اپنا ضلع منتخب کریں۔

    اب سے کچھ دیر بعد جاری ہوں گے گجرات اور ہماچل الیکشن کے ایگزٹ پولز، جانئے کیسے ہوتا ہے یہ سروے

    اب سے کچھ دیر بعد جاری ہوں گے گجرات اور ہماچل پردیش الیکشن کے ایگزٹ پولز

    اب سے کچھ دیر بعد جاری ہوں گے گجرات اور ہماچل پردیش الیکشن کے ایگزٹ پولز

    Exit Poll : اب سے کچھ ہی دیر میں گجرات اور ہماچل پردیش میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے حوالے سے ایگزٹ پولز کے نتائج جاری کئے جائیں گے۔ ملک کی تقریبا سبھی بڑی سروے ایجنسیاں اس کام میں لگی ہوئی ہیں۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi | Gujarat | Himachal Pradesh
    • Share this:
      نئی دہلی : اب سے کچھ ہی دیر میں گجرات اور ہماچل پردیش میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے حوالے سے ایگزٹ پولز کے نتائج جاری کئے جائیں گے۔ ملک کی تقریبا سبھی بڑی سروے ایجنسیاں اس کام میں لگی ہوئی ہیں۔ یہ کام وہ الگ الگ چینلز کے ساتھ مل کر کرتی ہیں۔ آج ووٹنگ کے آخری دور کے اختتام کے بعد ایگزٹ پولز کے نتائج جاری کئے جائیں گے۔ پچھلے کچھ سالوں سے ایگزٹ پولز کے نتائج کافی حد تک درست ثابت ہو رہے ہیں۔

      پچھلے کچھ سالوں سے ایگزٹ پولز کے نتائج کافی حد تک درست ثابت ہو رہے ہیں۔ ایسے میں آئیے یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ سروے کیسے کیا جاتا ہے اور اس کا فارمیٹ کیا ہے۔ ویسے کئی لوگ ایگزٹ پول کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف عدالت بھی جاچکے ہیں۔

      یہ بھی پڑھئے: تب عورتوں کو بھی ہو ایک ساتھ کئی شوہر رکھنے کا حق، مسلم پرسنل لا پر جاوید اختر بولے


      یہ بھی پڑھئے: وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنا حق رائے دہی کیا استعمال، خواتین و نوجوان ووٹرس سے ووٹ کی...!


      ایگزٹ پولز کرنے والی ایجنسیاں عوام سے پوچھتی ہیں کہ آپ کو ووٹ کرنے کیلئے کونسی چیزیں متاثر کرتی ہیں ۔ اس میں آپشنز ہوتے ہیں سیاسی پارٹی اور امیدوار، ترقی ، بدعنوانی ، مقامی ایشوز یا دیگر؟ ۔ کیا آپ ریاست میں اقتدار کی تبدیلی چاہتے ہیں؟ ۔ الیکشن میں کونسی ذات کس پارٹی کو ووٹ دے گی؟ اس میں برہمن، راجپوت، ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی کا فیصد پوچھا جاتا ہے۔

      اس کے بعد ایگزٹ پول کرنے والی ایجنسیاں سیٹوں کا اندازہ لگاتی ہیں۔ اس کو سیٹ پروجیکشن کہا جاتا ہے ۔ اس میں پارٹیوں کے نام لکھ کر پلس اور مائنس نمبر کے ساتھ سیٹوں کی تعداد تیار کی جاتی ہے۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: