உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    گودھرا ٹرین سانحہ: 20 سال بعد رفیق بھٹک کو قصور وار قرار دیا گیا، مقامی عدالت نے سنائی عمر قید کی سزا

    Godhra train fire case: گجرات میں سال 2002 کے گودھرا ٹرین سانحہ معاملے میں گودھرا کی ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت نے ملزم رفیق بھٹک کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ رفیق پر ایودھیا سے ‘کار سیوکوں‘ کو لے کر لوٹ رہی ٹرین کو آگ لگانے کے معاملے میں شامل ہونے کا ملزم ثابت ہوا ہے۔

    Godhra train fire case: گجرات میں سال 2002 کے گودھرا ٹرین سانحہ معاملے میں گودھرا کی ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت نے ملزم رفیق بھٹک کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ رفیق پر ایودھیا سے ‘کار سیوکوں‘ کو لے کر لوٹ رہی ٹرین کو آگ لگانے کے معاملے میں شامل ہونے کا ملزم ثابت ہوا ہے۔

    Godhra train fire case: گجرات میں سال 2002 کے گودھرا ٹرین سانحہ معاملے میں گودھرا کی ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت نے ملزم رفیق بھٹک کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ رفیق پر ایودھیا سے ‘کار سیوکوں‘ کو لے کر لوٹ رہی ٹرین کو آگ لگانے کے معاملے میں شامل ہونے کا ملزم ثابت ہوا ہے۔

    • Share this:
      گودھرا (گجرات): گودھرا کی ایک عدالت نے 2002 کے گودھرا ٹرین سانحہ میں ایک ملزم کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ اس حملے میں 59 کار سیوک مارے گئے تھے۔ گجرات میں پنچ محل ضلع کے گودھرا میں ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت نے ہفتہ کے روز ملزم رفیق بھٹک کو عمر قید کی سزا سنائی۔ بھٹک کو فروری 2021 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ گزشتہ سال اس کی گرفتاری کے بعد مقدمہ شروع ہوا تھا۔ رفیق بھٹک پر 27 فروری 2002 کو ایودھیا سے ‘کارسیوکوں‘ کو لے کر لوٹ رہی ایک ٹرین کو آگ لگانے کے معاملے میں شامل ہونے کا الزام تھا۔

      اس حادثہ میں 59 لوگوں کی موت ہوگئی تھی۔ اس کے سبب ریاست میں فرقہ وارانہ فساد ہوا تھا، جس میں 1,200 سے زیادہ لوگ مارے گئے تھے، جن میں زیادہ تر اقلیتی برادری کے تھے۔ پنچ محل پولیس کے خصوصی آپریشن گروپ (ایس او جی) نے گزشتہ سال فروری میں گودھرا شہر کے ایک علاقے سے بھٹک کو گرفتار کیا تھا۔ وہ معاملے میں ملزم بنائے جانے کے بعد گودھرا سے فرار ہوگیا تھا اور یہاں لوٹنے سے پہلے مختلف شہروں میں رکا تھا۔

      خصوصی پبلک پراسیکیوٹر آر سی کوڈیکر نے کہا کہ بھٹک اس معاملے میں اب تک 35واں ملزم ہے، جسے عدالت نے قصور وار ٹھہرایا ہے۔ انہوں نے کہا، ’جج نے اپنا نام نہیں ظاہر کرنے کی گزارش کی ہے‘۔

      اس سے قبل، خصوصی ایس آئی ٹی عدالت نے اس معاملے میں یکم مارچ  2011 کو 31 لوگوں قصوروار ٹھہرایا تھا۔ ان میں سے 11 کو پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی جبکہ 20 کو عمر قید کی سزا دی گئی تھی۔

      گجرات ہائی کورٹ نے اکتوبر2017 میں خصوصی ایس آئی ٹی عدالت کے ذریعہ 20 قصورواروں کو دی گئی سزا کو برقرار رکھا تھا۔ باقی 11 قصورواروں کی موت کی سزا کو عمر قید میں بدل دیا گیا تھا۔ بعد میں، اس معاملے میں مزید تین لوگوں کو عمر قید کی سزا سنائی گئی۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: