உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    روزمرہ کی ضروری چیزوں پر مہنگائی کی مار،GST سےدال-چاول سے لے کر علاج تک ہوا مہنگا،جانیے تفصیل

    دودھ، دہلی ، لسی سمیت کئی چیزیں ہوئیں مہنگی۔

    دودھ، دہلی ، لسی سمیت کئی چیزیں ہوئیں مہنگی۔

    بلیڈ، پیپر قینچی، پینسل، شارپنر، چمچ بھی اس کی گرفت میں ہیں۔ پیر سے تمام قیمتوں میں 5سے 18 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ جی ایس ٹی کی نئی شرحوں کے ساتھ ساتھ ریٹیل مارکیٹ پر بھی اس کا براہ راست اثر پڑا ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: مہنگائی نے گڑ، شہد، دہی، لسی کی مٹھاس کم کر دی ہے۔ دال، چاول، اناج سے لے کر اسپتال کے علاج تک مہنگائی نے نہیں چھوڑا ہے۔ بلیڈ، پیپر قینچی، پینسل، شارپنر، چمچ بھی اس کی گرفت میں ہیں۔ پیر سے تمام قیمتوں میں 5سے 18 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ جی ایس ٹی کی نئی شرحوں کے ساتھ ساتھ ریٹیل مارکیٹ پر بھی اس کا براہ راست اثر پڑا ہے۔

      اس سے قبل پیر کو جی ایس ٹی کی نئی شرحوں کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا۔ جس کے بعد نئی قیمتیں نافذ ہو گئی ہیں۔ کھانے پینے کی اشیاء کے علاوہ اگر آپ اسپتال کا کمرہ 5000 روپے میں لیتے ہیں تو 5فیصد GST ادا کرنا پڑے گا۔ جس کی وجہ سے روزانہ تقریباً 250 روپے اضافی ادا کرنے پڑیں گے۔ ٹیٹرا پیکڈ دہی، لسی اور مکھن کے دودھ پر بھی 5فیصد جی ایس ٹی لگے گا۔ اگر ایک کلو دہی 200 روپے میں مارکیٹ میں آتا تو اس کی قیمت 210 روپے تک بڑھ جائے گی۔

      اسی طرح اگر آپ گھر کو روشن کرنے کے لیے ایل ای ڈی لائٹس اور لیمپ خریدتے ہیں تو اب 12 فیصد کے بجائے 18 فیصد ٹیکس ادا کرنا پڑے گا۔ یعنی اگر ایل ای ڈی بلب 100 روپے کا ہے تو اب یہ 105 روپے میں ملے گا۔ اب بینکوں سے جاری کردہ چیک بک پر بھی 18 فیصد جی ایس ٹی وصول کیا جائے گا۔

      ایٹلس سمیت دیگر نقشوں پر بھی جی ایس ٹی ادا کرنا ہوگا۔ اگر مارکیٹ میں ایٹلس کی قیمت 200 روپے ہے تو اس پر 12 فیصد جی ایس ٹی کے ساتھ اس کی نئی قیمتیں 224 روپے ہوں گی۔ اگر آپ ہوٹل میں رات گزارتے ہیں اور ہوٹل کے کمرے کی قیمت 1000 روپے ہے تو اس پر بھی 12 فیصد جی ایس ٹی ادا کرنا ہوگا۔ یعنی ہوٹل میں قیام کا چارج 1120 روپے ادا کرنا ہوگا۔

      یہ بھی پڑھیں:
      ہندوستان میں مہنگائی میں مزیداضافہ کاخدشہ، آخرکیاہے وجہ؟ RBI کی جولائی کےبلیٹن میں وضاحت

      یہ بھی پڑھیں:
      آٹے کے ایکسپورٹ پر آج سے پابندی، اس سال آٹے کی قیمت میں تقریباً 9 فیصد اضافہ

      مہنگی ہوئی روز مرہ استعمال ہونے والی اشیا

      • دہی، لسی، مکھن کا دودھ، پنیر اب پانچ فیصد مہنگا ہو گیا ہے۔ پنیر 300 روپے فی کلو ہے تو اب مارکیٹ میں 315 روپے کا ہو گیا ہے۔

      • چاول، گیہوں، بارلی، اوٹس اب پانچ فیصد مہنگے ہو گئے ہیں۔ چاول 100 روپے کلو تھا تو اب 105 روپے فی کلو کے حساب سے مل رہا ہے۔

      • گڑ اور قدرتی شہد کی قیمتوں میں بھی پانچ فیصد اضافہ ہوا ہے۔

      • ناریل کا پانی بھی مہنگا ہوگیا ہے۔ اس پر بھی پانچ فیصد جی ایس ٹی لگایا گیا ہے۔ 50 روپے میں ملنے والا ناریل پانی اب 70 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔

      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: