ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

مدھیہ پردیش: کورونا کے قہر میں شیوراج حکومت کی مشکلات میں اضافہ

ملازمین تنظیموں نے تنخواہ میں اضافہ کئے جانے، مرکزحکومت کے مساوی مہنگائی بھتہ دیئے جانے، پرانی پنشن کو بحال کئے جانے اور ساتویں پے کمیشن کا نفاذ کئےجانے اور مقررہ تاریخ سے پروموشن دینےکے مانگ کو مضبوطی سے اٹھاتے ہوئے وزیر داخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا سے ملاقات کرکے میمورنڈم پیش کیا۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش: کورونا کے قہر میں شیوراج حکومت کی مشکلات میں اضافہ
مدھیہ پردیش: کورونا کے قہر میں شیوراج حکومت کی مشکلات میں اضافہ

بھوپال: مدھیہ پردیش میں سندھیا حامی کی حمایت سے بی جے پی نے شیوراج سنگھ کی قیادت میں حکومت بنانے میں بھلے ہی کامیابی حاصل کرلی ہو، لیکن یہ کانٹوں بھرا تاج شیوراج سرکار کے لئے ہر آنے والے دن کے ساتھ نئی نئی مشکلات پیدا کرتا جا رہا ہے۔ حکومت پہلے سے لاکھوں کروڑ روپئےکے قرض سے دبی ہوئی ہے۔ ایسے میں ملازمین تنظیموں نے سرکار کی مشکلات میں اور اضافہ کردیا ہے۔ مدھیہ پردیش میں سرکاری ملازمین کی جتنی بھی تنظیمیں ہیں انہوں نے مشترکہ طور پر بھوپال میں میٹنگ کا انعقاد کیا گیا۔ میٹنگ میں ملازمین تنظیموں نے تنخواہ میں اضافہ کئے جانے، مرکزحکومت کے مساوی مہنگائی بھتہ دیئے جانے، پرانی پنشن کو بحال کئے جانے اور ساتویں پے کمیشن کا نفاذ کئےجانے اور مقررہ تاریخ سے پروموشن دینےکے مانگ کو مضبوطی سے اٹھایا۔ ملازمین نے اپنے مطالبات کے ساتھ مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا سے ملاقات کی اور انہیں اپنے مطالبات کو لے کر میمورنڈم پیش کیا۔

مدھیہ پردیش راجیہ کرمچاری سنگھ کے سکریٹری کرشن گوپال کہتے ہیں ہم اپنے مطالبات کو لے کر وزیر داخلہ سے ملاقات کی ہے اور انہیں اپنے مطالبات سے واقف کرایا۔وزیر موصوف کو اپنے 7 رکنی مطالبات پر مشمل ایک میمورنڈم پیش کیا ہے۔ سرکار کے ذریعہ جولائی مہینے سے تنخواہوں میں اضافہ کرنے کا جوتصوراتی فیصلہ کیا گیا ہے، اس سے ملازمین میں سخت ناراضگی ہے۔ تصوراتی میں نےاس لئےکہا کیونکہ سرکار کے ذریعہ اس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ تصوراتی طورپرکئے جانے والے تنخواہ کے اضافہ کا خاکہ کیا ہوگا۔ تنخواہ میں اضافہ ملازمین کا حق ہوتا ہے اور اس کےلئے ملازمین سال بھر انتظار کرتے ہیں۔ ایک طرح سے سال بھر کی ملازمین کی تنخواہ کا وہ انعام ہوتا ہے۔ ہم نے ملازمین کےمطالبات کو لے کر وزیر داخلہ کو ایک میمورنڈم پیش کیا ہے۔


