اپنا ضلع منتخب کریں۔

    نصیحت کرنے کی عادت، ایسے رجحان کے خلاف دو ٹوک جواب دینا ہے ضروری

    روچیرا کمبوج۔Ruchira Kamboj

    روچیرا کمبوج۔Ruchira Kamboj

    ہندوستان کو اس پر گہرائی سے دھیان دینا ہوگا کہ گزشتہ کچھ عرصے سے مختلف موضوعات پر جو کوئی تحقیق اور سروے آئے ہیں اور جن میں ہندوستان کو کم تر دکھایا گیا ہے، وہ واقعی تعصب سے پیدا ہوئے ہیں۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • New Delhi, India
    • Share this:
      سیکورٹی کونسل کی صدارت سنبھالنے کا موقع ملنے پر ایک اطالوی صحافی کے سوال کے پر اقوام متحدہ میں ہندوستان کی مستقل نمائندہ روچیرہ کمبوج نے یہ صحیح کہا کہ جمہوریت اور پریس کی آزادی کو لے کر کسی کو بھی نصیحت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ایسے کسی دو ٹوک جواب کی ضڑورت اس لیے تھی، کیونکہ جیسے جیسے ہندوستان کا قد بڑھتا جارہا ہے، ویسے ویسے مغربی ممالک اور وہاں کی مختلف تنظیموں میں جمہوریت، پریس کی آزادی، انسانی حقوق، اقلیتوں کے حقوق و دیگر کو لے کر ہندوستان کو نصیحت دینے کا رجحان بڑھتا دیکھا جارہا ہے۔ یہ اور کچھ نہیں، یہ مغرب کی برتری کے جنون میں مبتلا ہونے کی ذہنیت کا اظہار ہے۔

      پتہ نہیں کیوں مغرب اور خاص طور سے وہاں کے میڈیا کے ایک حصے کو یہ لگتا ہے کہ ہر معاملے میں اس نے جو قوانین بنائے رکھے ہیں، وہ ہی برتر ہیں اور پوری دنیا کو ان پر ہی عمل کرنا چاہیے۔ یہ اس ذہنیت کا بھی عکاس ہے کہ ہندوستان جیسے ترقی پذیر ملک کو مغرب سے سب کچھ سیکھنے کی بھی ضرورت ہے۔ چونکہ یہ ذہنیت دھیرے دھیرے تعصب میں بدل رہی ہے اس لیے اس کا مقابلہ کرنا ضروری ہے۔ ہندوستان اس بات کو نظر انداز نہیں کر سکتا کہ مغربی میڈیا یہ دیکھنے کے لیے تیار نہیں کہ اس نے خود کس طرح دوہرا معیار اپنا رکھا ہے؛ ایک اپنے لیے اور دوسرا باقی دنیا کے لیے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      ہندوستان کے جی 20 صدر بننے پر خوش ہوئے بائیڈن، کہا: وزیراعظم مودی کی کروں گا حمایت

      یہ بھی پڑھیں:
      دہلی شراب گھوٹالہ: تلنگانہ کے وزیر اعلی کی بیٹی کو سی بی آئی کا سمن، پوچھ گچھ کیلئے بلایا

      ہندوستان کو اس پر گہرائی سے دھیان دینا ہوگا کہ گزشتہ کچھ عرصے سے مختلف موضوعات پر جو کوئی تحقیق اور سروے آئے ہیں اور جن میں ہندوستان کو کم تر دکھایا گیا ہے، وہ واقعی تعصب سے پیدا ہوئے ہیں۔ ابھی حال میں جاری بھکمری انڈیکس اس تعصب کی تازہ مثال ہے۔ اس انڈیکس میں سری لنکا کو ہندوستان سے بہتر حالت میں دکھایا گیا ہے اور وہ بھی تب، جب حکومت ہند نے اس پڑوسی ملک کو غذا کے بحران سے ابھرنے میں مدد کی۔ اس انڈیکس میں پاکستان کو بھی ہندوستان سے آگے رکھا گیا، جب کہ وہاں کھانے پینے کی اشیا کی آسمان چھوتی قیمتوں اور بڑھتی مہنگائی نے عام لوگوں کا جینا مشکل کر رکھا ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: