جموں وکشمیرمیں حالات سے نمنٹے کے لیے مذہبی رہنماؤں پررکھی جائے گی نظر

جموں و کشمیر میں ناکہ بندی اور مواصلات کی روک تھام کو آہستہ آہستہ کم کیاجارہا ہے۔ اس ماہ کے شروع میں کی جانے والی تبدیلیوں کے بعد ، حکومت نے کسی بھی ناخوشگوار واقعات پرقابوپانے کے لیے ایک جامع حکمت عملی پرعمل کررہی ہے۔اس حکمت عملی کے تحت جموں وکشمیر کے بڑے رہنماؤں کو حراست میں لیا گیا۔ فون اور انٹرنیٹ لائنوں کو بندکردیاگیاتھا اورلوگوں کو کرفیو جیسے حالات کا سامناکرناپڑا۔

Aug 18, 2019 12:42 PM IST | Updated on: Aug 18, 2019 12:42 PM IST
جموں وکشمیرمیں حالات سے نمنٹے کے لیے مذہبی رہنماؤں پررکھی جائے گی نظر

جموں وکشمیر میں ناکہ بندی کا منظر۔(تصویر:اے پی)۔

جموں و کشمیر میں ناکہ بندی اور مواصلات کی روک تھام کو آہستہ آہستہ کم کیاجارہا ہے۔ اس ماہ کے شروع میں کی جانے والی تبدیلیوں کے بعد ، حکومت نے کسی بھی ناخوشگوار واقعات پرقابوپانے کے لیے ایک جامع حکمت عملی پرعمل کررہی ہے۔اس حکمت عملی کے تحت جموں وکشمیر کے بڑے رہنماؤں کو حراست میں لیا گیا۔ فون اور انٹرنیٹ لائنوں کو بندکردیاگیاتھا اورلوگوں کو کرفیو جیسے حالات کا سامناکرناپڑا۔

وادی میں مختلف گروپوں کی تشکیل

Loading...

ذرائع کا کہنا ہے کہ جموں وکشمیر انتظامیہ نے پرتشدد مظاہروں کو روکنے کے لئےجموں وکشمیر میں چار خصوصی گروپس کی تشکیل عمل میں لائی جارہی ہے۔ پہلے گروپ کو سرکاری عہدیداروں نے ’’موورز اینڈ شیکرز‘‘ یعنی’’طاقتور اور بااثر لوگوں‘‘ کا نام دیاگیاہے۔ یہ گروپ کسی بھی طرح کے ہونے والے مظاہروں میں شامل ہوکرمظاہرین کے متعلق تفصیلات انٹلی جنس کو فراہم کریں گے۔ اس گروپ کے ارکان کسی کو نقصان نہیں پہنچیں گے

سیاسی رہنماؤں کا گروپ

جموں وکشمیر میں ہونے والے مظاہروں میں حریت یا اہم سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کا ہاتھ ہوتاہے۔ اس لیے حریت سمیت اہم سیاسی جماعتوں کے لیڈروں ایک گروپ بنایاجارہاہے۔ ذرائع کے مطابق ،ان رہنماؤں کو حراست سے رہا کیا جائے گا اور انہیں نظربند رکھا جائے گا۔ کیونکہ جموں وکشمیر میں حکومت کے لئے نظر بندرکھنے کی پالیسی کارآمد ثابت ہورہی ہے۔

سید احمد گیلانی اور یاسین ملک اور میر واعظ عمر کی فائل فوٹو سید احمد گیلانی، یاسین ملک اور میر واعظ عمر کی فائل فوٹو

پتھراؤ بازوں پرتشدد مظاہرے کرنے والوں کا گروپ

دوسرا گروپ پتھراؤ اور پرتشدد احتجاج کرنے والے مظاہرین پرمبنی ہے۔جس میں زیادہ ترنئے لڑکے شامل ہوتے ہیں۔ حکومت، جموں وکشمیر کے بیشترعلاقوں میں ان افراد کی نشاندہی کرکے ان سے اورانکے خاندان سمیت انکے رشتہ داروں پرمبنی 20 افراد سے بانڈ پر دستخط کروانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ اس بانڈ میں یہ لکھنا ہوگا کے وہ امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش نہیں کرینگے۔

جموں وکشمیر میں پتھراؤ کا منظر۔(فائل فوٹو)۔ جموں وکشمیر میں پتھراؤ کا منظر۔(فائل فوٹو)۔

دہشت گردوں کا گروپ

دہشت گردوں پرکا بھی ایک گروپ بنایاجارہاہے۔ حکومت کولگتا ہے کہ فوج سرحد اور لائن آف کنٹرول پر توجہ مبذول کریگی۔ جہاں سے پاکستان کے ذریعہ دہشت گردوں کو وادی میں بھیجا جاتاہے۔حکومت پنجاب اورجموں میں بارڈرسکیورٹی کا جائزہ لینے کا بھی منصوبہ بنا رہی ہے۔

دہشت گرد برہان وانی اپنے ساتھیوں کے ساتھ ۔(تصویر:فائل فوٹو)۔ دہشت گرد برہان وانی اپنے ساتھیوں کے ساتھ ۔(تصویر:فائل فوٹو)۔

مذہبی رہنماؤں کا گروپ

ایک اور گروپ میں مذہبی رہنماؤں کی طرح بااثر افراد کو شامل کیاجارہاہے۔۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت ان مذہبی رہنماؤں کی شناخت اوران پر نظر رکھ رہی ہے جوتشدد کو بھڑکانے اور بدامنی پھیلاتے نظر آتے ہیں۔ افسران ایسے کسی بھی شخص کے ساتھ سختی سے پیش آئیں گے اورانہیں فوری طورپر گرفتارکرلیاجائیگا۔

میرواعظ عمر کی فائل فوٹو۔(تصویر:نیوز18)۔ میرواعظ عمر کی فائل فوٹو۔(تصویر:نیوز18)۔

جموں و کشمیر میں لوگوں کو گزشتہ دو ہفتوں سے زیادہ عرصے سےان حالات کا سامناہے۔ جب سے حکومت نے سیاحوں اور یاتریوں کو وہاں سے نکالنا شروع کیا ہے ، سابق وزرائے اعلیٰ فاروق عبداللہ ، عمر عبد اللہ اور محبوبہ مفتی سمیت 400 کے قریب سیاسی رہنماؤں کو نظربند رکھا گیا تھا۔سنیچرکو وادی کشمیر کے کچھ حصوں میں کچھ پابندیاں نرم کردی گئیں اور 50،000 سے زیادہ لینڈ لائن فون رابطے بحال کردیئے گئے ہیں۔ جموں وکشمیر پولیس نے کہا کہ وادی کے کچھ حصوں میں بڑے اجتماعات پر پابندی کے احکامات میں نرمی کردی گئی ہے۔ تاہم ، جموں وکشمیرمیں سکیورٹی کے سخت انتظامات برقرار رہیں گے۔

Loading...