مدھیہ پردیش میں سندھیا حامی کی حمایت سے بی جے پی نے شیوراج سنگھ کی قیادت میں حکومت بنانے میں بھلے ہی کامیابی حاصل کرلی ہو، لیکن یہ کانٹوں بھرا تاج شیوراج سرکار کے لئے ہر آنے والے دن کے ساتھ نئی نئی مشکلات پیدا کرتا جا رہا ہے۔
مدھیہ پردیش میں سندھیا حامی کی حمایت سے بی جے پی نے شیوراج سنگھ کی قیادت میں حکومت بنانے میں بھلے ہی کامیابی حاصل کرلی ہو، لیکن یہ کانٹوں بھرا تاج شیوراج سرکار کے لئے ہر آنے والے دن کے ساتھ نئی نئی مشکلات پیدا کرتا جا رہا ہے۔


مدھیہ پردیش کانگریس میڈیا سیل کے انچارج جیتو پٹواری کہتے ہیں کہ یہ دوغلی سرکار ہے۔ اس کے قول اور عمل میں ہر جگہ تضاد ہے۔ ممبران اسمبلی کے خریدنے کے لئے اس کے پیسہ ہوتا ہے لیکن ملازمین کو دینے کے لئے نہیں۔ کمل ناتھ حکومت نے کسانوں کی قرض معافی کا جو کام شروع کیا تھا اور 25 لاکھ کسانوں کا قرض معاف کیا جا چکا تھا، شیوراج سرکار نے آتے ہی اسے بھی روک دیا ہے۔خود تو سی ایم اور ان کی کابینہ کے وزیر پرائیویٹ اسپتال میں علاج کروارہے ہیں لیکن صوبہ کے عوام کو پیڈکوارنٹائن میں بھیج کر ہوٹل والوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے۔کرمچاری ہوں، کسان ہوں، مزدرو ہوں ہر طبقہ اس سرکار سے پریشان ہے اوراسمبلی ضمنی انتخابات میں اس کو ضرور جواب ملے گا۔
وہیں مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا کہتے ہیں کہ کانگریس کام کرتی تو اس کے ہاتھ سے اقتدار کیوں جاتا۔ کانگریس نے سب کو دھوکہ دیا اسی لئے تو اقتدار سے بے دخل ہوئی ہے۔ ہم نے ابھی ایک لاکھ اساتذہ کو ان کی تنخواہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اپریل ،مئی اور جون کی تنخواہیں ایک ساتھ ادا کی جائے گی ۔کمل ناتھ حکومت نے پندرہ مہینے میں صرف خزانہ خالی کرنے کا کام کیا تھا ۔اب شیوراج سنگھ کی قیادت میں صوبہ آگے کی جانب بڑھ رہا ہے ۔سبھی کو ان کا حق ملے گا۔ مدھیہ پردیش راجیہ کرمچاری سنگھ کےوفد نے ملاقات کی تھی ان کی مانگوں کو سی ایم کے سامنے پیش کریں گے ۔ سب جن ہتائے سب جن سکھائے کی نیتی پر یہ سرکار کام کرتی ہے اسی لئے کانگریس کے پیٹ میں درد ہوتا ہے۔ وہیں مدھیہ پردیش کے سرکاری ملازمین کی بیویوں نے اپنے شوہروں کے مطالبات کو لیکر سی ایم کو پوسٹ کارڈ بھیجنا بھی شروع کردیا ہے۔اگر حکومت نے حکومت رہتے ملازمین کے مطالبات کو پورا نہیں کیا تو مستقبل میں یہ لڑائی اور آگے بڑھےگی ۔ اس سے پہلے بھی ڈاکٹرس،پیرا میڈیکل اسٹاف ،نریس اور انٹرن ڈاکٹر بھی اپنے مطالبات کو لیکر حکومت کے سامنے اپنا احتجاج درج کرواچکے ہیں ۔مدھیہ پردیش سرکار دو لاکھ بیس ہزار کروڑ کی پہلے سے ہی قرض دار ہے ایسے میں ملازمین کے مطالبات کو تسلیم کرنا سرکار کے لئے کسی جوئے شیر لانے سے کم نہیں ہے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jul 31, 2020 11:54 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading