உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Gyanvapi Case:عدالت نے سروے ٹیم کو رپورٹ فائل کرنے کے لئے دیا دو دن کا وقت، کورٹ کمشنر اجئے مشرا ہٹائے گئے

    Gyanvapi Masjid Case:۔ سروے رپورٹ کے لئے ٹیم کو ملی دو دن کی مہلت۔

    Gyanvapi Masjid Case:۔ سروے رپورٹ کے لئے ٹیم کو ملی دو دن کی مہلت۔

    بڑی خبر یہ ہے کہ اجے کمار مشرا کو کورٹ کمیشن سے ہٹا دیا گیا ہے۔ انہیں غیر ذمہ دارانہ کام اور عدم تعاون کے الزام میں ہٹایا گیا ہے۔ باقی دو کمشنروں کو دو دن کی مہلت مل گئی ہے۔ دوسری جانب دیوار گرانے کی درخواست پر فیصلہ آج کیا جائے گا۔

    • Share this:
      وارانسی: گیانواپی مسجد میں شیولنگ پائے جانے کی عدالت کی تصدیق کے بعد خصوصی وکیل کمشنر وشال سنگھ نے عدالت میں درخواست دی ہے اور کہا ہے کہ سروے رپورٹ ابھی تیار نہیں ہے، اس لیے انہیں رپورٹ پیش کرنے کے لیے مزید دو دن کا وقت دیا جائے۔

      سروے ٹیم کو رپورٹ داخل کرنے کے لئے ملی دو دن کی مہلت
      بڑی خبر یہ ہے کہ اجے کمار مشرا کو کورٹ کمیشن سے ہٹا دیا گیا ہے۔ انہیں غیر ذمہ دارانہ کام اور عدم تعاون کے الزام میں ہٹایا گیا ہے۔ باقی دو کمشنروں کو دو دن کی مہلت مل گئی ہے۔ دوسری جانب دیوار گرانے کی درخواست پر فیصلہ آج کیا جائے گا۔ تالاب سے مچھلیاں ہٹانے کا فیصلہ بھی کل آئے گا۔ اس کے ساتھ ہی سروے ٹیم کو رپورٹ داخل کرنے کے لیے دو دن کا وقت مل گیا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      درگاہ کے پاس ہنومان جی کی مورتی لگانے پر ہنگامہ، شرپسندوں نے کیا پتھراؤ، دفعہ 144 نافذ

      یہ بھی پڑھیں:
      Gyanvapi Mosque Survey: سپریم کورٹ پہنچا مسلم فریق، داخل کی عرضی، آج ہو سکتی ہے سماعت

      ایسے معاملوںکو بھاجپا اور ان کے معاونین کی جانب سے بھڑکایا جارہا ہے
      گیانواپی معاملے میں ایس پی سربراہ اکھلیش یادو نے کہا کہ گیانواپی جیسے واقعات کو جان بوجھ کر بی جے پی یا ان کے اتحادیوں کی طرف سے بھڑکایا جا رہا ہے۔ ایندھن اور خوراک کی سہولیات مہنگی ہو رہی ہیں۔ مہنگائی اور بے روزگاری پر ان کے پاس کوئی جواب نہیں۔ بی جے پی کے پاس ایسے مدعوں کو اٹھانے کے لئے نفرت والا کیلنڈر ہے۔ جب ہم ایسی بحثوں میں پھنس جاتے ہیں تو پتہ بھی نہیں چلتا کہ ملک کی کون سی جائیداد بیچی گئی ہے۔ بی جے پی نے 'ایک ملک ایک راشن' کا نعرہ لگایا تھا لیکن لگتا ہے کہ وہ 'ایک قوم ایک بزنس مین' کے لیے کام کر رہی ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: