உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    گیان واپی مسجد کے تہہ خانہ کا ایک اور ویڈیو وائرل، ہندو فریق کا دعویٰ- یہ تو مندر کا ثبوت

    گیان واپی مسجد۔ (فائل فوٹو)

    گیان واپی مسجد۔ (فائل فوٹو)

    وائرل ویڈیو میں ایک نوجوان گلے میں وشوناتھ مندر کا پاس لٹکائے ہوئے نظر آرہا ہے۔ وہیں مسجد کا تہہ خانہ ملبے اور بانس بلیوں سے بھرا ہوا نظر آرہا ہے، جسے کچھ لوگ وہاں سے ہٹاتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ حالانکہ نیوز 18 اردو اس وائرل ویڈیو کی صداقت یا اس کے شوٹ کئے جانے کے وقت کی تصدیق ہرگز نہیں کرتا ہے۔

    • Share this:
      وارانسی: پورے ملک میں اس وقت بحث کا موضوع کاشی کے گیان واپی مسجد معاملے میں ہفتہ کے روز ایک ویڈیو خوب وائرل ہوتا ہوا نظر آیا۔ اس ویڈیو میں تہہ خانے کی تصاویر نظر آرہی ہیں۔ اس ویڈیو کو دیکھنے کے بعد ہندو فریق کا دعویٰ ہے کہ اس ویڈیو میں چمکدار انداز میں بنی چوکھٹ اور اس کے اوپری سرے کے علاوہ ایک نوجوان اور بانس-بلی ہٹاتے ہوئے کچھ لوگ نظر آرہے ہیں۔ اس ویڈیو کے ذریعہ ہندو طبقہ کے لوگ یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ یہ گیان واپی مسجد نہیں بلکہ مندر ہے۔ نیوز 18 اردو اس وائرل ویڈیو کی صداقت یا اس کے شوٹ کئے جانے کے وقت کی تصدیق ہرگز نہیں کرتا ہے۔

      موصولہ اطلاعات کے مطابق، یہ ویڈیو گیان واپی مسجد احاطے میں بنے دوسرے تہہ خانے کا ہے، جس میں سروے ٹیم کو جانے دینے سے مسلم فریق نے روک دیا تھا۔ اس کا پھر سے کیس چلا اور کورٹ کی اجازت کے بعد 14 مئی کو سروے ٹیم یہاں جاسکی۔ تہہ خانے میں نظر آرہے پلر اور بانس بلیوں کا حوالہ دے کر ہندو فریق اس کے مندر ہونے کا دعویٰ کر رہا ہے۔

      اس وائرل ویڈیو میں ایک نوجوان گلے میں وشوناتھ مندر کا پاس لٹکائے ہوئے نظر آرہا ہے۔ وہیں مسجد کا تہہ خانہ ملبے اور بانس بلیوں سے بھرا ہوا نظر آرہا ہے، جسے کچھ لوگ وہاں سے ہٹاتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔

      وہیں دوسری طرف کاشی وشو ناتھ مندر انتظامیہ اس ویڈیو کو کافی پرانا بتا رہا ہے۔ ان کے مطابق، ویڈیو میں دکھنے والا نوجوان ویاس فیملی سے جڑا ہے، جس کا نام آشوتوش ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ گیان واپی مسجد میں موجود جنوبی تہہ خانے میں ویاس فیملی کو سال میں ایک بار جانے کی اجازت دی جاتی ہے۔ یہ تصاویر اسی وقت کی ہیں۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: