உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Gyanvapi Case: مسجد کمیٹی کا عدالت میں دعوی، گیانواپی مسجد وقف پراپرٹی ہے

    Gyanvapi Case: مسجد کمیٹی کا عدالت میں دعوی، گیانواپی مسجد وقف پراپرٹی ہے

    Gyanvapi Case: مسجد کمیٹی کا عدالت میں دعوی، گیانواپی مسجد وقف پراپرٹی ہے

    Gyanvapi Case: انجمن انتظامیہ مسجد کمیٹی نے منگل کو ضلع کورٹ میں دعوی کیا کہ گیان واپی مسجد وقف کی پراپرٹی ہے ۔ نیز اس نے یہ بھی دلیل دی کہ مسجد سے متعلق کسی بھی معاملے کی سماعت کا حق صرف وقف بورڈ کو ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Uttar Pradesh | Lucknow | Varanasi
    • Share this:
      وارانسی : انجمن انتظامیہ مسجد کمیٹی نے منگل کو ضلع کورٹ میں دعوی کیا کہ گیان واپی مسجد وقف کی پراپرٹی ہے ۔ نیز اس نے یہ بھی دلیل دی کہ مسجد سے متعلق کسی بھی معاملے کی سماعت کا حق صرف وقف بورڈ کو ہے۔ خیال رہے کہ ضلع کورٹ میں ہی گیانواپی ۔ شرنگار گوی کمپلیکس کیس کی سماعت ہورہی ہے ۔

       

      یہ بھی پڑھئے: دہلی ہائی کورٹ نے کہا : مسلم لا میں جوان لڑکی کو مرضی سے شادی کی اجازت


      انجمن انتظامیہ مسجد کمیٹی کے وکیل شمیم احمد نے کہا کہ انہوں نے ڈسٹرکٹ جج اے کے وشویش کی عدالت کو مطلع کیا کہ گیانواپی مسجد ایک وقف جائیداد ہے اور اس سے متعلق کسی بھی معاملے کی سماعت کا حق صرف وقف بورڈ کو ہے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ 1992 میں اتر پردیش حکومت اور وقف بورڈ کے درمیان ایک معاہدے کے بعد گیانواپی کمپلیکس کے ایک حصے کو پولیس کنٹرول روم میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔

       

      یہ بھی پڑھئے: پیغمبر اسلام کے خلاف متنازع تبصرہ معاملہ میں سخت کاروائی ہونی چاہئے: مولانا محمود مدنی


      شمیم احمد نے عدالت کو مزید بتایا کہ کاشی وشوناتھ کوریڈور کی تعمیر کے وقت ریاستی حکومت نے گیانواپی مسجد کی کچھ زمین لی اور اس کے بدلے ایک اور جگہ زمین فراہم کی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ گیانواپی مسجد ایک وقف جائیداد ہے ۔

      وہیں دوسری جانب ہندو فریق کے وکیل مدن موہن یادو نے کہا کہ دوسرا فریق ماضی میں کہی گئی باتوں کو ہی دہرا رہا ہے ۔ مدن موہن یادو نے دعویٰ کیا کہ انجمن انتظامیہ مسجد کمیٹی نے عدالت کو بتایا کہ 1669 میں اورنگ زیب نے مندر کو گرا کر اس جگہ پر مسجد بنائی تھی ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: