ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

مذہب اسلام شدت پسندی سے نہیں ، بلکہ میانہ روی سے پھیلا : شیخ اشرف آفندی

شیخ اشرف آفندی جرمنی کے صوفی سینٹر ربانیہ سے وابستہ ہیں ۔ منہاج القرآن کے سرپرست ڈاکٹر طاہرالقادری کے قریبی سمجھے جاتے ہیں ۔ صوفی ایزم کے علمبردار کے طور پر ان کی شناخت ہے ۔

  • Share this:
مذہب اسلام شدت پسندی سے نہیں ، بلکہ میانہ روی سے پھیلا : شیخ اشرف آفندی
مذہب اسلام شدت پسندی سے نہیں ، بلکہ میانہ روی سے پھیلا : شیخ اشرف آفندی

جرمنی کے معروف صوفی اسکالر شیخ اشرف آفندی ان دنوں ہندوستان کے دورے پرہیں ۔ بنگلورو کی مسجد قادریہ میں منعقدہ تقریب سے شیخ اشرف آفندی نے خطاب کیا ۔ منہاج القرآن کے تحت ہوئی اس تقریب میں انہوں نے کہا کہ مسلمان اسلام کے پیام امن ، انسانیت، اخوت کو دیگر مذاہب کے لوگوں تک پہنچائیں ۔


شیخ اشرف آفندی جرمنی کے صوفی سینٹر ربانیہ سے وابستہ ہیں ۔ منہاج القرآن کے سرپرست ڈاکٹر طاہرالقادری کے قریبی سمجھے جاتے ہیں ۔ صوفی ایزم کے علمبردار کے طور پر ان کی شناخت ہے ۔ انہوں نے اس روحانی محفل میں جرمنی میں ہی بات کی ۔ انگریزی اور اردو کے مترجم نے ان کی تقریر کا ترجمہ کیا ۔


شیخ اشرف آفندی نے کہا کہ پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی تبلیغ واشاعت کیلئے دیگر مذاہب کے ساتھ مذاکرات کا راستہ اختیار کیا ۔ اس دور میں مورتی پوجا کرنے والوں سے بھی مخاطب ہوکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بات کی ہے ۔ شیخ آفندی نے کہا کہ اسلام شدت پسندی کی تعلیم ہرگز نہیں دیتا ۔  میانہ روی کی تلقین کرتاہے ۔ شیخ آفندی نے کہا کہ وہ یہودی سمیت دیگر مذاہب کے لوگوں سے مل کر امن اوراتحاد کی کوششوں میں سرگرم ہیں ، اس لئے چند علما انہیں تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔


منہاج القرآن ساؤتھ زون کے صدرایوب انصاری نے کہا کہ شیخ اشرف آفندی کا تعلق نقشبندی سلسلے سے ہے ۔ ان دنوں وہ امن کا پیغام لے کر ہندوستان کے مختلف شہروں کا دورہ کررہے ہیں ۔ ممبئی اور جودھپور کا دورہ کرنے کے بعد بنگلورو آئے ہوئے ہیں ۔ شیخ اشرف آفندی نے بنگلورو کے علاوہ میسور کابھی دورہ کیا ۔ شری رنگا پٹن پہنچ ٹیپوسلطان کے مزارپر حاضری دی اور میسور کے دیگر تاریخی مقامات کا بھی دورہ کیا۔
First published: Jan 29, 2020 10:34 PM IST