உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Gyanvapi Case:وارانسی عدالت میں آج پہلی سماعت، کاشی وشواناتھ مندر کے مہنت بھی شیولنگ کی پوجا کے لئے عدالت میں دائر کریں گے کیس

    فائل فوٹو

    فائل فوٹو

    کاشی وشواناتھ مندر کے مہنت وائس چانسلر گیانواپی میں پوجا کے لیے وارانسی کی عدالت میں درخواست دائر کریں گے، جب کہ انتظامی کمیٹی سروے رپورٹ کے لیک ہونے کے معاملے میں قانونی کارروائی کا مطالبہ کرے گی۔

    • Share this:
      Gyanvapi Mosque Case: گیانواپی مسجد شرینگار گوری تنازعہ کی سیشن کورٹ سے منتقلی کے بعد آج پہلی بار ضلع عدالت میں سماعت ہوگی۔ یہ کیس پہلی بار ڈسٹرکٹ جج اجے کمار وشویش کی عدالت میں اوپن ہوگا اور اس کیس کی روزانہ سماعت بھی کی جاسکتی ہے کیونکہ سپریم کورٹ نے ضلعی عدالت کو 8 ہفتوں میں سماعت مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے۔

      دراصل ہندو فریق کا مطالبہ ہے کہ نندی کے سامنے والی دیوار کو گرا دیا جائے، جب کہ مسلم فریق کا کہنا ہے کہ جسے شیولنگ جو بتایا جا رہا ہے وہ فوارہ ہے۔ ہندو فریق نے مطالبہ کیا ہے کہ مسجد میں پائے جانے والے مندروں کی نشانیوں کی تحقیقات کو آگے بڑھایا جائے، لیکن مسلم فریق کا مؤقف ہے کہ مسجد میں کسی قسم کی توڑ پھوڑ یا تفتیش نہیں ہونی چاہیے۔

      ایسے میں اب ضلعی عدالت دونوں فریقین کی نئے سرے سے سماعت کرے گی۔ دریں اثنا، کاشی وشواناتھ مندر کے مہنت وائس چانسلر گیانواپی میں پوجا کے لیے وارانسی کی عدالت میں درخواست دائر کریں گے، جب کہ انتظامی کمیٹی سروے رپورٹ کے لیک ہونے کے معاملے میں قانونی کارروائی کا مطالبہ کرے گی۔ کاشی وشوناتھ مندر کے مہنت بھی شیولنگ کی پوجا کے لیے وارانسی کی عدالت میں مقدمہ دائر کریں گے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      عدالت میں قانون پر بھاری پڑسکتا ہے آئینی حق، 1991 کے عبادت گاہ قانون پر چھڑی ہے بحث

      یہ بھی پڑھیں:
      گیان واپی مسجد کے تہہ خانہ کا ایک اور ویڈیو وائرل، ہندو فریق کا دعویٰ- یہ تو مندر کا ثبوت

      مسلم فریق کے وکیل نے عبادت گاہوں کے ایکٹ 1991 کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایکٹ کی دفعہ 3 کے تحت کسی مذہبی مقام کے کردار کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ اس پر بنچ کے چیئرمین جسٹس چندر چوڑ نے انہیں روکا اور کہا کہ کسی جگہ کے مذہبی کردار کو جاننے کی کوشش کرنا دفعہ 3 کی خلاف ورزی نہیں ہے۔ ایک مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر کسی پارسی عبادت گاہ میں عیسائی مذہبی علامت کراس کو رکھا جائے اور معاملہ عدالت میں آجائے تو جج اس جگہ کی مذہبی حیثیت کا جائزہ لے سکتا ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: