உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Green Hydrogen Mission:مستقبل کے ایندھن ہائیڈورجن سے ہندوستان کی ہوگی اونچی پرواز، وزیراعظم مودی نے وزارتوں کو دئیے احکامات

    پی ایم مودی نے ہائیڈروجن ایندھن کو لے کر وزارتوں کو دئیے یہ احکامات۔

    پی ایم مودی نے ہائیڈروجن ایندھن کو لے کر وزارتوں کو دئیے یہ احکامات۔

    Green Hydrogen Mission:گرین ہائیڈروجن کے ان امکانات کے پیش نظر پی ایم مودی نے آزادی کی 100ویں سالگرہ پر ملک کو درآمدی توانائی سے آزاد کرانے کی بات کی ہے۔ گرین ہائیڈروڈن کی دو سب سے بڑی ضروریات پانی اور سستی بجلی ہیں۔

    • Share this:
      نئی دہلی:اگر ملک کو درآمدی ایندھن سے نجات دلانی ہے تو ہمیں گرین ہائیڈروجن فیول کا سہارا لینا پڑے گا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے یہ منتر اپنی کابینہ کے اہم ساتھیوں کو دیا ہے۔ حال ہی میں، کابینہ کی میٹنگ کے بعد، پی ایم مودی نے ملک کے توانائی کے شعبے سے متعلق تمام وزراء کے ساتھ ایک اہم میٹنگ کی اور ہر وزارت کو گرین ہائیڈروجن کے میدان میں اپنی بہترین پالیسی بنانے کی ہدایت دی۔ اگست 2021 میں گرین ہائیڈروجن مشن کے آغاز کے بعد خطے میں وزیر اعظم کی یہ پہلی ملاقات تھی۔

      تیار کیا جارہا ہے مناسب اقدامات کا روڈ میپ
      وزیر اعظم کی ہدایات کے بعد اب وزارت پٹرولیم و قدرتی گیس، وزارت توانائی، وزارت قابل تجدید توانائی میں گرین ہائیڈروجن کے حوالے سے مستقبل کے اقدامات کا روڈ میپ شروع ہو گیا ہے۔ وزیراعظم کی سطح پر ہائیڈروجن فیول پر یہ اعلیٰ سطحی اجلاس ایسے وقت ہوا ہے جب ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اس حوالے سے سرکاری اور غیر سرکاری شعبے کی کمپنیوں کی جانب سے کئی اعلانات کیے جا چکے ہیں۔

      ریلائنس انڈسٹریز کا بڑا اعلان
      حال ہی میں، ملک کی سب سے بڑی صنعتی تنظیم ریلائنس انڈسٹریز نے کہا ہے کہ اس کا مقصد ملک میں ہائیڈروجن ایندھن کی قیمت کو 2030 تک موجودہ 5 ڈالر فی کلوگرام سے کم کرکے 1 ڈالر فی کلوگرام کرنا ہے۔ اس کے لیے کمپنی نے گرین ہائیڈروجن سیکٹر میں 75 بلین ڈالر (تقریباً 5.62 لاکھ کروڑ روپے) کی سرمایہ کاری کا بھی اعلان کیا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      شیوسینا کی ریلی میں Uddhav Thackerayکی للکار،کہا-بی جے پی داود کو بھی لڑواسکتی ہے الیکشن

      یہ بھی پڑھیں:
      Hydrerabad: مسجد محبوبیہ: یورپی طرز تعمیر کی شاہکار، جانیے تاریخ اور موجودہ صورتحال

      گرین ہائیڈروجن کے ان امکانات کے پیش نظر پی ایم مودی نے آزادی کی 100ویں سالگرہ پر ملک کو درآمدی توانائی سے آزاد کرانے کی بات کی ہے۔ گرین ہائیڈروڈن کی دو سب سے بڑی ضروریات پانی اور سستی بجلی ہیں۔ ہندوستان نے سال 2030 تک قابل تجدید توانائی سے پانچ لاکھ میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے جو کہ گرین ہائیڈروجن کے لیے بہت اہم ثابت ہوگا۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: