اعلیٰ کی تلاش سے متعلق پارٹی میں بغاوت دیکھنے کو ملنے لگی ہے۔ گہلوت خیمہ کے یہ اراکین اسمبلی سچن پائلٹ کو وزیر اعلیٰ بنائے جانے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ ایسے میں انہوں نے اسمبلی اسپیکر سی پی جوشی کے گھر پہنچ کر اجتماعی طور پر استعفیٰ سونپ دیا ہے۔

      اس سے پہلے سے بات چیت میں کھاچریا واس نے کہا تھا کہ 92 اراکین اسمبلی نے استعفیٰ پر دستخط کئے ہیں۔ حالانکہ سی پی جوشی کے گھر پہنچی بس میں 40-45 اراکین اسمبلی موجود تھے۔ خبر ہے کہ وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت بھی اسمبلی اسپیکر سی پی جوشی کی رہائش گاہ پر پہنچ سکتے ہیں۔

      راجستھان کے وزیر خوراک پرتاپ سنگھ کھاچریاواس نے کہا کہ بی جے پی کے لوگ حکومت کو گرانے میں لگے ہوئے ہیں۔ ہماری فیملی کے سربراہ بات کریں گے تو ناراضگی ختم ہوجائے گی۔ سونیا جی، راہل جی اور اشوک گہلوت جی ہمارے لیڈر ہیں۔ وہ کہیں گے تو سڑک پر اترکر آندولن کریں گے۔

      کانگریس رکن اسمبلی پرتاپ سنگھ کھاچریاواس نے میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ سچن پائلٹ سے نفرت نہیں ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ 10-15 اراکین اسمبلی کی ہی بس سنی جارہی ہے، جبکہ دیگر اراکین اسمبلی کا استحصال ہو رہا ہے۔ پارٹی ہماری نہیں سنتی، اس کے بغیر فیصلے لئے جا رہے ہیں‘۔

      پرتاپ سنگھ کھاچریاواس نے کہا کہ سبھی اراکین اسمبلی ناراض میں ہیں اور استعفیٰ دے رہے ہیں۔ ہم اس کے لئے اسپیکر کے پاس جا رہے ہیں۔ اراکین اسمبلی اس بات سے خفا ہیں کہ وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت ان سے مشورہ لئے بغیر فیصلہ کیسے لے سکتے ہیں۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: