روزداروں کے لیے سحری کا انتظام۔ شہرحیدرآباد میں گنگا۔ جمنی تہذیب کا مظاہرہ

بابا فصیح الدین کی جانب سے شہر حیدرآباد کے بورابنڈہ میں پچھلے چارسال سے خاص وعام کے لئے طعام اورسحری کا انتظام

May 17, 2019 02:34 PM IST | Updated on: May 17, 2019 02:40 PM IST
روزداروں کے لیے سحری کا انتظام۔ شہرحیدرآباد میں گنگا۔ جمنی تہذیب کا مظاہرہ

آج کےاس مسابقتی دور میں جہاں لوگ دوسروں کے کندھوں کو اپنی ترقی کا زینہ بناتے ہیں- ایسے ماحول میں خدا کے بعض بندے ایسے بھی ہیں جن کے اندر انسانی ہمدردی، عوامی اور سماجی خدمت کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہواہوتا ہے۔ جو دوسروں کی مدد کے بہانے تلاش کرتے رہتے ہیں تاکہ وہ اپنے خالق کی رضا حاصل کرسکیں۔ اس کی ایک مثال ڈپٹی میئر گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن (جی ایچ ایم سی) بابا فصیح الدین ہیں۔بابا فصیح الدین کی جانب سے شہر حیدرآباد کے بورابنڈہ علاقہ میں پچھلے چارسال سے خاص و عام کے لئے طعام سحری کا نظم کیا جارہا ہے جس سے زیادہ ترغیر مقامی طلبہ،بیچلرس، ضرورت مندوں اور غریب روزہ دار استفادہ کررہے ہیں۔

بابا فصیح الدین نے بتایا کہ افطارکااہتمام ایک عام بات ہے مگر روزہ داروں بالخصوص غیرمقامی طلبہ، بیچلرس اورغریب افراد کو سحری کیلئے کافی دشواریاں پیش آتی ہیں بالخصوص ان علاقوں میں جہاں ہندو مسلم آبادیاں ہونے کی وجہ سے سحری کے وقت ہوٹلوں میں کھانے کا انتظام بھی نہیں رہتاہے،پیسہ رکھتے ہوئے مسافراورہاسٹلوں میں رہنے والے سحری کرنے سے قاصر رہ جاتے ہیں،جس کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے رمضان کا پورا مہینہ مفت سحر کا انتظام کرنے کا فیصلہ کیاتھا اور گذشتہ چار سالوں سے یہ سلسلہ کامیابی کے ساتھ جاری ہے۔

بابا فصیح الدین نے کہاکہ موسم گرما کے پیش نظر تغذیہ بخش غذا تیار کی جاتی ہے اسی لئے وہ خود بھی روزہ داروں کے ساتھ مل کر سحری کھاتے ہیں اور سحر کے انتظام سے ہر روز تقریبا 500 افراد استفادہ کرتے ہیں،جن میں بیشتربیرون حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے طلبہ ہوتے ہیں۔ بابافصیح الدین نے کہاکہ ہمارے سحری انتظامات کی خصوصیت یہ ہیکہ ان میں غیر مسلم دوست بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں،جن میں خواتین بھی شامل ہیں،مسلم روزہ داروں کے لئے کھانے کی سپلائی غیرمسلم نوجوان کرتے ہیں۔

Loading...

بورابنڈہ میں سحری کرتے ہوئے لوگ۔(تصویر: بابا فصیح الدین ٹوئٹر)۔ بورابنڈہ میں سحری کرتے ہوئے لوگ۔(تصویر: بابا فصیح الدین ٹوئٹر)۔

جی ایچ ایم سی کے ڈپٹی میئرو ٹی آرایس لیڈر بابا فصیح الدین کہناہے کہ اس کام کے ذریعہ سارے ملک کو اس بات کا پیغام دینے کی کوشش کررہے ہیں کہ فرقہ پرست طاقتیں اپنی سیاسی بقا کے لئے ہندو اور مسلمانوں کے بشمول دیگر اقلیتوں میں زہر گھولنے کی کوشش کررہے ہیں مگر تلنگانہ گنگا۔ جمنی تہذیب کا گہوارہ ہے اور یہاں کی تہذیب چار سو سال قدیم ہے جس کو مٹھی بھر لوگ مٹانہیں سکتے۔ اس طرح کے عملی اقدامات سے تلنگانہ کے نوجوان فرقہ پرستوں کی ان کوششوں کو ناکام بناتے رہیں گے۔ بابا فصیح الدین نے بتایا کہ وہ ہر دوسرے دن بورابنڈہ ڈیویژن کی 18مساجد میں افطار کا بھی اہتمام کروار ہے ہیں۔انہوں نے واضح کیاکہ وہ صرف اور صرف اللہ کی رضا کیلئے سحر اور افطار کا انتظام اپنے ذاتی سرمایہ سے کرتے ہیں۔

 سحری انتظام کرنے والی ٹیم۔(تصویر: بابا فصیح الدین ٹوئٹر)۔ سحری انتظام کرنے والی ٹیم۔(تصویر: بابا فصیح الدین ٹوئٹر)۔

Loading...