உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Gyanvapi Row:گیانواپی مسجد تنازعہ میں سماعت کرنے والے جج کا ہوا تبادلہ، سروے کرنے کا دیا تھا حکم

    Gyanvapi Case: گیانواپی تنازعہ کی سماعت کرنے والے جج کا ہوا ٹرانسفر۔

    Gyanvapi Case: گیانواپی تنازعہ کی سماعت کرنے والے جج کا ہوا ٹرانسفر۔

    Gyanvapi Row: اس سے پہلے سول جج (سینئر ڈویژن) روی کمار دیواکر (Ravi Kumar Diwakar) کو بھی دھمکی آمیز خط موصول ہوا تھا۔ جج دیواکر نے اس سلسلے میں ایڈیشنل چیف سکریٹری (ہوم)، ڈائرکٹر جنرل آف پولیس اور پولس کمشنر وارانسی کو خط لکھ کر موصول ہونے والی دھمکی کی اطلاع دی تھی۔

    • Share this:
      Gyanvapi Row: وارانسی کے گیانواپی تنازعہ کی سماعت کرنے والے جج روی کمار دیواکر کا تبادلہ کر دیا گیا ہے۔ سینئر ڈویژن سول جج روی کمار دیواکر کا وارانسی سے بریلی تبادلہ کر دیا گیا ہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ کی سالانہ ٹرانسفر لسٹ میں روی کمار دیواکر کا نام بھی شامل ہے۔ بتادیں کہ سینئر ڈویژن کے 121 سول ججوں کا تبادلہ کر دیا گیا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Big News:۔ 16 سال کی مسلم لڑکی اپنی مرضی سے کرسکتی ہے شادی : پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ

      گیانواپی تنازعہ کی سماعت روی کمار دیواکر ہی کر رہے تھے۔ سپریم کورٹ کے حکم پر سماعت اب ڈسٹرکٹ جج کو منتقل کر دی گئی ہے۔ قبل ازیں روی کمار دیواکر نے متنازعہ احاطے کے کمیشن کے سروے کا حکم دیا تھا۔ سروے کے آخری دن شیولنگ ملنے کے دعوے پر گیانواپی مسجد کے وضوخانہ کو سیل کرنے کے احکامات بھی دیے تھے۔ تمام ٹرانسفر ہونے والے ججوں کو 4 جولائی کی سہ پہر تک اپنی ذمہ داریاں سنبھالنی ہوں گی۔ الہ آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار جنرل آشیش گرگ نے ٹرانسفر لسٹ جاری کی ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      اقلیتی طلبا کے تعلیمی حقوق سے متعلق مسلم تنظیموں کا تحریک جاری رکھنے کا اعلان

      یہ بھی پڑھیں:
      مذہبی عبادت گاہوں سے متعلق قانون سے چھیڑچھاڑ انتہائی خطرناک: مولانا ارشد مدنی

      جج روی کمار دیواکر کو ملا تھا دھمکی بھرا خط
      بتا دیں کہ اس سے پہلے سول جج (سینئر ڈویژن) روی کمار دیواکر (Ravi Kumar Diwakar) کو بھی دھمکی آمیز خط موصول ہوا تھا۔ جج دیواکر نے اس سلسلے میں ایڈیشنل چیف سکریٹری (ہوم)، ڈائرکٹر جنرل آف پولیس اور پولس کمشنر وارانسی کو خط لکھ کر موصول ہونے والی دھمکی کی اطلاع دی تھی۔ حکام کو بھیجے گئے خط میں دیواکر نے لکھا کہ یہ خط انہیں اسلامک آغاز موومنٹ کی جانب سے کاشف احمد صدیقی نے بھیجا ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: