غازی پور: کانسٹیبل کی موت کے بعد چھاپےماری، حراست میں لئے گئے 28 مظاہرین

پولیس نے یہ کاروائی ویڈیو فوٹیج کے بنیاد پر کی ہے

Dec 30, 2018 12:24 PM IST | Updated on: Dec 30, 2018 04:39 PM IST
غازی پور: کانسٹیبل کی موت کے بعد چھاپےماری، حراست میں لئے گئے 28 مظاہرین

یو پی کےغازی پورمیں پتھراومیں ہوئی ایک پولیس کانسٹیبل کی موت کے معاملہ میں اتوار کوپولیس نے28 مظاہرین کوحراست میں لےلیا ہے اوران سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ پولیس نے یہ کاروائی ویڈیوفوٹیج کے بنیاد پرکی ہے۔ حادثہ کے بعد پولیس زبردست چھاپے ماری کررہی ہے۔

دریں اثنا اس معاملہ میں مقتول پولیس اہلکارسریش وتس کے بیٹے وی پی سنگھ نے کہا ہے کہ جب پولیس اپنی خود کی حفاظت نہیں کرپا رہی ہے تو ہم اس سے کیا امید رکھ سکتے ہیں۔ اب ہم معاوضہ لےکرکیا کریں گے۔ بتا دیں کہ اس سے قبل بلند شہراورپرتاپ گڑھ  میں بھی اسی طرح کے واقعات پیش آئے تھے۔

قابل غورہے یہ معاملہ نونہرا تھانہ علاقہ کٹھواموڑ پولیس چوکی کے پاس کا ہے۔ کانسٹیبل کا نام سریش وتس ہے اور یہ کریم الدین پورتھانے میں تعینات تھے۔ دراصل ریزرویشن کی مانگ کولے کرنشاد طبقے کے لوگوں نے سڑک جام کردی تھی۔ جب پولیس نے موقع پرپہنچ کربھیڑکو قابومیں کرنے کی کوشش کی توبھیڑنے پولیس پرپتھربرسانے شروع کر دئے۔

اسی بیچ مظاہرین کی جانب سے مسلسل ہو رہی پتھربازی میں کانسٹیبل سریش وتس کی موت ہو گئی۔ فی الحال اس معاملہ میں پولیس کے سینئرافسران میڈیا سے کچھ بھی بولنے کو تیار نہیں ہیں۔ ابتدائی معلومات کے مطابق، وتس وزیراعظم نریندر مودی کی ریلی میں سکیورٹی کے انتظامات پر ڈیوٹی دینے کے بعد واپس لوٹ رہے تھے۔  اسی دوران انہیں مظاہرین کو ہٹانے کے لئے بھیجا گیا۔

وہیں وزیراعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے کانسٹیبل سریش وتس کی موت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اور ساتھ ہی ان کی اہلیہ کو 40 لاکھ روپئے معاوضہ دینے کا اعلان کیا۔ وہیں بیوی کو پینشن اوروالدین کے لئے 10 لاکھ روپیے کے معاوضہ کا بھی اعلان کیا ہے۔

 

Loading...