ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

گیان واپی مسجد معاملہ : مسلم تنظیموں کا مشترکہ بیان ، محکمہ آثار قدیمہ سے سروے کرانے کا فیصلہ حیرت انگیز

بیان میں کہا گیا ہے 8 اپریل کو بنارس کی ایک نچلی عدالت کی جانب سے گیان واپی مسجد بنارس کے متعلق یہ فیصلہ کہ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا مذکورہ مسجد کے احاطے کاسروے کرے ، حیرت انگیز بھی ہے، تشویش ناک بھی ہے اور کئی سوالات کو جنم دیتاہے۔

  • Share this:
گیان واپی مسجد معاملہ : مسلم تنظیموں کا مشترکہ بیان ، محکمہ آثار قدیمہ سے سروے کرانے کا فیصلہ حیرت انگیز
گیان واپی مسجد معاملہ : مسلم تنظیموں کا مشترکہ بیان ، محکمہ آثار قدیمہ سے سروے کرانے کا فیصلہ حیرت انگیز

نئی دہلی : نوید حامد، صدر آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت ، انجینیر سید سعادت اللہ حسینی، امیر جماعت اسلامی ہند، مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی، امیر جمیعت اہل حدیث ہند، ڈاکٹر منظور عالم، سیکریٹری جنرل آل انڈیا ملی کونسل ، مولانا توقیر رضا خان، چیئر مین اتحاد ملت کاؤنسل، ایڈووکیٹ فیروز احمد، صدر آل انڈیا مومن کانفرنس، ضیاء الدین نئیر، صدر تعمیر ملت حیدراباد کی جانب سے بنارس کی گیان واپی مسجد کو لے کر مشترکہ کا بیان جاری کیا گیا ہے۔جاری بیان میں کہا گیا ہے 8 اپریل کو بنارس کی ایک نچلی عدالت کی جانب سے گیان واپی مسجد بنارس کے متعلق یہ فیصلہ کہ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا مذکورہ مسجد کے احاطے کاسروے کرے ، حیرت انگیز بھی ہے، تشویش ناک بھی ہے اور کئی سوالات کو جنم دیتاہے۔


ملک میں عبادت گاہوں سے متعلق Places of Worship (Special Provision)  Act 1991 نافذ ہے۔ اس قانون کے تحت 1947 میں جن عبادت گاہوں کی جو حیثیت تھی وہ برقرار رہے گی۔ اس قانون کے ہوتے ہوئے بنارس کے فاسٹ ٹریک کورٹ کا یہ مشورہ کہ مسجد کے احاطے کا سروے کیا جائے ، حیرت ناک ہے اور 1991 کے قانون سے ٹکرانے والا فیصلہ ہے۔


اس فیصلہ کے سماجی اور سیاسی مضمرات بڑے ہی ناخوشگوار ہوسکتے ہیں۔ نفرت کی سیاست اور فرقہ وارانہ کشیدگی کو بڑھانے میں اس سے مدد مل سکتی ہے۔ 1991 کے قانون کے بعد عبادت گاہوں سے متعلق کسی بھی قسم کی ریشہ دوانی ملک اور ملک کے مفاد کے خلاف تصورکی جانی چاہئے اور اس قانون کے مغائر کی جانے والی سازشوں سے عدلیہ سمیت حکومت کے تمام اداروں کی جانب سے سختی سے نمٹنا چاہئے۔


ہم ملک کے تمام امن پسند، جمہوری اقدار پر اعتماد کرنے والے اور دستور کی بالا دستی کو تسلیم کرنے والے باشندگان سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ان رجحانات کے خلاف آواز اٹھائیں اور عبادت گاہوں کے تحفظ سے متعلق قانون اور اس کی اسپرٹ کے تحفظ کے لیے ہر ممکن کوشش کریں۔

بنارس کے مذکورہ کورٹ کے حالیہ فیصلے کو گیان واپی مسجد کمیٹی کی جانب سے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جارہا ہے۔ ہم ان کوششوں کی بھرپور تائید کرتے ہیں۔ ہم عامۃ المسلمین سے اپیل کرتے ہیں کہ گیان واپی مسجد کے مسئلہ پر مسلم پرسنل لا بورڈ کے مشورے و ہدایت اور رہنمائی کی پاسداری کریں۔ اپنے جذبات کو قابو میں رکھیں اور اِس بات کا خیال رکھا جائے کہ فیصلہ سے غیرسماجی اور سیاسی فائدہ اٹھانے والوں کو موقع فراہم نہ ہو۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Apr 10, 2021 09:53 PM IST