دربھنگہ سیٹ پرعبدالباری صدیقی کوگوپال جی ٹھاکرنےدی بڑی شکست

بہارکی دربھنگہ لوک سبھا سیٹ پر29 اپریل کو چوتھے مرحلےمیں ووٹنگ ہوئی تھی۔ اس سیٹ پر56.62 فیصد رائے دہندگان نے ووٹنگ کی تھی۔ اس سیٹ پر8 امیدوارمیدان میں تھے۔

May 23, 2019 04:48 PM IST | Updated on: May 23, 2019 05:10 PM IST
دربھنگہ سیٹ پرعبدالباری صدیقی کوگوپال جی ٹھاکرنےدی بڑی شکست

گوپال جی ٹھاکراورعبدالباری صدیقی: فائل فوٹو

بہارکے دربھنگہ سیٹ پربی جے پی کی طرف سے گوپال جی ٹھاکرنے آرجے ڈی کے اپنے حریف امیدوارعبدالباری صدیقی کو تقریباً دو لاکھ ووٹوں سے شکست دے  دی ہے۔ وہیں بی ایس پی سے محمد مختارتیسرے نمبرپررہے ہیں۔ دربھنگہ لوک سبھا سیٹ پر29 اپریل کو چوتھے مرحلے میں ووٹنگ ہوئی تھی۔ اس سیٹ پر56.62 فیصد رائے دہندگان نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا تھا۔ اس سیٹ پر8 امیدوارمیدان میں تھے۔

بی جے پی کے گوپال جی ٹھاکرنےزبردست جیت حاصل کرلی ہے۔ انہیں 586668 ووٹ حاصل ہوئے ہیں جبکہ آرجے ڈی کے عبدالباری صدیقی کو 318689 ووٹ ملے ہیں۔ جبکہ تیسرے نمبرپررہنے والے محمد مختارکو 11243 ووٹ ملے ہیں۔ واضح رہے کہ سال 2014 میں بی جے پی کے ٹکٹ پرجیتنے والے سابق کرکٹرکیرتی آزاد دربھنگہ سے انتخابی میدان میں نہیں تھے۔ بی جے پی چھوڑنے کے بعد کانگریس کا دامن تھامنے والے کیرتی آزاد اس باردھنباد سے الیکشن لڑرہے ہیں۔

Loading...

اس سے قبل دربھنگہ لوک سبھا سیٹ پرآرجے ڈی کے امیدوارعبدالباری صدیقی اوربی جے پی امیدوارگوپال جی ٹھاکرکے درمیان سخت ٹکرمانی جارہی تھی ، لیکن ووٹوں کی گنتی کے نتائج سامنے آنے کے بعد ایسا نہیں نظرآیا کہ کوئی ٹکرہے۔ کیونکہ گوپال جی ٹھاکرنے تقریباً دولاکھ ووٹوں سے عبدالباری صدیقی کو شکست دی ہے۔

دراصل اس کی بڑی وجہ یہ رہی کہ یہاں ذات پات کی گوپال بندی میں گوپال جی ٹھاکراعلیٰ طبقے کے ساتھ ویشیہ اوربہارکے پچپنیا طبقے کی بڑی حمایت ملی۔ وہیں عبدالباری صدیقی کواشرف علی فاطمی کے فیکٹرکا بھی نقصان ہوا۔ ووٹنگ کے دوران یادو رائے دہندگان میں بھی بکھراو کے اشارے ملے تھے۔ بتایا جارہا تھا کہ یادو رائے دہندگان بھی 15 سے 20 فیصد لوگوں نے این ڈی اے کا ساتھ دیا تھا۔ یہاں جو اہم امیدوارتھے انہیں متھلانچل مکتی مورچہ کے سروج کمارچودھری اوربہوجن سماج پارٹی سے محمد مختارکے علاوہ چارآزاد امیدواربھی دربھنگہ سے انتخابی میدان میں اترے تھے۔

Loading...