உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بغیرپائلٹ کےطیاروں کےاصولوں کوتبدیل کرنے کےلیے آزادڈرون قوانین کااعلان، جانئے تفصیلات

    ترسیل کے لیے خصوصی ڈرون کوریڈور تیار کیے جائیں گے

    ترسیل کے لیے خصوصی ڈرون کوریڈور تیار کیے جائیں گے

    نئے قوانین کا مقصد لوگوں اور کمپنیوں کے لیے ڈرون کی ملکیت اور اسے چلانے میں نمایاں طور پر آسان بنانا ہے۔ وہ مینوفیکچررز ، درآمد کنندگان اور صارفین کے لیے لبرلائزڈ سرٹیفیکیشن labyrinthine certification کے عمل کو بھی ہموار کرتے ہیں۔

    • Share this:
      وزارت برائے سیول ایوی ایشن (civil aviation ministry ) نے جمعرات کو لبرلائزڈ ڈرون رولز liberalised Drone Rules، 2021 کو نوٹیفائڈ کیا جو کہ بغیر پائلٹ ایئر کرافٹ سسٹم رولز (UAS) 2021 کو تبدیل کرتا ہے، جو مارچ میں نافذ ہوا۔

      نئے قوانین کا مقصد لوگوں اور کمپنیوں کے لیے ڈرون کی ملکیت اور اسے چلانے میں نمایاں طور پر آسان بنانا ہے۔ وہ مینوفیکچررز، درآمد کنندگان اور صارفین کے لیے لبرلائزڈ سرٹیفیکیشن labyrinthine certification کے عمل کو بھی ہموار کرتے ہیں۔

      وزارت نے کہا کہ 2030 تک ہندوستان عالمی ڈرون مرکز بننے کی صلاحیت رکھتا ہے کیونکہ ڈرون معیشت کے تمام شعبوں کو زبردست فوائد فراہم کرتے ہیں اور ان کی رسائی، استعداد اور استعمال میں آسانی کی وجہ سے روزگار اور معاشی ترقی کے اہم تخلیق کار بن سکتے ہیں۔

       خصوصی ڈرون کوریڈور تیار کیے جائیں گے
      خصوصی ڈرون کوریڈور تیار کیے جائیں گے


      نئے قوانین کے مطابق کارگو کی ترسیل کے لیے خصوصی ڈرون کوریڈور تیار کیے جائیں گے۔ کئی منظوریوں کو بھی حتمی کردیا گیا ہے۔ ان میں منفرد اجازت نمبر ، منفرد پروٹو ٹائپ شناختی نمبر ، مینوفیکچرنگ اینڈ ایئر وورتھنیس ، کنفرمنس کا سرٹیفکیٹ ، دیکھ بھال کا سرٹیفکیٹ ، امپورٹ کلیئرنس ، موجودہ ڈرون کی قبولیت ، آپریٹر پرمٹ ، آر اینڈ ڈی آرگنائزیشن کی اجازت ، طالب علم ریموٹ پائلٹ لائسنس ، ریموٹ پائلٹ انسٹرکٹر اجازت اور ڈرون پورٹ وغیرہ کی اجازت دی گئی ہے۔

      قوانین کو آسان بنانے کی اپنی کوشش کی بنیاد پر نئے قوانین کے تحت کہا گیا کہ مائیکرو ڈرون (غیر تجارتی استعمال کے لیے) ، نینو ڈرون اور آر اینڈ ڈی تنظیموں کے لیے پائلٹ لائسنس کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ہندوستان میں رجسٹرڈ غیر ملکی کمپنیوں کی جانب سے ڈرون کے استعمال پر مزید پابندی نہیں ہوگی۔ کسی بھی رجسٹریشن یا لائسنس کے اجراء سے پہلے کسی سیکورٹی کلیئرنس کی ضرورت نہیں ہوگی۔

      حکومت اس منصوبے کو کھولنے کا ارادہ رکھتی ہے جسے ڈیجیٹل اسکائی پلیٹ فارم Digital Sky platform کہا جاتا ہے، جسے مینوفیکچررز سرٹیفیکیشن کے عمل کے لیے استعمال کر سکیں گے اور جہاں سے سبز ، زرد اور سرخ زون والے انٹرایکٹو فضائی نقشوں تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔

      ڈرونز اب ایک اہم نئی کنزیومر ٹیک کیٹیگری بناتے ہیں
      ڈرونز اب ایک اہم نئی کنزیومر ٹیک کیٹیگری بناتے ہیں


      ڈیجیٹل اسکائی صارفین کو لازمی رجسٹریشن نمبر اور ریموٹ پائلٹ لائسنس حاصل کرنے کے لیے ایک متحد پلیٹ فارم کے طور پر بھی کام کرے گا۔ لوگوں کو سروس چیک کرنے کی ضرورت ہوگی تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کسی جگہ پر ڈرون اڑانے سے پہلے کوئی پابندی عائد ہے یا نہیں۔ یہ پلیٹ فارم انڈیا کے ایوی ایشن ریگولیٹر ، ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن کے تحت ہوگا۔

      جون میں اس طرح کے آلے کا استعمال جموں میں ہندوستانی فضائیہ کے اڈے کو دھماکہ خیز مواد سے نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا تھا۔ حکام نے اس کے بعد کہا ہے کہ وہ اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی پر کام کر رہے ہیں۔ عام کنزیومر ڈرون میں عموما کچھ اندرونی حفاظتی انتظامات ہوتے ہیں ، جس کا مطلب ہے کہ سبھی غیر محفوظ نہیں ہیں۔

      ڈرونز اب ایک اہم نئی کنزیومر ٹیک کیٹیگری بناتے ہیں، خاص طور پر بصری فنکاروں کے درمیان یہ عمل جاری ہے اور ای کامرس کمپنیوں کی طرف سے خودکار پیکج کی ترسیل جیسے عملی اور صنعتی استعمال کی ایک حد تک اس کی جانچ کی جا رہی ہے۔

      مارچ میں وزارت برائے سول ایوی ایشن نے یو اے ایس رولز 2021 شائع کیا۔ وہ اکیڈمیا ، اسٹارٹ اپس ، اینڈ یوزرز اور دیگر سٹیک ہولڈرز کو سمجھتے تھے کہ وہ اس سلسلے میں پابند ہیں کیونکہ ان میں کافی کاغذی کارروائی اور ہر ڈرون پرواز کے لیے اجازت کی ضرورت ہوتی ہے اور بہت کم مفت اڑنے کے لیے گرین زون دستیاب تھے۔ فیڈ بیک کی بنیاد پر حکومت نے یو اے ایس رولز 2021 کو منسوخ کرنے اور اس کو لبرلائزڈ ڈرون رولز 2021 سے تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: