உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Gyanvapi Masjid Dispute:سپریم کورٹ اکتوبر میں کرے گا سماعت، جانیے کس فریق نے کیا کہا؟

     گیان واپی مسجد معاملے پر سپریم کورٹ میں ہورہی ہے سماعت۔

    گیان واپی مسجد معاملے پر سپریم کورٹ میں ہورہی ہے سماعت۔

    Gyanvapi Masjid Dispute: گیانواپی کیمپس میں پائے جانے والے شیولنگ پر بحث شروع کرتے ہوئے ایڈوکیٹ ہری شنکر جین نے کہا کہ گیانواپی کمپلیکس میں پائے جانے والے شیولنگ کی اے ایس آئی سے کاربن ڈیٹنگ کرائی جائے۔ اس پر سپریم کورٹ کے ججز نے کہا کہ آپ ایک سمجھدار وکیل ہیں، آپ درخواست میں کیا مطالبہ کر رہے ہیں؟

    • Share this:
      Gyanvapi Masjid Dispute: گیانواپی کیس کی سماعت جمعرات کو سپریم کورٹ میں شروع ہوئی ہے۔ جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ، جسٹس سوریہ کانت، جسٹس پی ایل نرسمہا کی بنچ نے سماعت کی۔ عدالت میں مسجد کمیٹی کی جانب سے بتایا گیا کہ نچلی عدالت میں رول 7/11 کے تحت بحث چل رہی ہے۔ سپریم کورٹ نے مسجد کے فریق سے کہا کہ نچلی عدالت کا حکم آنے دیں۔ ہم آپ کا قانونی راستہ کھلا رکھیں گے۔ فرض کریں اگر نچلی عدالت کا فیصلہ آپ کے خلاف جاتا ہے تو آپ کے پاس قانونی آپشن موجود ہے۔

      سماعت کے دوران احمدی مسجد کمیٹی کی جانب سے وکیل حذیفہ احمدی نے بھی سروے کمیشن کی تقرری کے بارے میں بحث کی۔ اس دوران انہوں نے عدالت کو بتایا کہ اس معاملے میں کمشنر کی تقرری درست نہیں ہے۔ یہ کمشنر کی تقرری کا معاملہ نہیں ہے۔ کمشنر کی تقرری کے لیے ہائی کورٹ کا حکم درست نہیں تھا۔ اس کے بعد اب حذیفہ احمدی نے کورٹ کمشنر کی تقرری سے متعلق قانونی دفعات پڑھ کر سنائیں۔ حذیفہ احمدی نے کہا کہ اگر ہم یہ ثابت کرتے ہیں کہ کمشنر کا تقرر نہیں ہونا چاہیے تھا تو ان کی رپورٹ کو ریکارڈ سے ہٹا دیا جائے۔ اس پر جسٹس چندر چوڑ نے کہا کہ 11-7 واضح ہے اور نچلی عدالت میں کارروائی جاری ہے۔

      جسٹس چندر چوڑ نے کہا کہ ہم نچلی عدالت کو ہدایت جاری کرتے ہیں کہ وہ ترجیحی بنیاد پر سماعت مکمل کرے اور فیصلہ کرے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ آپ کمشنر کی رپورٹ کی بات کر رہے ہیں۔ جب ٹرائل کورٹ کے روبرو کمشنر کی رپورٹ کو رکھا جائے گا تب بھی آپ اپنی بات رکھ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ عدالت نے سوال کیا کہ آپ کا اعتراض ہے کہ کمشنر آپ کی مرضی کے بغیر تعینات کیا گیا ہے؟ اس پر ایڈوکیٹ احمدی نے کہا کہ ہم نے پہلے کمیشن کی تقرری پر اعتراض درج کرایا تھا۔ پھر نچلی عدالت نے اسے مسترد کر دیا، پھر ہم ہائی کورٹ گئے۔

      سپریم کورٹ نے کہا کہ ہم نچلی عدالت سے کہیں گے کہ وہ سماعت کے دوران وہ ہائی کورٹ کے حکم کو متاثر کیے بغیر معاملے کی سماعت کرے۔ تو اب سپریم کورٹ میں اپنی پٹیشن کو زیر التوا رکھنے کا کیا مطلب ہے؟ اس پر احمدی نے کہا کہ اس معاملے میں سماعت کی ضرورت ہے۔ ہم نے ہائی کورٹ کے حکم کو چیلنج کیا ہے۔ ہم اپنا موقف عدالت کے سامنے رکھیں گے۔ اس پر جسٹس نرسمہا نے مسجد فریق کے وکیل حذیفہ احمدی سے پوچھا کہ کیا آپ نے کمشنر کی تقرری سمیت دیگر مسائل پر اپنا اعتراض ضلع جج کو دیا ہے؟

      اس پر ہندو فریقوں کے سی ایس ویدیا ناتھن نے کہا کہ وہاں ابھی یہ مسئلہ ہی نہیں ہے۔ انہیں کمشنر کی تقرری کے عدالتی اختیار کو چیلنج کرنے کا حق نہیں ہے۔ اس پر سپریم کورٹ نے کہا کہ ہم مسجد سائیڈ کی درخواست کو نمٹا نہیں رہے ہیں۔ سب سے پہلے، نچلی عدالت کو آرڈر 7 رول 11 پر فیصلہ کرنے دیا جائے۔ معاملے کی سماعت اکتوبر میں ہوگی۔

      اس کے بعد سپریم کورٹ نے گیانواپی معاملے میں دائر دوسری درخواست کی سماعت کی، جس میں پوجا کی مانگ کی گئی ہے۔ عرضی گزار نے کہا کہ وہ ساون کے مہینے میں گیانواپی کیمپس میں پائے جانے والے شیولنگ پر ’جل چڑھانا‘چاہتے ہیں۔ اس پر سپریم کورٹ نے کہا کہ مقدمہ ابھی زیر التوا ہے۔ ہم آپ کو اس طرح کیسے سنیں؟ آپ اپنی پٹیشن واپس لے لیں۔

      یہ بھی پڑھیں:

      جرنلسٹ محمد زبیر تہاڑ جیل سے رہا، سپریم کورٹ نے دی یوپی میں درج سبھی معاملوں میں ضمانت

      یہ بھی پڑھیں:
      National Herald Case: سونیاگاندھی سےپوچھ تاچھ جاری، کانگریس کااحتجاج،اہم لیڈروں کی گرفتاری

      اس کے علاوہ گیانواپی کیمپس میں پائے جانے والے شیولنگ پر بحث شروع کرتے ہوئے ایڈوکیٹ ہری شنکر جین نے کہا کہ گیانواپی کمپلیکس میں پائے جانے والے شیولنگ کی اے ایس آئی سے کاربن ڈیٹنگ کرائی جائے۔ اس پر سپریم کورٹ کے ججز نے کہا کہ آپ ایک سمجھدار وکیل ہیں، آپ درخواست میں کیا مطالبہ کر رہے ہیں، سوٹ پر بحث کی سماعت کے دوران آپ اس کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔ آپ آرٹیکل 32 کے تحت کوئی مطالبہ نہیں کر سکتے۔ اس کے بعد سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا کہ درخواست گزار اپنی درخواست واپس لے رہے ہیں۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: