உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    IITسے پدم بھوشن اعزاز تک کا سفر: جانیے Google CEO سندر پچائی کی کامیابی اور جدوجہد کی کہانی

    سندر پچائی (فائل فوٹو)

    سندر پچائی (فائل فوٹو)

    سندر پچائی نے کہا تھا کہ، جب میں اپنے بچپن کو یاد کرتا ہوں تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ اس وقت ہم ٹیکنالوجی کا اتنا استعمال نہیں کرپائے۔ 10 سال کی عمر تک مجھے ٹیلیفون نہیں ملا۔ امریکہ اانے تک مجھے مناسب طریقے سے کمپیوٹر پر کام کرنے کا بھی موقع نہیں ملا۔ وہیں ٹی وی پر ہمیں صرف ایک ہی چینل دیکھنے کو ملتا تھا۔

    • Share this:
      نئی دہلی: گوگل (Google) کے پہلے ہندوستانی سی ای او سندر پچائی (Sundar Pichai) کو حکومت ہند نے پدم بھوشن (Padma Bhushan) اعزاز دینے کا اعلان کیا ہے۔ سندر پچائی ان 17 شخصیات میں شامل ہیں جنہیں یہ ایوارڈ دیا جائے گا۔ سندر پچائی کو یہ ایوارڈ ٹریڈ اور انڈسٹری کے زمرے میں ان کے قابل ذکر تعاون کو دھیان میں رکھتے ہوئے دیا گیا ہے۔

      تمل ناڈو میں پیدا ہوئے پچائی سال 2015 میں دنیا کی سب سے بڑی آئی ٹی کمپنی گوگل کے سی ای او بنے۔ وہ پہلے ہندوستانی نژاد شہری تھے جنہیں گوگل میں سب سے بڑی ذمہ داری ملی۔ گوگل کے کوفاونڈر لاری پیج نے سندر پچائی کو گوگل کا سی ای او مقرر کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں خود کو خوش قسمت مانتا ہوں کہ ہمارے درمیان ایسی باصلاحیت شخصیت ہے۔

      سندر پچائی کی پیدائش تمل ناڈو کے دارالحکومت چنئی میں ہوئی۔ مڈل کلاس فیملی میں پیدا ہوئے سندر پچائی کے والد الیکٹرک انجینئر تھے لیکن مالی طور پر کمزور ہونے کی وجہ سے وہ بہتر تعیلم دینے کے قابل نہیں تھے۔ سندر پچائی نے 1993 میں آئی آئی ٹی کھڑگ پور سے بی ٹیک کیا۔ اس کے بعد اسٹین فورڈ یونیورسٹی سے ایم ایس اور وہارٹن اسکول سے ایم بی اے کیا۔ وہارٹن اسکول میں پڑھائی کے دوران انہیں دو اسکالرشپ ملی۔

      سال 2004 میں سندر پچائی نے گوگل جوائن کیا۔ جہاں انہوں نے گوگل ٹول بار اور کروم کو تیار کرنے میں اہم رول ادا کیا۔ کچھ ہی سالوں میں گوگل کرام دنیا کا سب سے مقبول انٹرنیٹ براوزر بن گیا۔ 2014 میں انہیں گوگل کے سبھی پروڈکٹس اور پلیٹ فارم سے جڑی اہم ذمہ داری سونپی گئی۔ اس دوران ان کے پاس مقبول پروڈکٹس جیسے گوگل ٹول بار، کرام، ڈیسک ٹاپ سرچ، گیجٹس، گوگل پیک، گوگل گیئرس، فائر فاکس ایکسٹینشن و دیگر کا چارج رہا۔

      پھر سال 2015 میں وہ وقت آیا جب انہیں گوگل کا سی ای او بنایا گیا۔ اس کے بعد جولائی 2017 میں سندر پچائی الفابیٹ کے بورڈ آف ڈائریکٹر میں شامل ہوئے، جو کل گوگل کی پیرنٹ کمپنی ہے۔ پچھلے 15 سالوں میں سندر پچائی نے گوگل میں کام کر کے کئی بہترین پروڈکٹس کو تیار کیا ہے۔

      سندر پچائی کا ہندوستان سے رشتہ
      کچھ سالوں پہلے بی بی سی کے ساتھ انٹرویو میں سندر پچائی نے کہا کہ، میں امریکی شہری ہوں لیکن ہندوستان میرے اندر گہرائیوں تک ہے۔

      سال 2020 کی یوٹیوب ڈیئر کلاس ورچول تقریب میں سندر پچائی نے کہا تھا کہ، جب میں اپنے بچپن کو یاد کرتا ہوں تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ اس وقت ہم ٹیکنالوجی کا اتنا استعمال نہیں کرپائے۔ 10 سال کی عمر تک مجھے ٹیلیفون نہیں ملا۔ امریکہ اانے تک مجھے مناسب طریقے سے کمپیوٹر پر کام کرنے کا بھی موقع نہیں ملا۔ وہیں ٹی وی پر ہمیں صرف ایک ہی چینل دیکھنے کو ملتا تھا۔

      اس کے علاوہ اپنی فیملی کی معاشی تنگی کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے سندر پچائی نے کہا کہ، امریکہ اانے کے لئے مجھے اپنے والد کی ایک سال کی سیلری خرچ کری پڑی تب جا کر مین اسٹین فورڈ یونیورسٹی پہنچ سکا۔ اس وقت میں پہلی بار پلین میں بیٹھا تھا۔۔۔ امریکہ بہت مہنگا تھا۔ ہندوستان میں گھر پر فون لگانے کے لئے ایک منٹ کا 2 امریکی ڈالر سے زیادہ دینا پڑتا تھا۔ طلبہ کوپیغام دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ، آزاد خیالات کے ساتھ زندگی گزارو، صبر رکھو اور پرامید رہو۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: