உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    شادی میں ماں-باپ سے دلہن کو ملے گفٹ جہیز نہیں-کیرل HC کا بڑا فیصلہ

    کیرل ہائی کورٹ۔ فائل فوٹو

    کیرل ہائی کورٹ۔ فائل فوٹو

    ضلع جہیز مخالف عہدیدار نے دلہن کے مانباپ کی جانب سے دلہن کو تحفے میں دئیے گئے زیورات واپس کرنے کا حکم دیا تھا۔ قانون کے مطابق، دلہن کے والدین کی جانب سے اُن کی خواہش سے گفٹ میں دئیے گئے سونے کے زیورات جہیز کے دائرے میں نہیں آتے ہیں۔

    • Share this:
      کوچی: کیرل ہائی کورٹ (Kerala High Court) نے کہا ہے کہ شادی کے وقت دلہن کو اُس کے والدین کی جانب سے تحفے میں دئیے گئے گفٹ جہیز پابندی ایکٹ، 1961 کے دائرے میں جہیز نہیں مانا جاسکتا ہے۔ سنگل جج کی بنچ نے ایک درخواست پر غور کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ کوللم ضلع (Kollam) جہیز پابندی عہدیدار کی جانب سے جاری حکم کے خلاف داخل درخواست پر عدالت نے سماعت کی۔ ضلع جہیز مخالف عہدیدار نے دلہن کے مانباپ کی جانب سے دلہن کو تحفے میں دئیے گئے زیورات واپس کرنے کا حکم دیا تھا۔ قانون کے مطابق، دلہن کے والدین کی جانب سے اُن کی خواہش سے گفٹ میں دئیے گئے سونے کے زیورات جہیز کے دائرے میں نہیں آتے ہیں۔ درخواست گزار نے دلیل دی کہ جہیز مخالف عہدیدار کے پاس اس میں مداخلت کرنے یا حکم جاری کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

      جج جسٹس ایم آر انیتا نے جہیز مخالف عہدیدار کے حکم کو مسترد کردیا کیونکہ یہ واضح نہیں تھا کہ کیا عہدیدار نے جانچ کی تھی۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح نہیں تھا کہ زیورات جہیز کے طور پر ملے تھے یا نہیں۔ خاتون نے مانگ کی کہ اُسے شادی کے لئے 55 سونے کے گہنے اُسے لوٹادئیے جائیں۔ اُس نے یہ بھی بتایا کہ زیورات کوآپریٹیو بینک کے ایک لاکر میں رکھے ہوئے تھے۔

      درخواست گزار نے بتایا کہ وہ لاکر میں رکھے گہنے اور دلہن کے افراد خاندان کی جانب سے شادی کے وقت دئیے گئے ہار کو واپس کردے گا۔ خاتون کی رضامندی کے بعد درخواست کا تصفیہ کیا گیا۔


      قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: