உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    گجرات ATS کی حراست میں تیستا سیتلواڑ، ممبئی کے سانتاکروز پولیس اسٹیشن لایا گیا

    گجرات ATS کی حراست میں تیستا سیتلواڑ، ممبئی کے سانتاکروز پولیس اسٹیشن لایا گیا

    گجرات ATS کی حراست میں تیستا سیتلواڑ، ممبئی کے سانتاکروز پولیس اسٹیشن لایا گیا

    Gujarat Riots 2002: تیستا سے فنڈز کے غلط استعمال کے سلسلہ میں پوچھ گچھ کی جائے گی۔ بتایا جا رہا ہے کہ تیستا سیتلواڑ کو احمد آباد بھی لے جایا جا سکتا ہے ۔

    • Share this:
      ممبئی : گجرات اے ٹی ایس کی ٹیم نے تیستا سیتلواڑ کو ممبئی میں اپنی حراست میں لے لیا ہے۔ ان کے خلاف سابق آئی پی ایس سنجیو بھٹ اور سابق ڈی جی پی آر بی شری کمار کے خلاف جعلی دستاویزات بنا کر سازش کے تحت غلط کارروائی شروع کروانے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ فی الحال گجرات اے ٹی ایس انہیں سانتا کروز تھانے لے کر گئی ہے۔ تیستا سے فنڈز کے غلط استعمال کے سلسلہ میں پوچھ گچھ کی جائے گی۔ بتایا جا رہا ہے کہ تیستا سیتلواڑ کو احمد آباد بھی لے جایا جا سکتا ہے ۔

      بتادیں کہ 2002 کے گجرات فسادات پر جمعہ کو سپریم کورٹ نے وزیر اعظم مودی کو اس معاملہ میں خصوصی تفتیشی ٹیم کے ذریعہ ملی کلین چٹ کے خلاف ذکیہ جعفری کی عرضی کو خارج کرتے ہوئے سخت تبصرہ کیا تھا ۔


      وہیں سپریم کورٹ نے گجرات فسادات کے معاملہ میں تیستا سیتلواڑ کے کردار پر مزید جانچ کی ضرورت بتائی تھی ۔ عدالت نے کہا کہ جو لوگ قانون سے کھلواڑ کررہے ہیں، ان کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہئے ۔

       

      یہ بھی پڑھئے: 'کوئی بھی بالا صاحب ٹھاکرے اور پارٹی کے نام کا استعمال نہیں کرسکتا'، تین بڑی قراردادیں پاس


      سابق آئی پی ایس آر بی شری کمار بھی گرفتار

      وہیں احمد آباد کرائم برانچ نے سابق آئی پی ایس افسر آر بی شری کمار کو بھی گرفتار کرلیا ہے ۔ خیال رہے کہ گجرات فسادات معاملہ میں سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ اس معاملہ میں وزیر اعلی کی میٹنگ میں شامل ہونے کے دعویداروں کے بیانات سیاسی طور پر سنسنی پیدا کرنے والے تھے ۔

       

      یہ بھی پڑھئے: باغی ارکان اسمبلی کے دفتر میں توڑ۔پھوڑ، Shivsena workers نے کیا زبردست احتجاج


      دراصل سنجیو بھٹ ، ہرین پانڈے اور آر بی شری کمار نے ایس آئی ٹی کے سامنے بیان دیا تھا جو کہ بے بنیاد نکلے ، کیونکہ جانچ میں پتہ چلا کہ یہ لوگ تو لا اینڈ آرڈر کا جائزہ لینے کیلئے بلائی گئی اس میٹنگ شامل ہی نہیں ہوئے تھے ۔

      قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ نے سات مہینے پہلے نو دسمبر 2021 کو ذکیہ جعفری کی عرضی پر میراتھن سماعت پوری کرنے کے بعد فیصلہ محفوظ رکھا تھا ۔ گجرات فسادات کی جانچ کیلئے بنائی گئی ایس آئی ٹی نے تب گجرات کے وزیر اعلی رہے اور اب ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی کو کلین چٹ دی تھی ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: