உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    گیانواپی مسجدکے احاطہ میں ایک اورمندر کامعاملہ:خواتین عدالت پہنچیں، یوپی حکومت سےمانگاگیاجواب

    اتر پردیش حکومت ، گیانواپی مسجد کمیٹی اور شری کاشی وشوناتھ مندر ٹرسٹ سے جواب طلب کیا ہے۔

    اتر پردیش حکومت ، گیانواپی مسجد کمیٹی اور شری کاشی وشوناتھ مندر ٹرسٹ سے جواب طلب کیا ہے۔

    راکھی سنگھ نے 4 دیگر خواتین کے ساتھ سینئر ایڈوکیٹ ہری شنکر جین کے ذریعے عدالت میں درخواست دائر کی ہے۔ عرضی کو قبول کرتے ہوئے عدالت نے اس مسئلہ پر اتر پردیش حکومت ، گیانواپی مسجد کمیٹی اور شری کاشی وشوناتھ مندر ٹرسٹ سے جواب طلب کیا ہے۔

    • Share this:
      وارانسی: وارانسی میں بابا شری کاشی وشوناتھ مندر اور گیانواپی مسجد کا تنازعہ ابھی حل نہیں ہوا ۔تاہم ایک اور مندر کا معاملہ بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ یہ مندر گیانواپی مسجد کے احاطے میں ہے۔ جو بابا شری کاشی وشوناتھ کے مغربی علاقے میں واقع ہے جس کو ما شرنگر گوری کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس مندر کے بارے میں تنازعہ سال 1992 میں منظر عام پر آیا تھا۔ ان دنوں یہ مندر ایک بار پھر بحث میں ہے۔ در اصل، کاشی کی خواتین نے وارانسی کی سیول کورٹ (سینئر ڈویژن) میں ایک عرضی داخل کی ہے کہ اس مندر کو محفوظ رکھا جائے اور اسے روزانہ عام عقیدت مندوں کے لیے درشن اور پوجا کے لیے کھول دیا جائے۔

      راکھی سنگھ نے 4 دیگر خواتین کے ساتھ سینئر ایڈوکیٹ ہری شنکر جین کے ذریعے عدالت میں درخواست دائر کی ہے۔ عرضی کو قبول کرتے ہوئے عدالت نے اس مسئلہ پر اتر پردیش حکومت ، گیانواپی مسجد کمیٹی اور شری کاشی وشوناتھ مندر ٹرسٹ سے جواب طلب کیا ہے۔ ہم آپ کو بتادیں ہیں کہ راکھی سنگھ دہلی کی رہائشی ہے اور گیانواپی مسجد احاطے میں واقع مندر میں عبادت کے لیے عدالت سے منظوری چاہتی ہے۔ عدالت نے گیانواپی مسجد کمپلیکس میں واقع ما شرنگر گوری مندر کے ساتھ احاطے میں واقع دیوتاؤں کی حالت کا جائزہ لینے کے لیے ایڈووکیٹ کمشنر (پینل) تشکیل دیا ہے۔ اس معاملے پر اگلی سماعت 10 ستمبر کو ہوگی۔

      پروہت گلشن کپور کا کہنا ہے کہ شرنگر گوری 9 دیویوں میں سے ایک ہے۔ شرنگار گوری کو نویں دیوی کے طور پر وارانسی میں بٹھایا گیا ہے۔ ان کا مجسمہ گیانواپی کمپلیکس کی مغربی دیوار پر نصب ہے۔ 1992 سے پہلے ، یہاں ہر روز عبادت کی جاتی تھی لیکن بعد میں صرف ایک بار نوراتری کے آخری دن ، یہاں عبادت کی اجازت شروع ہوئی۔

      1998 میں کمشنر نے بند کر دی درشن پوجا

      1998 میں اس وقت کے کمشنر نے یہاں درشن پوجا کو مکمل طور پر بند کر دیا۔ تاہم ایک طویل لڑائی کے بعد 2006 میں ایک بار پھر سال میں ایک بار اس مندر کی زیارت کی اجازت دی گئی تھی۔ معروف وشوا ویدک سناتن دھرم کے جتیندر سنگھ کا کہنا ہے کہ اس تنازع کے پیش نظر بنارس کی 4 خواتین کے ساتھ دہلی کی ایک خاتون نے وارانسی کی عدالت میں ایک عرضی داخل کی ہے۔ اس عرضی میں یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ ہر روز شرنگر گوری کے درشن کی اجازت دی جائے۔ اس کے ساتھ ، اس کمپلیکس میں نصب تمام مورتیوں کو چیک کیا جانا چاہیے کہ وہ محفوظ ہیں یا نہیں۔

      راکھی سنگھ نے 4 دیگر خواتین کے ساتھ سینئر ایڈوکیٹ ہری شنکر جین کے ذریعے عدالت میں درخواست دائر کی ہے۔
      راکھی سنگھ نے 4 دیگر خواتین کے ساتھ سینئر ایڈوکیٹ ہری شنکر جین کے ذریعے عدالت میں درخواست دائر کی ہے۔


      دراصل ، یہ مطالبہ اس لیے پیدا ہوا ہے کہ گیانواپی مسجد اور لارڈ ویشیشور کیس میں ، وارانسی کی فاسٹ ٹریک کورٹ سے احاطے کا جائزہ لینے کے لیے محکمہ آثار قدیمہ کو تحقیقات کرکے رپور ٹ تیار کرنے کا حکم دیاگیاے۔ اس کے بعد ، ایک سوٹ پٹیشن دائر کی گئی کہ آثار قدیمہ کی تحقیقات کے دوران بھی مورتیوں کو کوئی نقصان نہ ہو۔

      خواتین نے درخواست دائر کرنے کی بتائی وجہ

      درخواست دائر کرنے والی پانچ خواتین منجو ویاس ، سیتا ساہو ، لکشمی دیوی ، ریکھا پاٹھک اور راکھی سنگھ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ 1991 سے پہلے ، ہم نے ہمیشہ شرنگر گوری کے درشن کیے تھے ، لیکن اب یہ عمل مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔

      یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ دیوی ، دیوتا کس حالت میں ہیں۔ سال میں ایک بار ، ہمیں دور سے درشن کرنے کی اجازت ہے ، لیکن ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمارے عقیدے کے پیش نظر حکومت ہمیں ہر روز یہاں درشن کرنے کی اجازت دے۔ اسی لیے ہم نے یہ پٹیشن دائر کی ہے۔
      Published by:Mirzaghani Baig
      First published: