உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    گورکھناتھ مندر حملہ: ADG لا اینڈ آرڈر نے کہا- اسے دہشت گردانہ حملہ کہا جاسکتا ہے، جوانوں کی بڑی سازش ناکام

    Gorakhnath temple attack: گورکھ ناتھ مندر (Gorakhnath Temple) میں اتوار دیر شام سیکورٹی میں تعینات دو پی اے سی جوانوں پر جان لیوا حملہ کرنے کے معاملے میں جانچ تیز ہوگئی ہے۔ گورکھناتھ مندر حملہ معاملے میں یوپی پولیس کا واضح طور پر کہنا ہے کہ اس حملے کو دہشت گردانہ حملہ کہا جاسکتا ہے۔

    Gorakhnath temple attack: گورکھ ناتھ مندر (Gorakhnath Temple) میں اتوار دیر شام سیکورٹی میں تعینات دو پی اے سی جوانوں پر جان لیوا حملہ کرنے کے معاملے میں جانچ تیز ہوگئی ہے۔ گورکھناتھ مندر حملہ معاملے میں یوپی پولیس کا واضح طور پر کہنا ہے کہ اس حملے کو دہشت گردانہ حملہ کہا جاسکتا ہے۔

    Gorakhnath temple attack: گورکھ ناتھ مندر (Gorakhnath Temple) میں اتوار دیر شام سیکورٹی میں تعینات دو پی اے سی جوانوں پر جان لیوا حملہ کرنے کے معاملے میں جانچ تیز ہوگئی ہے۔ گورکھناتھ مندر حملہ معاملے میں یوپی پولیس کا واضح طور پر کہنا ہے کہ اس حملے کو دہشت گردانہ حملہ کہا جاسکتا ہے۔

    • Share this:
      گورکھپور: گورکھ ناتھ مندر (Gorakhnath Temple) میں اتوار دیر شام سیکورٹی میں تعینات دو پی اے سی جوانوں پر جان لیوا حملہ کرنے کے معاملے میں جانچ تیز ہوگئی ہے۔ گورکھناتھ مندر حملہ معاملے میں یوپی پولیس کا واضح طور پر کہنا ہے کہ اس حملے کو دہشت گردانہ حملہ کہا جاسکتا ہے۔ اس حملے کے پیچھے بڑی سازش ہوسکتی ہے۔ ADG لا اینڈ آرڈر پرشانت کمار اور ACS ہوم اونیش اوستھی نے پریس کانفرنس کر کے یہ بات کہی۔

      پرشانت کمار نے کہا کہ ملزم نے حملے کے ساتھ ہی مذہبی نعرے لگائے ہیں۔ اس نے اللہ اکبر کے نعرے لگائے تھے۔ معاملے کی جانچ ابھی ابتدائی دور میں ہے۔ ملزم احمد مرتضیٰ اور اس کے اہل خانہ سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔ پولیس اس معاملے کو دہشت گردانہ سازش سے جوڑ کر بھی دیکھ کرہی ہے اور اس کی تفصیلی جانچ میں مصروف ہے۔ حملہ آور اور اس سے جڑے لوگوں کو بخشا نہیں جائے گا۔

      زخمی جوانوں کو پانچ لاکھ انعام کا اعلان

      وزیر اعلیٰ نے زخمی جوانوں کو پانچ لاکھ روپئے کے انعام کا اعلان کیا ہے۔ اونیش اوستھی نے کہا کہ دونوں جوانوں نے بہادری دکھاتے ہوئے ایک بڑے حملے کو روکا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے زخمی جوانوں کو پانچ پانچ لاکھ روپئے انعام کا اعلان کیا ہے۔ ساتھ ہی معاملے کی باریکی سے جانچ کرنے کے احکامات دیئے ہیں۔ اس معاملے کی جانچ فی الحال ATS کو سونپ گئی ہے۔ اگر ضرورت پڑی تو اور بھی جانچ ایجنسیوں کا تعاون لیا جاسکتا ہے۔

      دہشت گردانہ کنکشن تلاش کرنے میں مصروف ہوئی جانچ ایجنسیاں

      فی الحال پولیس اور سیکورٹی ایجنسیاں معاملے کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے جانچ میں مصروف ہیں۔ ابھی تک کی پوچھ گچھ میں مرتضیٰ گول مول جواب دیتا ہی نظر آرہا ہے۔ اہل خانہ بھی ابھی تک کوئی میڈیکل پروف نہیں دے پایا ہے۔ اس درمیان ذرائع کے حوالے سے خبر مل رہی ہے کہ مرکزی جانچ ایجنسیاں بھی مرتضیٰ کے دہشت گردانہ کنکشن کو تلاش کرنے میں مصروف ہوگئی ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: