உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Gujarat Communal Clash: گجرات کے بورسد شہر میں تشدد، چار پولیس اہلکار زخمی، کثیر تعداد میں سیکورٹی اہلکار تعینات

    Gujarat: بورسد شہر میں تشدد، چار پولیس اہلکار زخمی، کثیر تعداد میں سیکورٹی اہلکار تعینات ۔ علامتی تصویر ۔

    Gujarat: بورسد شہر میں تشدد، چار پولیس اہلکار زخمی، کثیر تعداد میں سیکورٹی اہلکار تعینات ۔ علامتی تصویر ۔

    Gujarat Communal Clash: احمد آباد رینج کے انسپکٹر جنرل وی چندر شیکھر نے بتایا کہ افواہ پھیلی کہ بورسد میں اقلیتی فرقہ کے کچھ لوگوں کو گھیر لیا گیا ہے، جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں کمیونٹی کے لوگ سڑکوں پر اتر آئے ۔ لوگوں نے پولیس اور ان کی گاڑیوں پر پتھراو کرنا شروع کردیا ۔

    • Share this:
      احمدآباد : گجرات کے بورسد شہر میں ہوئے فرقہ وارانہ جھڑپ میں چار پولیس اہلکار زخمی ہوگئے ہیں ۔ احمد آباد رینج کے انسپکٹر جنرل وی چندر شیکھر نے بتایا کہ افواہ پھیلی کہ بورسد میں اقلیتی فرقہ کے کچھ لوگوں کو گھیر لیا گیا ہے، جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں کمیونٹی کے لوگ سڑکوں پر اتر آئے ۔ لوگوں نے پولیس اور ان کی گاڑیوں پر پتھراو کرنا شروع کردیا ۔ بھیڑ کو منتشر کرنے کیلئے پولیس نے آنسوگیس کے گولے داغے، جس کے بعد حالات کو قابو میں لایا جاسکا ۔

       

      یہ بھی پڑھئے: UP Violence: جمعہ کی نمازکے بعد ہوئے تشدد میں اب تک 306 افراد گرفتار، دیکھئے ضلع وار اعداد و شمار


      اس درمیان ریاستی ریزرو پولیس فورس کی دو کمپنیاں اور ڈی ایس پی اجیت رائے جان کی قیادت میں 200 پولیس اہلکاروں کو بورسد میں تعینات کیا گیا ہے ۔ چندرشیکھر نے بتایا کہ پولیس نے کچھ لوگوں کو حراست میں لیا ہے، تشدد میں ان کے کردار کی تصدیق کی جارہی ہے ۔ زخمی پولیس اہلکاروں میں سے ایک کی شناخت کانسٹیبل وجے سنگھ کے طور پر ہوئی ہے، جن پر شرپسندوں نے چار مرتبہ چاقو سے حملہ کیا ۔ وہ وڈودرا کے سرکاری اسپتال میں بھرتی ہیں، ان کی حالت سنگین بتائی جارہی ہے ۔

       

      یہ بھی پڑھئے: سونیا گاندھی کو گنگارام اسپتال میں کیا گیا داخل، کورونا انفیکشن کے سبب ہو رہی ہے پریشانی


      بورسد پولیس تھانہ کے ذرائع نے بتایا کہ پتھراو کے دوران باقی تین پولیس اہلکاروں کو چوٹیں آئی ہیں۔ بی جے پی بورسد کمیٹی کے صدر دیپک پٹیل کے مطابق ہنومان مندر کے پیچھے مقامی میونسپل کی اراضی پر غیر قانونی تعمیرات کو روکنے کی کوشش کے بعد تشدد پھوٹ پڑا۔

      مندر کے پیچھے میونسپل کی ملکیت والی ایک کھلی جگہ ہے اور اس کے برابر میں ایک درگاہ ہے ۔ پٹیل نے کہا کہ اقلیتی طبقہ کے لوگوں نے میونسپل کی زمین پر تعمیری کام شروع کیا تھا، جب پولیس نے انہیں روکنے کی کوشش کی تو لوگوں نے پولیس پر حملہ کردیا ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: