ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کررہا تھا جرمن طالب علم ، ہندوستان چھوڑنے کا ملا فرمان

آئی آئی ٹی مدارس میں فیزکس میں پوسٹ گریجویٹ کررہے جرمن طالب علم جیکب لنڈینتھل پیر کو ایمسٹرڈم لوٹ گئے ۔ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج میں شامل ہونے کی وجہ سے محکمہ امیگریشن نے انہیں وارننگ دی تھی ۔

  • Share this:
شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کررہا تھا جرمن طالب علم ، ہندوستان چھوڑنے کا ملا فرمان
شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کررہا تھا جرمن طالب علم ، ہندوستان چھوڑنے کا ملا فرمان

آئی آئی ٹی مدارس میں فیزکس میں پوسٹ گریجویٹ کررہے جرمن طالب علم جیکب لنڈینتھل پیر کو ایمسٹرڈم لوٹ گئے ۔ دراصل شہریت ترمیمی قانون کے خلاف گزشتہ ہفتہ ہوئے احتجاج میں شامل ہونے کی وجہ سے محکمہ امیگریشن نے انہیں وارننگ دی تھی ۔ جیکب نے اپنے ٹویٹر ہینڈل سے کچھ تصویریں پوسٹ کی تھیں ، جن میں وہ ہاتھوں میں نعرے لکھی تختیاں لئے نظر آرہے تھے ۔ سی اے اے کے خلاف احتجاج کرتے جیکب کی تصویریں سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہوگئی تھیں ۔


اس سلسلہ میں چنئی میں امیگریشن افسران نے انہیں بتایا تھا کہ اس طرح احتجاج میں شامل ہونا ویزا قوانین کی خلاف ورزی گردانی جائے گی ۔ لنڈینتھل نے نیوز 18 کو بتایا کہ میرے ویزا کے ساتھ کچھ ایڈمنسٹریٹو پریشانیاں تھیں ، انہیں سلجھانے کے بعد امیگریشن افسران نے میرے سیاسی خیالات کو لے کر کافی سوالات کئے اور مجھے اس بارے میں ( ہندوستان چھوڑ کر واپس جانے ) بتایا گیا ۔ انہوں نے بتایا کہ امیگریشن محکمہ نے انہیں نصف شب سے پہلے ملک چھوڑنے کیلئے کہا تھا اور ایسا نہیں کرنے پر انہیں ملک سے نکال دیا جاسکتا تھا ۔



لنڈینتھل نے کہا کہ میں ہفتہ – اتوار کی شب میں بنگلورو میں تھا ۔ میرے کوآرڈینیٹر نے مجھے ( پیر کو ) بتایا کہ مجھے امیگریشن محکمہ جانا ہوگا ۔ میں وہاں گیا تو مجھے ملک چھوڑ کر جانے کیلئے کہا گیا ۔ یہ دوپہر تقریبا دو بجے ہوا اور مجھے تین بجے تک آئی آئی ٹی مدراس کا کیمپس چھوڑنا پڑا ۔ اب میں اپنے وکیلوں سے بات کرکے آگے کے قدم پر فیصلہ لوں گا ۔
First published: Dec 24, 2019 11:30 AM IST