ہوم » نیوز » وطن نامہ

گجرات فسادات: گلبرگ سوسائٹی متاثرین جلدہی سپریم کورٹ سے ہوسکتے ہیں رجوع۔۔ دیکھیں ویڈیو

سی بی آئی سے جانچ کروانے کا کرینگے مطالبہ

  • Share this:
گجرات فسادات: گلبرگ سوسائٹی متاثرین جلدہی سپریم کورٹ سے ہوسکتے ہیں رجوع۔۔ دیکھیں ویڈیو
سی بی آئی سے جانچ کروانے کا کرینگے مطالبہ

اجتماعی آبروریزی کیس کے متاثرہ بلقیس بانوکو ایک لمبی قانونی لڑائی لڑنے کے بعد آخر میں کامیابی حاصل ہو ہی گئی۔اور سپریم کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے بلقیس بانوکو 50 لاکھ کا معاوضہ سرکاری نوکری اور رہنے کے لئے گھر مہیا کروانے گجرات حکومت کو حکم جاری کیا ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد دوسرے فرقہ وارانہ فسادات کے متاثرین کا انصاف پر بھروسہ بڑھ گیا ہے


بلقیس بانو کو انصاف حاصل کرنے کے لئے ایک لمبی قانونی لڑائی لڑنی پڑی لیکن انصاف ضرورملا ۔ بلقیس کو ملنے والی اس کامیابی سے جہاں بلقیس خوش نظرآ رہی ہیں۔وہیں دوسرے فسادات متاثرین بھی اس فیصلے کاخیر مقدم کر اپنی خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔نرودا گاؤں فساد متاثر شریف ملک کا اس سلسلے میں کہنا ہے کہ بلقیس کو ملنے والے انصاف سے کورٹ پر ہمارا بھروسہ اوربڑھ گیا ہے اور انصاف کے لئے ہماری امید بھی کاقی بڑھ گئی ہے۔ شریف ملک کا کہنا ہے کہ جس طریقے کا معاوضہ دینے کا سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا ہے اس سے گجرات حکومت کو سبق حاصل کرنا چاہیے کیونکہ فسادات کے بعد ہمارے ساتھ مدد کے نام پر مذاق کیا گیا تھا۔وہیں اس معاملے کو لے کر جماعت اسلامی ہند کے گجرات یونٹ صدر شکیل احمد راجپوت نے اس فیصلے کو تاریخی فیصلہ بتایا اور کہا کہ اس فیصلے سے لوگوں میں کورٹ کے بھی احترام بڑھ گیاہے


گجرات میں 2002 میں صرف بلقیس کے ساتھ نا انصافی اور زیادتی نہیں ہوئی تھی بلکہ فساد کے شکار ہزاروں لوگ ہوئے تھے۔ فسادات میں گلبرگ سوسائٹی میں 69 لوگوں کو جلا کر ماردیاگیاتھا۔امتيازخان پٹھان کے خاندان کے دس لوگوں کی اس حادثے میں موت ہوئی تھی۔بلقیس کو ملنے والے انصاف کو لے کر وہ کہتے ہیں کہ ایس آئی ٹی اور گجرات پولیس کو جس طریقے سے معاملے کی تحقیقات کرنی تھی وہ نہیں کی گئی لہذا آج بھی کئی ملزم کھل عام گھوم رہے ہیں۔وہ اس معاملے کو لے کر کہتے ہیں کہ بلقیس کو انصاف دلوانے میں سی بی آئی کابڑااہم کرداررہاہے۔اس لئے گلبرگ سوسائٹی کے تمام متاثرین جلد ہی سپریم کورٹ میں ایک عرضی داخل کراس معاملے کی سی بی آئی سے جانچ کروانے کا مطالبہ کرنے والے ہیں۔وہیں اس معاملے کو لے کر نرودا گاؤں اور نرودا پاٹیا فساد متاثرین کے وکیل شمشاد خان پٹھان کا کہنا ہے کہ یہ بات صحیح ہے کہ اس فیصلے سے لوگوں کو حوصلہ ضرور ملا ہے۔لیکن فرقہ وارانہ فسادات کے دوران جانچ ایجنسیوں کے تحقیقات پر بھی سوال کھڑا ہوتا ہے۔ساتھ ہی ساتھ وہ کہہ رہے ہیں سپریم کورٹ نے ضرور تاریخی فیصلہ سنایا ہے لیکن کورٹ آج بھی ایسے معاملے کو سازش ماننے سے انکار کر رہی ہیں۔جبکہ کیس آئینے کی طرح صاف ہے۔۔


بلقیس بانو کو سپریم کورٹ سے انصاف تو مل گیا ہے لیکن نہ جانے کتنی بلقیس آج بھی گجرات میں موجود ہیں جو انصاف کی راہ دیکھ رہی ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ گجرات فسادات کے متاثرین مسلسل سوال اٹھاتے آئے ہیں کہ فسادات کیس کی غیر جانبدارانہ تفتیش ہونی چاہئے اگر ایسا پہلے ہو جاتا تو معاملہ میں سامل ملزمین کو سزا مل جاتی اور فساد متاثرین کو انصاف کے لئے اتنا لمبا انتظار نہیں کرنا پڑا۔لیکن آج فیصلہ آنے کے بعد کہا جاسکتاہے دیر سے آئے لیکن یہ دروست آئے۔
First published: Apr 26, 2019 12:40 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading