ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

گجرات ہائی کورٹ نے کہا- حیض کی بنا پر خواتین کے بائیکاٹ پر پابندی ہونی چاہئے

گجرات ہائی کورٹ نے کہا کہ حکومت کو اس معاملے میں سماجی بیداری مہم چلانی چاہئے۔ حالانکہ عدالت نے ساتھ میں یہ بھی کہا کہ آخری فیصلہ آنے سے پہلے وہ اس موضوع پر ریاست اور مرکزی حکومت کو سننا چاہتے ہیں۔

  • Share this:
گجرات ہائی کورٹ نے کہا- حیض کی بنا پر خواتین کے بائیکاٹ پر پابندی ہونی چاہئے
گجرات ہائی کورٹ نے کہا- حیض کی بنا پر خواتین کے بائیکاٹ پر پابندی ہونی چاہئے

گاندھی نگر: گجرات ہائی کورٹ (Gujarat High court) نے کہا ہے کہ سبھی مقامات پر خواتین کے حیض کی بنا پر ان کے بائیکاٹ پر پابندی ہونی چاہئے۔ عدالت نے ابتدائی طور پر معاملے کو دیکھتے ہوئے کہا کہ کہ چاہے وہ ذاتی ہو یا عوامی ہو، چاہے مذہبی ہو یا تعلیمی، سبھی مقامات پر خواتین کی حیض کے معاملے میں بائیکاٹ نہیں ہونا چاہئے۔ ہائی کورٹ کے اس فیصلے نے وہشپر نیوز 18 کی پہل پیریڈ آف پرائڈ پر مہر لگا دی ہے۔


پیریڈ آف پرائڈ پہل کا ہدف حیض کے دوران صاف صفائی اور میسٹوئل ہائیجین منیجمنٹ کو فوکس میں لے کر آںا ہے۔ مناسب علم کی کمی میں آج اسے لے کر چیلنج اور زیادہ مشکل ہوگئی ہے۔ حیض کے دوران جسم کے عام حیاتیاتی تبدیلی کے طور پر قابل قبول نہیں ہے۔ اسے گندگی اور چھوت چھات کے نظریے سے دیکھا جاتا ہے۔ پیریڈ آف پرائیڈ مہم کے ذریعہ وہشپر - نیوز 18 اس سوچ کو بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔


ہائی کورٹ نے کیا کہا


ہائی کورٹ نے کہا کہ حکومت کو اس معاملے میں سماجی بیداری مہم چلانی چاہئے۔ حالانکہ عدالت نے ساتھ میں یہ بھی کہا کہ آخری فیصلہ آنے سے پہلے وہ اس موضوع پر ریاست اور مرکزی حکومت کو سننا چاہتے ہیں۔ 30 مارچ تک اس معاملے میں حکومت کو جواب دینا ہے۔ جسٹس جے بی پاردی والا اور جسٹس الیش جے وورا کی بینچ ایک حادثہ کے تعلقات میں دائر ایک عوامی مفاد عامہ کی قانونی چارہ جوئی (پی آئی ایل) پر سماعت کر رہی تھی، جس میں کچھ کے بھج شہر میں سہجانند گرلس انسٹی ٹیوٹ کے ایک طلبا میں میں 60 سے زیادہ لڑکیوں کو مبینہ طور پر یہ ثابت کرنے کے لئے مجبور کیا گیا کہ وہ حیض کے دور سے نہیں گزر رہی ہیں۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Mar 09, 2021 09:34 PM IST