உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    TV چینلوں کو مرکز کی ایڈوائزری، تشدد سے وابستہ بھڑکاو اور گمراہ کن جانکاری نشر کرنے سے بچیں

    TV چینلوں کو مرکزی کی ایڈوائزری، تشدد سے وابستہ بھڑکاو اور گمراہ کن جانکاری شائع کرنے سے بچیں

    TV چینلوں کو مرکزی کی ایڈوائزری، تشدد سے وابستہ بھڑکاو اور گمراہ کن جانکاری شائع کرنے سے بچیں

    Govt advisory for TV Channels: مرکزی حکومت نے حال ہی میں نجی ٹیلی ویژن چینلوں پر دکھائے گئے مواد ، خاص طور پر دہلی کے جہانگیر پوری علاقے میں ہوئے تشدد اور روس یوکرین تنازع پر سخت تشویش ظاہر کی ہے ۔

    • Share this:
      نئی دہلی : مرکزی حکومت نے حال ہی میں نجی ٹیلی ویژن چینلوں پر دکھائے گئے مواد ، خاص طور پر دہلی کے جہانگیر پوری علاقے میں ہوئے تشدد اور روس یوکرین تنازع پر سخت تشویش ظاہر کی ہے ۔ وزارت اطلاعات و نشریات نے ان چینلوں کو 'غیر سرکاری، گمراہ کن، سنسنی خیز اور اشتعال انگیز مواد' نشر کرنے کے خلاف ایک ایڈوائزری بھی جاری کی ہے ۔ مرکز نے کہا کہ تمام ٹی وی چینلز کو کیبل ٹیلی ویژن نیٹ ورکس (ریگولیشن ایکٹ) 1995 کی ہدایات پر سختی سے عمل کرنا چاہئے۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ حکم پر عمل نہ کرنے پر چینل پر پابندی لگائی جا سکتی ہے۔

      خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق وزارت اطلاعات و نشریات نے اپنی ایڈوائزری میں کہا کہ حالیہ دنوں میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کئی سیٹلائٹ ٹی وی چینلز نے بعض واقعات کو اس انداز میں کور کیا ہے جو غیر مستند، گمراہ کن، اور سنسنی خیز معلوم ہوتا ہے۔ سماجی طور پر ناقابل قبول زبان اور تبصروں کا استعمال کرنا، عوام کے جذبات کو ٹھیس پہنچانا اور فحش اور ہتک آمیز استعمال کرنا مذکورہ ایکٹ کے سیکشن 20 کی ذیلی دفعہ (2) کی دفعات کی خلاف ورزی ہے۔

       

      یہ بھی پڑھئے : گزشتہ 24 گھنٹے میں کورونا کے 2527 نئے معاملات، 33 اموات، لگاتار چوتھے دن دو ہزار سے زیادہ معاملات


      مرکزی حکومت نے اشتعال انگیز سرخی اور تشدد کے ویڈیوز پر سخت اعتراض کیا، جو کمیونٹیز کے درمیان فرقہ وارانہ منافرت کو ہوا دے سکتے ہیں اور امن و امان میں خلل ڈال سکتے ہیں۔ چینلز پر ایک مخصوص کمیونٹی کی توہین آمیز اور غیر تصدیق شدہ فوٹیج ، جس سے فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھی اور جانچ میں خلل ڈالنے کا الزام بھی لگایا گیا ۔

       

      یہ بھی پڑھئے : پہلے گولیاں برسائیں، پھر گرینیڈ پھینکا، دیکھئے سی آئی ایس ایف کی بس پر دہشت گردانہ حملے کا CCTV فوٹیج


      مرکز نے اپنی ایڈوائزری میں یہ بھی مشاہدہ کیا کہ کچھ نیوز چینلز غیر پارلیمانی، اشتعال انگیز اور سماجی طور پر ناقابل قبول زبان، فرقہ وارانہ ریمارکس اور توہین آمیز حوالوں پر مشتمل بحثیں نشر کرتے ہیں، جس کا شائقین پر منفی اثر پڑ سکتا ہے اور فرقہ وارانہ انتشار کو بھڑکا سکتا ہے اور امن کو خراب کر سکتا ہے۔

      مرکزی حکومت نے الزام لگایا کہ کئی صحافیوں اور نیوز اینکروں نے شائقین کو بھڑکانے کے لئے من گھڑت اور مبالغہ آمیز بیانات دئے۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: