உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Farmer Protest: کسانوں کے احتجاج میں شامل ہونے سندھو بارڈر پہنچیں شاہین باغ کی دادی بلقیس بانو

    Farmer Protest: کسانوں کے احتجاج میں شامل ہونے سندھو بارڈر پہنچیں شاہین باغ کی دادی بلقیس بانو

    Farmer Protest: کسانوں کے احتجاج میں شامل ہونے سندھو بارڈر پہنچیں شاہین باغ کی دادی بلقیس بانو

    Farmer Protest: بلقیس دادی (Bilkis Dadi) کے نام سے مشہور بلقیس بانو اترپردیش کے بلند شہر کی رہنے والی ہیں، لیکن وہ فی الحال اپنے بچوں کے ساتھ دہلی میں مقیم ہیں۔

    • Share this:
      نئی دہلی: شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے)، قومی شہریت رجسٹر (این آرسی) احتجاج کا چہرہ اور شاہین باغ کی دادی بلقیس بانو بھی اب کسان آندولن کا حصہ بن گئی ہیں۔ آج وہ کسانوں کے احتجاج میں شامل ہونے کے لئے سندھو بارڈر پہنچ گئی ہیں۔ واضح رہے کہ پیر کی شب بھی سوشل میڈیا پر بلقیس دادی (Bilkis Dadi) کا ایک ویڈیو وائرل (Viral Video) ہو رہا تھا۔ ویڈیو میں دادی کسانوں کے کسی احتجاجی مقامات پر دکھائی دے رہی تھیں۔ دادی کے ساتھ چل رہے لوگ ویڈیو میں کہتے ہوئے سنے جارہے تھے کہ یوپی سے لوٹتے ہوئے وہ کسانوں کا ہال چال لینے کے لئے رکے ہیں۔

      کنگنا رانوت نے دادی کو لے کر کیا تھا یہ متنازعہ ٹوئٹ

      ٹوئٹر پر لوگ کنگنا رانوت کو ٹرول کر رہے ہیں اور ان کے اس دعوے کو غلط ٹھہرا رہے ہیں۔ ٹوئٹر پر نیٹیجینس مسلسل کنگنا رانوت کو دادی سے معافی مانگنے کے لئے کہہ رہے ہیں اور یہ ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ کر رہا ہے۔ یہ سب تب شروع ہوا جب ٹائم میگزین کی 2020 میں 100 طاقتور لوگوں کی فہرست میں بلقیس دادی کا نام شامل کیا گیا تھا۔ تبھی ایک صارف نے راجدھانی میں چل رہے کسانوں کے احتجاج کے درمیان ایک بوڑھی خاتون کی تصویر کو بلقیس بانو کی تصویر کے ساتھ ملاکر شیئر کیا اور یہ دعویٰ کیا گیا کہ تصویر میں دونوں خواتین حقیقت میں ایک ہی تھیں۔

      شاہین باغ سے سرخیوں میں آئی تھیں دادی بلقیس

      ایسا نہیں ہے کہ بلقیس دادی شہریت ترمیمی قانون کی مخالفت کے سبب احتجاج کے دوران صرف خاص موقع پر ہی نظر آئی تھیں۔ وہ صبح سے لے کر رات تک ہی دھرنا کی جگہ پر بیٹھی رہتی تھیں۔ انہوں نے احتجاج میں آخری وقت تک بنے رہنے کی بات کہی تھی۔

      شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے)، قومی شہریت رجسٹر (این آرسی) احتجاج کا چہرہ اور شاہین باغ کی دادی بلقیس بانو بھی اب کسان آندولن کا حصہ بن گئی ہیں۔ آج وہ کسانوں کے احتجاج میں شامل ہونے کے لئے سندھو بارڈر پہنچ گئی ہیں۔فائل فوٹو
      شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے)، قومی شہریت رجسٹر (این آرسی) احتجاج کا چہرہ اور شاہین باغ کی دادی بلقیس بانو بھی اب کسان آندولن کا حصہ بن گئی ہیں۔ آج وہ کسانوں کے احتجاج میں شامل ہونے کے لئے سندھو بارڈر پہنچ گئی ہیں۔فائل فوٹو


      ٹائم میگزین میں ہوا تھا ذکر

      ٹائم میگزین کی صحافی رعنا ایوب نے اپنے کالم میں بلقیس دادی کا خاص طور پر ذکر کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کیسے بلقیس دادی دہلی کی کپکپاتی سردی میں احتجاج کے مقام پر ڈٹی رہیں اور شاہین باغ احتجاج میں لوگوں کی آواز بن گئیں۔ اتنا ہی نہیں بلقیس دادی کے بیان بھی کم سرخیوں میں نہیں رہے۔ احتجاج کے دوران جب ان کا نام پوچھا گیا تو انہوں نے واضح طور پر کہہ دیا کہ ہم نام نہیں بتائیں گے کیونکہ ان کے پاس دستاویز نہیں ہیں۔

      یوپی کی رہنے والی ہیں دادی

      بلقیس دادی کے نام سے مشہور بلقیس بانو اترپردیش کے بلند شہر کی رہنے والی ہیں، لیکن وہ فی الحال اپنے بچوں کے ساتھ دہلی میں رہ رہی ہیں۔  ان کے شوہر کھیتی مزدوری کیا کرتے تھے، جو اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔ یہی نہیں، احتجاج کے دوران بلقیس دادی نے بتایا تھا کہ انہوں نے اپنی زندگی میں کبھی کسی سیاسی احتجاج میں حصہ نہیں لیا تھا۔ اس سے پہلے وہ صرف ایک گھریلو خاتون ہوا کرتی تھیں۔ انہوں نے پہلے کبھی اپنا گھر نہیں چھوڑا، لیکن اس احتجاج میں ان کا کھانا سونا احتجاج کے مقام پر ہی ہوتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ صرف کچھ وقت کے لئے کپڑے بدلنے گھر جاتی تھیں۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: