உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    حبیب گنج اسٹیشن کا نام اب ہوگا رانی کملا پتی ریلوے اسٹیشن، مودی حکومت نے دی منظوری

    حبیب گنج اسٹیشن کا نام اب ہوگا رانی کملا پتی ریلوے اسٹیشن

    حبیب گنج اسٹیشن کا نام اب ہوگا رانی کملا پتی ریلوے اسٹیشن

    Habibganj Railway Station renamed as Rani Kamlapati Railway Station: حبیب گنج ریلوے اسٹیشن کا نام اب رانی کملا پتی ریلوے اسٹیشن ہوگا۔ حبیب گنج اسٹیشن کا نام بدلنے کی تجویز کو منظوری دے دی گئی ہے۔ 15 نومبر کو وزیر اعظم نریندر مودی خود اس اسٹیشن کا افتتاح کریں گے۔ وہ اس کے نئے نام کا باضابطہ اعلان بھی کرسکتے ہیں۔

    • Share this:
      بھوپال: ملک کے پہلے ورلڈ کلاس حبیب گنج اسٹیشن کے نام بدلنے کی تجویز کو منظوری مل گئی ہے۔ حبیب گنج اسٹیشن کا نام اب رانی کملا پتی اسٹیشن ہوگا۔ مانا جا رہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی 15 نومبر کو اس اسٹیشن کے افتتاح کے دوران اس کے نئے نام کا رسمی اعلان بھی کرسکتے ہیں۔ اس سے پہلے مدھیہ پردیش حکومت کے محکمہ ٹرانسپورٹ کی طرف سے ایک تجویز مرکزی وزارت داخلہ کو بھیجی گئی تھی، جس میں یہ کہا گیا تھا کہ حبیب گنج اسٹیشن کا نام بدل کر رانی کملاپتی کیا جانا چاہئے۔ اب اس تجویز کو منظوری مل گئی ہے اور اسٹیشن کا نام بدل دیا گیا ہے۔

      قابل ذکر ہے کہ اس سے پہلے بی جے پی کے کچھ اہم لیڈروں کی طرف سے حبیب گنج ریلوے اسٹیشن کا نام بدل کر سابق وزیر اعظم آنجہانی اٹل بہاری واجپئی کے نام پر کئے جانے کا مطالبہ اٹھا تھا۔ بی جے پی کے سابق وزیر جے بھان سنگھ پویا اور سابق راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ پربھات جھا کے علاوہ رکن پارلیمنٹ پرگیہ ٹھاکر نے بھی نام بدلنے کا مطالبہ کیا تھا۔ حبیب گنج اسٹیشن کا نام تو بدلا جا رہا ہے، لیکن وہ آنجہانی اٹل بہاری واجپئی پر نہ ہوکر گونڈ رانی، رانی کملا پتی پر کیا جائے گا۔ اس کے پیچھے وجہ آدیواسیوں کو لبھانے کی بھی کوشش ہو رہی ہے۔

      ملک کے پہلے ورلڈ کلاس حبیب گنج اسٹیشن کے نام بدلنے کی تجویز کو منظوری مل گئی ہے۔ حبیب گنج اسٹیشن کا نام اب رانی کملا پتی اسٹیشن ہوگا۔
      ملک کے پہلے ورلڈ کلاس حبیب گنج اسٹیشن کے نام بدلنے کی تجویز کو منظوری مل گئی ہے۔ حبیب گنج اسٹیشن کا نام اب رانی کملا پتی اسٹیشن ہوگا۔


      ملک کا پہلا ماڈل اسٹیشن

      حبیب گنج ریلوے اسٹیشن پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ملک کا پہلا ماڈل اسٹیشن ہے۔ بھوپال ڈی آر ایم سوربھ بندھوپادھیائے نے کہا ہے کہ حبیب گنج اسٹیشن پر لوگوں کو ہر سہولت ملے گی، جو کسی بین الاقومی سطح کے ایئر پورٹ پر مسافروں کو ملتی ہے۔ حبیب گنج اسٹیشن پر لوگ بغیر بھیڑ بھاڑ کے ٹرین کی برتھ تک پہنچ سکیں گے۔ جو مسافر اسٹیشن پر اتریں گے، وہ بھی دو الگ الگ شاہراہوں کے ذریعہ اسٹیشن کے باہر سیدھے نکل جائیں گے۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      ہندوستان اور پاکستان کی کرکٹ ٹیم اب میڈل کے لئے کریں گی مقابلہ، مقابلے کی تاریخ طے


      کون ہیں رانی کملا پتی؟

      16 ویں صدی میں بھوپال گونڈ حکمرانوں کے ماتحت تھا۔ اس وقت گونڈ راجا سورج سنگھ شاہ کے بیٹے نظام شاہ سے رانی کملاپتی کی شادی ہوئی تھی۔ سال 1710 میں بھوپال کی اوپری جھیل کے آس پاس کا علاقہ بھیل اور گونڈ آدیواسیوں نے آباد کیا تھا۔ اس وقت گونڈ سرداروں میں نظام شاہ سب سے مضبوط مانے جاتے تھے۔ آدیواسیوں میں رانی کملا پتی کی بہادری کے قصوں کی اکثر چرچا ہوتی ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: