غلام نبی آزاد نےکشمیرمیں اٹھنے والی الگ الگ آوازوں کےلئے وزیراعظم مودی کوذمہ دارٹھہرایا

کانگریس کے سینئرلیڈرنےعلاحدگی پسندوں کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سےکہا کہ مذاکرات کاروں سے نہ ملنا علاحدگی پسندوں کی شکست ہے۔

Apr 03, 2019 06:56 PM IST | Updated on: Apr 03, 2019 06:56 PM IST
غلام نبی آزاد نےکشمیرمیں اٹھنے والی الگ الگ آوازوں کےلئے وزیراعظم مودی کوذمہ دارٹھہرایا

غلام نبی آزاد۔ تصویر: نیوز 18

کپوارہ:  راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اورسینئر کانگریس لیڈرغلام نبی آزاد نے کہا کہ وزیراعظم نریندرمودی اوربی جے پی کشمیرمیں اٹھنے والی الگ الگ آوازوں کے ذمہ دارہیں۔ انہوں نے کہا کہ حالات ایسے پیدا کئے گئے، جن کے تحت کشمیریوں کی آوازکو بند کیا گیا اورسیاسی لیڈروں کو پشت بہ دیوارکیا گیا۔ ان باتوں کا اظہارغلام نبی آزاد نے بدھ کے روزلولاب میں ایک انتخابی جلسےکے بعد نامہ نگاروں کے سوالوں کے جواب دینے کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا 'سب سے پہلےمیں کہتا ہوں کہ وزیراعظم کواپنی زبان پرکنٹرول نہیں ہے، ان کے اپنے وزراء اورگورنراپوزیشن، مسلمانوں اوردوسری اقلیتوں کوکتنی گالیاں دیتے ہیں، پانچ برسوں کے دوران مسلمانوں اوراسلام کو کتنی گالیاں دی گئیں، کسی نے کوئی ایکشن نہیں لیا'۔

کانگریس کےانتخابی منشور، جوگذشتہ روزجاری کیا گیا، کے حوالے سے غلام نبی آزاد نے کہا کہ کانگریس کا یہ منشورایک جامع اورہمہ گیرمنشورہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے 35 سالہ کیریرمیں ایسا جامع منشورنہیں دیکھا ہے۔ آزاد نے کہا 'امسال سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم کی سربراہی میں 8 ماہ پہلے بیس لیڈروں پرمشتمل ایک منشورکمیٹی تشکیل دی گئی، یہ کمیٹی 6 ماہ تک ملک بھرمیں گھومی اورزندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے ساتھ ملنے کے بعد یہ منشوربنایا گیا'۔

غلام نبی آزاد نے الیکشن منشورمیں افسپا پرنظر ثانی کرنے کے حوالے سے کہا 'جب جموں کشمیرمیں ہماری اورنیشنل کانفرنس کی مخلوط حکومت تھی توایک وقت ایسا آیا تھا کہ اس کو کچھ ضلعوں سے ہٹایا جائے۔ کیونکہ حالات تیزی سے ٹھیک ہورہے تھے اورملی ٹینسی عروج سے زیروپرآرہی تھی، لیکن اب اس کا دوبارہ عروج ہے'۔ علاحدگی پسندوں کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے آزاد نے کہا کہ مذاکرات کاروں سے نہ ملنا علاحدگی پسندوں کی ہارہے۔

Loading...

Loading...