طلاق ثلاثہ بل لوک سبھا میں پیش:مرکزی حکومت سے اسدالدین اویسی نے کیا یہ بڑا سوال

مجلس اتحادالمسلمین کے صدرو حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی کہاکہ طلاق ثلاثہ بل دستور ہند کے آرٹیکل 14 اور 15 کی خلاف ورزی ہے ۔

Jun 21, 2019 04:02 PM IST | Updated on: Jun 21, 2019 05:03 PM IST
طلاق ثلاثہ بل لوک سبھا میں پیش:مرکزی حکومت سے اسدالدین اویسی نے کیا یہ بڑا سوال

اسد الدین اویسی: فائل فوٹو

مجلس اتحادالمسلمین کے صدرو حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی کہاکہ طلاق ثلاثہ بل دستور ہند کے آرٹیکل 14 اور 15 کی خلاف ورزی ہے ۔ مجلس اتحاد المسلمین کے صدر نے کہا کہ سپریم کورٹ نے کہا کہ تین طلاق سے شادی ختم نہیں ہوتی تو پھر سزاء کیسے دی جائیگی۔ اویسی نے کہا کہ مرکزی حکومت کو کیرالا کی بہنوں سے کیوں ہمدردی نہیں ہے۔

حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ کسی دوسرے مذاہب ماننے والے افراد اگراپنی بیوی کو طلاق دیتے ہیں تو انہیں ایک سال کی سزاء ہوتی ہے۔ جبکہ مسلم شخص اگرطلاق دیتاہے تو اس تین سال کی قید ہوگی۔ اس طرح سے بل میں دستورہند کے آرٹیکل 14 اور 15 کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔

Loading...

لوک سبھامیں ہنگامے کے درمیان طلاق ثلاثہ بل پیش ہو گیاہے۔ مرکزی حکومت کے ذریعے بل پر اپوزیشن نے سخت اعتراض جتایا ۔ بل کی پیشی کے حوالے سے ووٹنگ کرائی گئی۔ بل کی پیشی کے حق میں ایک سو چھیاسی ووٹ پڑے جبکہ بل کی پیشی کی مخالفت میں چوہتّر ووٹ پڑے ۔ وزیر قانون روی شنکر پرساد نے باقاعدہ بل پیش کردیا۔تین طلاق بل پر ایوان میں اگلے ہفتے بحث کا امکان ہے۔

Loading...