உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Gyanvapi Case:انجمن کی جانب سے بحث پوری، ہندو فریق نے رکھی دلیلیں، ضلع جج کی عدالت میں آج ہے اہم سماعت

    Gyanvapi Masjid Case: آج ہے اہم سماعت۔

    Gyanvapi Masjid Case: آج ہے اہم سماعت۔

    تقریباً ڈھائی گھنٹے کی عدالتی کارروائی کے بعد ڈسٹرکٹ جج ڈاکٹر اجے کرشنا وشویش نے سماعت کے لیے 13 جولائی کی تاریخ مقرر کی ہے۔ اس کیس میں دلائل اور بحث مکمل ہونے کے بعد ڈسٹرکٹ جج کی عدالت میں فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا یہ درخواست قابل سماعت ہے یا نہیں۔

    • Share this:
      Gyanvapi Case:گیانواپی کمپلیکس میں واقع شرینگار گوری کے باقاعدہ درشن اور دیگر دیوتاؤں کے تحفظ کے لیے دائر درخواست پر منگل کو ضلع جج کی عدالت میں مسلم فریق کی دلیلیں مکمل ہوئیں۔ اس کے بعد ہندو فریق نے اپنے دلائل شروع کر دیئے ہیں۔ تقریباً ڈھائی گھنٹے کی عدالتی کارروائی کے بعد ڈسٹرکٹ جج ڈاکٹر اجے کرشنا وشویش نے سماعت کے لیے 13 جولائی کی تاریخ مقرر کی ہے۔ اس کیس میں دلائل اور بحث مکمل ہونے کے بعد ڈسٹرکٹ جج کی عدالت میں فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا یہ درخواست قابل سماعت ہے یا نہیں۔

      سپریم کورٹ کے حکم پر ضلع جج کی عدالت میں جاری سماعت میں منگل کے روز انجمن انتظامیہ مسجد کمیٹی کی طرف سے وکیل ابھے ناتھ یادو نے آرڈر 7 رول 11 کے تحت دائر درخواست پر اپنے دلائل مکمل کئے۔ اس کے علاوہ پورے مدعی کے نکات پر بھی اپنی دلیل عدالت میں رکھی۔ ان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ جس زمین پر گیان واپی مسجد قائم ہے، اس کا حدود اور رقبہ 9130 کے مدعی میں متعین نہیں ہے۔ اس نے یہ بھی نہیں بتایا کہ یہ کس کی ملکیت ہے۔ دلائل کے دوران مسلم فریق نے کہا کہ بنیادی حق کے تحت ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی جائے۔ کیونکہ مقدمے میں کہا گیا ہے کہ مسجد مندر کو گرانے کے بعد بنائی گئی ہے، اس لیے کیس بے دخلی کا ہونا چاہیے۔ آخر میں مسلم فریق نے کہا کہ شرینگار گوری کے فوٹو کی نہیں بلکہ مورتی کی پوجا ہونی چاہیے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Udaipur killing case:اُدئے پور قتل معاملے میںNIAنے راجستھان میں کئی مقامات پرمارے چھاپے

      یہ بھی پڑھیں:
      Terrorist Attack Input:کانوڑ یاترا کے راستے پر پہلی بار ڈرون سے رکھی جائے گی نظر

      انجمن نے کہا کہ پوری جائیداد وقف بورڈ کی ہے۔ ایسے میں اس عدالت کے پاس سماعت کا دائرہ اختیار نہیں ہے، لیکن لکھنؤ میں قائم وقف بورڈ کو سماعت کا حق ہے۔ اس دوران ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کی نظیروں کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ کیس قابل سماعت نہیں ہے۔ انجمن انتظامیہ کی جانب سے ابھے ناتھ یادو، رئیس احمد، ممتاز احمد، اخلاق احمد، معراج الدین اور ہندو فریق کی جانب سے وشنوشنکر جین، شیوم گوڑ، مان بہادر سنگھ، سدھیر ترپاٹھی، سبھاش نندن چترویدی، انوپم دویدی، ہمانشو اور انوشکا تیواری، وہیں انتظامیہ کی جانب سے ڈی جی سی سول مہندر پرساد پانڈیہ، مدھوکر پانڈیہ، رانا سنجیو سنگھ، آشیش چوبے شامل رہے۔ حکومت کی جانب سے ڈی جی سی سول مہیندر پرساد پانڈے، مدھوکر پانڈے، رانا سنجیو سنگھ، آشیش چوبے شامل تھے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: