உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Ahmedabad serial Blast case: آج 13 سالوں بعد آسکتا ہے فیصلہ، دھماکوں میں ہوئی تھی 56 امواتیں

     بتادیں کہ 26 جولائی 2008 کو احمد آباد شہر میں 70 منٹ میں 21 بم دھماکے ہوئے تھے۔ ان بم دھماکوں سے پورا احمد آباد لرز اٹھا۔ اس واقعے میں تقریباً 56 افراد ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے۔

    بتادیں کہ 26 جولائی 2008 کو احمد آباد شہر میں 70 منٹ میں 21 بم دھماکے ہوئے تھے۔ ان بم دھماکوں سے پورا احمد آباد لرز اٹھا۔ اس واقعے میں تقریباً 56 افراد ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے۔

    بتادیں کہ 26 جولائی 2008 کو احمد آباد شہر میں 70 منٹ میں 21 بم دھماکے ہوئے تھے۔ ان بم دھماکوں سے پورا احمد آباد لرز اٹھا۔ اس واقعے میں تقریباً 56 افراد ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے۔

    • Share this:
      احمدآباد:گجرات(Gujarat) کی ایک خصوصی عدالت 2008 کے احمد آباد سلسلہ وار بم دھماکوں(Ahmedabad Serial Blast) سے متعلق کیس میں آج منگل کو اپنا فیصلہ سنائے گی۔ 2008 میں ان دھماکوں میں 56 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس کیس میں تقریباً 80 ملزمان پر مقدمہ چلایا گیا۔ یہ جانکاری آج ایک سینئر پبلک پراسیکیوٹر نے دی ہے۔ 13 سال سے زیادہ پرانے کیس میں عدالت(Gujarat Court) نے گزشتہ سال ستمبر میں سماعت مکمل کی تھی۔

      اب اس معاملے میں فیصلہ منگل کو آنے کی امید ہے۔ سینئر پبلک پراسیکیوٹر سدھیر برہم بھٹ نے کہا کہ سلسلہ وار دھماکہ کیس(Serial Blast) کا فیصلہ منگل کو سنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نچلی عدالت کے خصوصی جج اے آر پٹیل نے کورونا سے صحتیاب ہونے کے بعد دوبارہ کام شروع کر دیا ہے۔

      بم دھماکہ معاملے میں 7 فروری کو فیصلہ
      ٹرائل کورٹ نے اس سے قبل فیصلہ سنانے کے لیے یکم فروری کی تاریخ مقرر کی تھی۔ لیکن جج کے کورونا وائرس سے متاثر ہونے کی وجہ سے فیصلہ 8 فروری تک ملتوی کر دیا گیا۔ اب کل یعنی 8 فروری کو اس معاملے میں فیصلہ سنایا جا سکتا ہے۔ بتادیں کہ 26 جولائی 2008 کو احمد آباد شہر میں 70 منٹ میں 21 بم دھماکے ہوئے تھے۔ ان بم دھماکوں سے پورا احمد آباد لرز اٹھا۔ اس واقعے میں تقریباً 56 افراد ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے۔

      13 سال پہلے ہوئے تھے سیریل بلاسٹ
      احمد آباد پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ ان دھماکوں میں دہشت گرد تنظیم انڈین مجاہدین سے وابستہ لوگ ملوث تھے۔ اس واقعے کو 13 سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ ساتھ ہی کیس کی سماعت بھی مکمل ہو گئی ہے۔ منگل کو عدالت اس معاملے میں اپنا فیصلہ سنائے گی۔ اس سے قبل فیصلہ سنانے کے لیے یکم فروری کی تاریخ مقرر کی گئی تھی لیکن اسی دوران جج کورونا کا شکار ہو گئے۔ اب جبکہ وہ انفیکشن سے ٹھیک ہو چکے ہیں تو آج فیصلہ سنائے جانے کی امید ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: