ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

یوپی: گونڈہ میں دو منزلہ مکان پر چڑھ کر تین دلت بہنوں پر پھینکا تیزاب، ایک کی حالت نازک

ہاتھرس معاملے (Hathras Case) کی سی بی آئی جانچ کے دوران یوپی کے گونڈہ (Gonda) میں 3 دلت لڑکیوں پر تیزاب پھینکنے (Acid Attack) سے سنسنی پھیل گئی۔ گونڈہ کے ایس پی نے بتایا کہ حادثہ کے وجوہات کا پتہ لگایا جارہا ہے۔ پولیس کی ٹیم ملزم کی تلاش کر رہی ہے۔

  • Share this:
یوپی: گونڈہ میں دو منزلہ مکان پر چڑھ کر تین دلت بہنوں پر پھینکا تیزاب، ایک کی حالت نازک
یوپی: گونڈہ میں دو منزلہ مکان پر چرھ کر تین دلت بہنوں پر پھینکا تیزاب، ایک کی حالت نازک

گونڈہ: اترپردیش میں خواتین کے خلاف تشدد (Crime Against Women) کے معاملے تھم نہیں رہے ہیں۔ تازہ معاملہ اب گونڈہ (Gonda) میں سامنے آیا ہے، جہاں پیر کے روز دیر شام کو 3 نابالغ لڑکیوں پر تیزاب پھینکنے (Acid Attack) کا حادثہ سامنے آیا ہے۔ وہیں، تین لڑکیاں سگی بہنیں ہیں۔ انہیں دلت طبقے کا بتایا گیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ تینوں مکان کی دوسری منزل پر بنے گھر میں سوئی ہوئی تھیں۔ گھر کی کھڑکی کھلی ہوئی تھی۔ ملزم نے دو منزلہ مکان پر چڑھ کر کھڑکی سے تینوں کے اوپر تیزاب پھینک دیا۔ حادثہ میں دو بہنیں معمولی طور پر زخمی ہیں، جبکہ ایک بہن کے چہرے اور جسم کے دیگر حصوں پر بھی تیزاب پڑا ہے۔ حالانکہ، پھینکنے کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی۔


تیزاب حملے میں بڑی بہن شدید طور پر جھلس گئی ہے، وہیں دو چھوٹی بہنوں پر تیزاب کی چھینٹیں پڑے ہیں۔ تینوں فی الحال ضلع اسپتال میں داخل ہیں۔ موصولہ اطلاع کے مطابق، ان کی عمر 8، 12 اور 17 سال ہے۔ تینوں پر یہ حملہ ان کے گھر پر ہی ہوا، جب تینوں سو رہی تھیں۔ تب کسی نامعلوم شخص نے تینوں پرتیزاب پھینکا۔ اطلاع ملنے پر پولیس ٹیم بھی موقع پر پہنچ گئی ہے۔ فی الحال پولیس سانحہ کی جانچ پڑتال میں مصروف ہے۔ فی الحال ابھی تک حادثہ کی جانچ میں مصروف ہے۔ فی الحال ابھی تک حادثہ کے پیچھے کی وجوہات نہیں معلوم ہوسکی ہے۔ حادثہ کی اطلاع ملتے ہی پرسپور تھانے کی پولیس موقع پر پہنچی۔


گونڈہ کے ایس پی شیلیش کمار پانڈے نے بتایا کہ متاثرہ بچیوں سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔ پولیس کی ٹیم ملزم کی تلاش کر رہی ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے بھی گونڈہ سرخیوں میں تھا۔ وہاں ایک پجاری کو جائیداد تنازعہ میں گولی مار کر قتل کردیا گیا تھا۔ اس پر یوگی حکومت کو اپوزیشن نے یہ کہہ کر گھیرا تھا کہ ان کے راج میں سادھو سنت محفوظ نہیں ہیں۔ دلت بہنوں پر یہ حملے ایسے وقت میں ہوا ہے جب ریاستی حکومت ہاتھرس معاملے پر گھری ہوئی ہے۔ ہاتھرس میں 19 سال کی ایک دلت لڑکی کے ساتھ اجتماعی آبروریزی ہوئی تھی، جس کے بعد علاج کے دوران اس کی موت ہوگئی تھی۔

Published by: Nisar Ahmad
First published: Oct 13, 2020 02:56 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading