ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

ملک مخالف سرگرمیوں پر نظر رکھنے کیلئے سائبر والنٹیئر رکھنے کی تیاری میں حکومت : رپورٹ

مرکزی وزارت داخلہ کے انڈین سائبر کرائم کوآرڈینیشن سینٹر کو ایک نوڈل پوائنٹ کے طور پر استعمال کیا جائے گا جبکہ لوگ اپنی ریاست یا مرکز کے زیر انتظام خطہ میں خود کو والنٹیئر کے طور پر رجسٹرڈ کراسکتے ہیں ۔

  • Share this:
ملک مخالف سرگرمیوں پر نظر رکھنے کیلئے سائبر والنٹیئر رکھنے کی تیاری میں حکومت : رپورٹ
ملک مخالف سرگرمیوں پر نظر رکھنے کیلئے سائبر والنٹیئر رکھنے کی تیاری میں حکومت : رپورٹ ۔ علامتی تصویر ۔

نئی دہلی : مرکزی وزارت داخلہ کا سائبر کرائم سیل اب نیا پروگرام شروع کررہا ہے ۔ اس کے تحت ملک کے شہری اس میں والنٹیئر کے طور پر حصہ لے کر غیر قانونی مواد کی انٹرنیٹ پر پہچان کرکے حکومت کو اس کے بارے میں جانکاری دے سکیں گے ۔ ان میں چائلڈ پورنوگرافی ، ریپ ، دہشت گردی اور ملک مخالف سرگرمیاں شامل ہیں ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس پروگرام کو پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر جموں و کشمیر اور تری پوری میں شروع کردیا گیا ہے ۔ وہاں سے موصول فیڈبیک پر اس کا مستقبل منحصر ہوگا ۔


انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق مرکزی وزارت داخلہ کے انڈین سائبر کرائم کوآرڈینیشن سینٹر کو ایک نوڈل پوائنٹ کے طور پر استعمال کیا جائے گا جبکہ لوگ اپنی ریاست یا مرکز کے زیر انتظام خطہ میں خود کو والنٹیئر کے طور پر رجسٹرڈ کراسکتے ہیں ۔ اس میں والنٹیئر بننے کیلئے لوگوں کو اپنی کچھ جانکاریاں دینی ہوں گی ، جس میں نام ، والد کا ام ، موبائل نمبر اور ای میل ایڈریس شامل ہے ۔


سرکار کے پاس موجودہ وقت میں ملک مخالف مواد یا سرگرمی کو لے کر کوئی واضح قانونی شکل موجود نہیں ہے  ۔ اس کیلئے اب بھی یو اے پی اے کا استعمال ہوتا ہے ۔ اس کے تحت ہی ملک مخالف سرگرمیوں میں شامل کسی ملزم کو حراست میں لیا جاتا ہے یا پھر اس کو جیل بھیجا جاتا ہے ۔


وزارت داخلہ کی جانب سے شروع ہورہے پروگرام میں شامل ہونے والے والنٹیئرس کیلئے سخت گائیڈلائنس بنائی گئی ہیں ۔ ان کے مطابق ایسے والنٹیئر وزارت داخلہ کے نام پر کسی بھی طرح کا تجارتی یا عوامی فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے ۔ ریاست میں مقرر نوڈل افسر کے پاس گائیڈ لائنس کی خلاف ورزی کرنے پر والنٹیئرس کے خلاف کارروائی کرنے کا پورا اخیتار ہوگا ۔

نیز سائبر کرائم ڈویزن رضاکارانہ بنیاد پر سائبر ایکسپرٹ سے مالویئر خطرات کے سلسلہ میں بھی مدد حاصل کرنے پر غور کررہا ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Feb 09, 2021 08:57 AM IST