உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    غلام نبی آزاد نے سونیا گاندھی کو لکھا خط، سی ڈبلیو سی کی ہنگامی میٹنگ بلانے کا مطالبہ

    غلام نبی آزاد نے سونیا گاندھی کو لکھا خط، سی ڈبلیو سی کی ہنگامی میٹنگ بلانے کا مطالبہ

    غلام نبی آزاد نے سونیا گاندھی کو لکھا خط، سی ڈبلیو سی کی ہنگامی میٹنگ بلانے کا مطالبہ

    کانگریس کے سینئر لیڈر غلام نبی آزاد نے اپنے خط میں سونیا گاندھی سے فوری طور پر کانگریس ورکنگ کمیٹی (سی ڈبلیو سی) کی میٹنگ بلانے کو کہا ہے۔ ان سے پہلے کانگریس کے سینئر لیڈر کپل سبل نے جلد از جلد کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ بلانے کا مطالبہ کیا تھا۔ بدھ کو جی-20 لیڈران کی طرف سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کپل سبل نے سوال اٹھایا تھا کہ پارٹی میں صدر بھی نہیں ہے، جب صدر ہی نہیں ہے تو فیصلے کون لے رہا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی: کانگریس کا اندورنی انتشار اور اختلاف ایک بار پھر کھل کر سامنے آنے لگا ہے۔ سابق مرکزی وزیر کپل سبل کے بعد کانگریس کے سینئر لیڈر غلام نبی آزاد (Ghulam Nabi Azad) نے پارٹی کی عبوری صدر سونیا گاندھی ( Sonia Gandhi) کو خط لکھا ہے۔ خط کے مطابق، غلام نبی آزاد نے اپنے خط میں سونیا گاندھی سے فوری طور پر کانگریس ورکنگ کمیٹی (سی ڈبلیو سی) کی میٹنگ بلانے کو کہا ہے۔ غلام نبی آزاد سے پہلے کانگریس کے سینئر لیڈر کپل سبل نے جلد از جلد کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ بلانے کا مطالبہ کیا تھا۔ بدھ کو جی-20 لیڈران کی طرف سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کپل سبل نے سوال اٹھایا تھا کہ پارٹی میں صدر بھی نہیں ہے، جب صدر ہی نہیں ہے تو فیصلے کون لے رہا ہے۔

      انہوں نے کہا کہ لوگوں کے کانگریس چھوڑنے پر خود سے سوال ہے۔ جیوتی رادتیہ سندھیا، جتن پرساد پارٹی چھوڑ کر چلے گئے۔ لوگوں کا پارٹی سے جانا بند نہیں ہوا تو پارٹی کو زبردست نقصان ہوگا۔ میں پارٹی کا نقصان ہوتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا۔ میں پارٹی کے ساتھ ہوں، کسی شخص کے ساتھ نہیں۔

      سابق مرکزی وزیر کپل سبل نے بدھ کو جی-20 لیڈران کی طرف سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے سوال اٹھایا تھا کہ پارٹی میں صدر بھی نہیں ہے، جب صدر ہی نہیں ہے تو فیصلے کون لے رہا ہے۔
      سابق مرکزی وزیر کپل سبل نے بدھ کو جی-20 لیڈران کی طرف سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے سوال اٹھایا تھا کہ پارٹی میں صدر بھی نہیں ہے، جب صدر ہی نہیں ہے تو فیصلے کون لے رہا ہے۔


      ہم پارٹی چھوڑ کر کہیں نہیں جائیں گے: کپل سبل

      جی-23 لیڈران کے بارے میں کپل سبل نے کہا کہ ہم ان میں سے نہیں ہیں، جو پارٹی چھوڑ کر کہیں چلے جائیں گے۔ ہم مضبوط ہیں، جو لوگ پارٹی قیادت کے قریب انہوں نے ہی پارٹی چھوڑی ہے اور جنہیں قریبی نہیں سمجھا جاتا ہے وہ اب بھی ان کے ساتھ ڈٹے ہوئے ہیں۔ کپل سبل نے کہا، میں آپ سے (میڈیا) ان کانگریسیوں کی طرف سے بول رہا ہوں، جنہوں نے گزشتہ سال اگست میں خط لکھا تھا، خط لکھے جانے کے بعد بھی ہم سی ڈبلیو سی اور صدر عہدے کے انتخاب کے متعلق کی جانے والی کارروائی کا انتظار کر رہے ہیں۔ کپل سبل نے کہا، ’انتظار کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ ہم کب تک انتظار کریں گے، ہم صرف ایک مضبوط تنظیمی ڈھانچہ چاہتے ہیں۔ کچھ بات ہونی چاہئے۔ سی ڈبلیو سی میں کسی بھی موضوع پر بحث ہونی چاہئے۔ پنجاب کے حالات پر تبادلہ خیال ہونا چاہئے۔ ہم کسی کے خلاف نہیں ہے۔ ہم پارٹی کے ساتھ ہیں، لیکن سچائی یہ ہے کہ ہماری پارٹی کا کوئی منتخب صدر نہیں ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ پردیش کانگریس کمیٹی کو دہلی سے کنٹرول نہیں کیا جانا چاہئے۔

      پارٹی چھوڑ کر گئے لیڈروں سے واپس آنے کا مطالبہ

      ایک سرحدی صوبہ (پنجاب) جہان کانگریس پارٹی کے ساتھ ایسا ہو رہا ہے، اس کا کیا مطلب ہے؟ اس سے آئی ایس آئی اور پاکستان کو فائدہ ہے۔ کانگریس کو یقینی بنانا چاہئے کہ وہ متحد رہیں۔ اگر کسی کو پریشانی ہے تو وہ پارٹی کے سینئر لیڈر سے تبادلہ خیال کریں۔ انہوں نے کہا کہ جو کانگریس کے لوگ ہمیں چھوڑ کر چلے گئے ہیں وہ واپس آجائے کیونکہ کانگریس ہی ایسا نظریہ ہے، جو اس ملک کی بنیاد ہے، جس کے بنیاد پر ہماری ریپبلک بنی تھی، اس کو برقرار رکھ سکتی ہے۔ کپل سبل نے کہا، ‘لوگ ہمیں چھوڑ رہے ہیں، سشمتا جی چلی گئیں۔ فیلیوریو چلے گئے، سندھیا چلے گئے۔ جتن پرساد چلے گئے۔ کیرلا میں سدھیرن چلے گئے۔ اب سوال یہ ہے کہ لوگ کیوں جا رہے ہیں؟ ایک منطقی جواب ہونا چاہئے‘۔ اس دوران کپل سبل نے کہا کہ کانگریس ورکنگ کمیٹی کو تبادلہ خیال کرنا چاہئے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: