உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Shocking : باتھ روم میں نہا رہی خاتون کا چپکے سے بنا رہا تھا ویڈیو ، پھر ہوا کچھ ایسا کہ اڑ گیا ہوش!

    Shocking : باتھ روم میں نہا رہی خاتون کا چپکے سے بنا رہا تھا ویڈیو ، پھر ہوا کچھ ایسا کہ اڑ گیا ہوش! ۔علامتی تصویر ۔

    Shocking : باتھ روم میں نہا رہی خاتون کا چپکے سے بنا رہا تھا ویڈیو ، پھر ہوا کچھ ایسا کہ اڑ گیا ہوش! ۔علامتی تصویر ۔

    Delhi-NCR Crime: غازی آباد کے مدھوبن علاقہ میں ایک چونکا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے۔ یہاں ایک خاتون کی شکایت پر پولیس نے اس کے پڑوس میں رہنے والے ایک شخص کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا ۔

    • Share this:
      غازی آباد : غازی آباد کے مدھوبن علاقہ میں ایک چونکا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے۔ یہاں ایک خاتون کی شکایت پر پولیس نے اس کے پڑوس میں رہنے والے ایک شخص کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا ۔ دراصل جب خاتون نہانے کیلئے اپنے گھر کے باتھ روم میں داخل ہوئی تو یہ شخص اس کا ویڈیو بناتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔ خاتون نے ملزم کا موبائل چھین لیا ، جس کو پولیس کو دے دیا گیا ہے ، جس کے بعد پوری واردات کا انکشاف ہوا ۔ اس کی شکایت پولیس میں درج کرائی گئی اور ملزم کو پولیس نے پکڑ کر مقدمہ درج کر کے جیل بھیج دیا ہے ۔

      پولیس سے موصولہ اطلاعات کے مطابق خاتون صبح 7 بجے نہانے کیلئے اپنے باتھ روم میں داخل ہوئی ۔ اس دوران اسے اچانک احساس ہوا کہ کوئی کھڑکی میں ہے ۔ اس نے دیکھا تو کھڑکی سے اندر ایک ہاتھ نکلا ہوا تھا اور اس میں موبائل تھا ۔ خاتون نے اسی وقت موبائل چھین لیا ، لیکن وہ اس شخص کو نہیں دیکھ سکی ۔ بعد میں موبائل چیک کرنے پر پتہ چلا کہ یہ موبائل پڑوس میں رہنے والے اجے گپتا کا تھا ۔ جب ملزم سے اس بارے میں پوچھا گیا تو اس نے انکار کر دیا اور جھگڑا کرنے لگا ۔

      اس کے بعد خاتون نے فوری طور پر پولیس کو فون کرکے اطلاع دی ۔ پولیس موقع پر پہنچی اور ملزم کو پکڑ کر تھانے لے گئی ۔ یہاں پر خاتون کے شوہر نے جب اس کا موبائل دیکھا تو اس میں خاتون کے کئی قابل اعتراض ویڈیوز ملے ۔

      بعد ازاں انکشاف ہوا کہ ملزم کافی وقت سے خاموشی سے خاتون کے قابل اعتراض ویڈیوز بنا رہا تھا ۔ خاتون کے باتھ روم میں جانے کے بعد وہ کھڑکی سے خاموشی سے خاتون کے ویڈیوز بناتا تھا ۔ خاتون کی شکایت پر مقدمہ درج کر کے ملزم کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا ہے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: