ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

گوالیئر ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ، کہا- تیسرا بچہ پیدا ہوا تو آپ نوکری کے لائق ہی نہیں، جانیں پورا معاملہ

Gwalior News: گوالیئر ہائی کورٹ (Gwalior High Court) کی ڈبل بینچ نے نوکری سے نا اہل قرار دیئے گئے اسسٹنٹ بیج سرٹیفیکیشن آفیسر لکشمن سنگھ بگھیل (Laxman Singh Baghel) کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تیسرا بچہ ہوا ہے تو آپ نوکری کے لائق ہی نہیں ہیں۔

  • Share this:
گوالیئر ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ، کہا- تیسرا بچہ پیدا ہوا تو آپ نوکری کے لائق ہی نہیں، جانیں پورا معاملہ
گوالیئر ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ، کہا- تیسرا بچہ پیدا ہوا تو آپ نوکری کے لائق ہی نہیں

گوالیئر: مدھیہ پردیش کے گوالیئر ہائی کورٹ (Gwalior High Court) کی ڈبل بینچ نے نوکری سے نا اہل قرار دیئے اسسٹنٹ بیج سرٹیفیکیشن آفیسر کی اپیل کو مسترد کردیا ہے۔ نوکری کے دوران تیسرا بچہ پیدا ہونے پر اسسٹنٹ بیج سرٹیفیکیشن آفیسر جو سرکاری خدمات میں نا اہل قرار دیا گیا تھا۔ اس حکم کے خلاف افسر نے ہائی کورٹ میں اپیل کی تھی۔ ہائی کورٹ نے اپیل خارج کرتے ہوئے کہا کہ 26 جنوری 2001 کو قانون نافذ ہوا ہے۔ اس کے بعد تیسرا بچہ ہوا تو سول سروس ایکٹ 1961 (Civil Services Act 1961) کے تحت سرکاری نوکری کے لئے نا اہل سمجھے جائیں گے۔ لہٰذا آپ نوکری کے لائق ہی نہیں ہیں۔


واضح رہے کہ سال 2009 میں ویاپم کے ذریعے منعقدہ اسسٹنٹ بیج سرٹیفیکیشن آفیسر کے امتحان لکشمن سنگھ بگھیل نے بھی دی تھی۔ لکشمن سنگھ بگھیل کا ممیرٹ لسٹ میں 7 ویں نمبر پر نام آیا تھا۔ خاص بات یہ ہے کہ فارم جمع کرنے کے دوران 30 جون 2009 کو لکشمن سنگھ بگھیل کے دو بچے تھے، وہیں 20 نومبر کو لکشمن سنگھ بگھیل کے گھر تیسرے بچے کی پیدائش ہوئی تھی۔ محکمہ کے ذریعہ جوائننگ کے وقت بگھیل کا ویریفیکیشن کیا گیا۔ انہوں نے جوائننگ کے وقت حلف نامہ میں تیسری اولاد کی بات کو چھپا لیا تھا، لیکن ڈومیسائل سرٹیفکیٹ اور راشن کارڈ میں تیسری اولاد کی جانکاری درج تھی۔ اسی بنیاد پر بعد میں معاملہ محکمہ کے علم میں آگیا، جس کے جواب میں لکشمن سنگھ نے حلف نامہ میں تیسرے بچے کی پیدائش 2012 میں بتائی تھی۔ ثبوت کو چھپانے کے سبب محکمہ نے لکشمن سنگھ کے خلاف ایف آئی آر کی سفارش کی تھی۔


ہائی کورٹ کی ڈبل بینچ سے بھی نہیں ملی راحت


عرضی گزار لکشمن سنگھ بگھیل نے کہا تھا کہ جب درخواست دی تھی اس وقت وہ دو بچوں کے والد تھے۔ امتحان دینے کے بعد تیسرے بچے کی پیدائش ہوئی ہے، اس لئے قانون اس کے اوپر نافذ نہیں ہوتا ہے۔ اس میں ترک تھا کہ امیدوار کی اہلیت درخواست جمع کرنے کی تاریخ سے مانی جاتی ہے۔ عرضی گزار کو تقرری کے بعد بچہ ہوا ہے، لہٰذا اسے غلط طریقے سے نا اہل قرار دیا ہے۔ سنگل بینچ نے عرضی کو مسترد کردیا تھا۔ اس کے بعد لکشمن سنگھ نے ڈبل بینچ میں اپیل دائر کی تھی۔

جسٹس شیل ناگو اور جسٹس آنند پاٹھک نے لکشمن سنگھ بگھیل کی رٹ اپیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں سنگل بینچ کے ذریعہ دیئے گئے حکم سے الگ نظریہ اپنائے جانے کی کوئی وجہ نہیں نظر آتی ہے، لہٰذا لکشمن سنگھ بگھیل کو کوئی راحت نہیں دی جاسکتی ہے۔ ساتھ ہی یہ کہتے ہوئے اپیل مسترد کردی کہ 26 جنوری 2001 کے بعد تیسرا بچہ ہوا، اسی بنیاد پر لکشمن سنگھ بگھیل نوکری کرنے کے لائق نہیں ہیں۔

 
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jul 14, 2021 08:57 AM IST