ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

اردو زندہ ہے، قیامت تک زندہ رہے گی، شاعر اطفال حافظ حسین کرناٹکی کا بیان

حافظ کرناٹکی کی 90 سے زائد کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ ان میں زیادہ تر کتابیں بچوں کے ادب سے وابستہ ہیں۔ حافظ کرناٹکی شعر و ادب کے ساتھ تعلیمی میدان میں بھی نمایاں خدمات انجام دیتے ہوئے آرہے ہیں۔

  • Share this:
اردو زندہ ہے، قیامت تک زندہ رہے گی، شاعر اطفال حافظ حسین کرناٹکی کا بیان
اردو زندہ ہے، قیامت تک زندہ رہے گی، شاعر اطفال حافظ حسین کرناٹکی کا بیان

بنگلورو: بچوں کیلئے نظمیں، غزلیں، افسانے، کہانیاں تحریر کرتے ہوئے، بچوں کی دنیا کو سجانے سنوارنے والے شاعر امجد حسین حافظ کرناٹکی کی خدمات کا ساہتیہ اکیڈمی، نئی دہلی نے اعتراف کیا ہے۔ آپ کی کتاب فخر وطن کو سال 2020 کے ساہتیہ اکیڈمی بال پرسکار کیلئے منتخب کیا گیا ہے۔ حافظ کرناٹکی کا تعلق شیموگہ کے شکاری پور سے ہے۔ انہوں نے اپنی علمی، تعلیمی، ادبی خدمات کے ذریعہ شکاری پور کو مانو گلشن اطفال بنا ڈالا ہے۔


حافظ کرناٹکی کی 90 سے زائد کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ ان میں زیادہ تر کتابیں بچوں کے ادب سے وابستہ ہیں۔ حافظ کرناٹکی شعر و ادب کے ساتھ تعلیمی میدان میں بھی نمایاں خدمات انجام دیتے ہوئے آرہے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ آپ اپنے تعلیمی ادارے زبیدہ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوٹ، شکاری پور میں زیر تعلیم بچوں میں اردو زبان و ادب کو پروان چڑھا رہے ہیں، بچوں میں ادبی ذوق و شوق کو فروغ دے رہے ہیں۔

بال ساہتیہ پرسکارکیلئے ان کی کتاب فخر وطن کے انتخاب کے بعدحافظ کرناٹکی نے نیوز 18 اردو سے خاص بات چیت کی۔

ڈاکٹر امجد حسین حافظ کرناٹکی نےکہا کہ وہ سب سے پہلے اللہ تعالٰی کا شکر بجا لاتے ہیں۔ انہوں نےکہا کہ وہ کسی اعزاز یا ایوارڈ کی پرواہ کئے بغیر اپنی ادبی خدمات کو انجام دیتے ہوئے آرہے ہیں۔ سال 2015  میں شائع ان کی کتاب فخر وطن کو ساہتیہ اکیڈمی نے ایوارڈ کیلئے منتخب کیا ہے۔ اس کتاب میں ملک کی چند اہم تاریخی شخصیات کی حیات و خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے انہیں بچوں کیلئے رول ماڈل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ خان عبدالغفار خان، سروجنی نائیڈو، سی وی رمن، لال بہادر شاستری، سروپلی رادھا کرشنن اور راجا رام موہن رائے جیسی اہم ترین شخصیات کے بچپن اور جوانی کے کارناموں کو فخر وطن میں پیش کیا گیا ہے۔

حافظ کرناٹکی نے کہا کہ بچوں کو ترغیب دینے، ان کے حوصلوں اور عزائم کو بلند کرنے، انہیں اپنے اسلاف کی زندگی کے اہم واقعات اورگوشوں سے واقف کروانے کیلئے انہوں نے کئی کتابیں تحریرکی ہیں، جن میں فخر وطن، معماران وطن، قومی رہنما، حضرت ٹیپو سلطان شہید اور دیگر کتابیں شامل ہیں۔

 حافظ کرناٹکی کی 90 سے زائد کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ ان میں زیادہ تر کتابیں بچوں کے ادب سے وابستہ ہیں۔

حافظ کرناٹکی کی 90 سے زائد کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ ان میں زیادہ تر کتابیں بچوں کے ادب سے وابستہ ہیں۔


موجودہ دور میں اردو طبقہ کے زیادہ تر بچے انگریزی میڈیم اسکولوں میں زیرتعلیم ہیں، ان بچوں کو اردو زبان و ادب کی جانب کیسے مائل کیا جائے؟ اس سوال پر حافظ کرناٹکی کہتے ہیں کہ اردو زندہ ہے اور قیامت تک زندہ رہے گی۔  مذہب اسلام کا سب سے بڑا سرمایہ جب اردو زبان میں موجود ہے تو آخر اردو کیسے مٹے گی؟ حافظ کرناٹکی نے کہا کہ ہرجمعہ کی نماز میں لوگ اردو زبان میں خطبہ سنتے ہیں نہ کہ انگریزی اور کنڑی زبانوں میں، گھروں، بازاروں، تقریبوں میں اردو والے بھلے ہی انگریزی میڈیم میں پڑھتے ہوں، اردو میں ہی بات چیت کرتے ہیں، تو اس زبان پرکبھی زوال نہیں آسکتا۔ انہوں نےکہا کہ یہ اور بات ہے کہ معاش کی خاطر، ملازمت کیلئے اردو کے طلباء و طالبات دیگر زبانوں میں تعلیم حاصل کررہے ہیں، لیکن انہیں اپنی مادری زبان سے محبت ضرور ہے۔
حافظ کرناٹکی کہتے ہیں کہ مادری زبان کےمتعلق بیداری پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر تھوڑی سی بیداری پیدا کی جائے، تو وہ نوجوان جو ڈاکٹر ہے، اس کے ہاتھوں میں اردو کتاب ضرورنظر آئے گی، اگرکوئی انجنئیر ہے، وہ بھی اپنے فرصت کے لمحات میں اردو شعر و ادب سے استفادہ کرے گا۔ اگرکوئی سرکاری افسر ہے وہ بھی اردو پڑھنا اور سیکھنا پسند کرے گا۔
کرناٹک اردو اکیڈمی کے سابق چیئرمین حافظ کرناٹکی نے کہا کہ ملک بھر میں پھیلے دینی مدارس اردو زبان و ادب کے فروغ میں اہم رول ادا کررہے ہیں۔ دینی مدارس سے فارغ طلبہ اپنی تحریروں اور تقریروں کے ذریعہ اردو کو عام کررہے ہیں۔ حافظ کرناٹکی نے کہا کہ اس لحاظ سے اردو کے مستقبل کے سلسلے میں مایوس ہونے کی قطعی ضرورت نہیں ہے۔ تاہم اردو کے فروغ کیلئے کوششیں جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔
حافظ کرناٹکی نے اپنے تعلیمی ادارے زبیدہ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوٹ کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہاں انگریزی میڈیم کے طلبہ اردو کو ایک مضمون کی حیثیت سے پڑھ رہے ہیں۔ یہاں طلبہ اردو بولتے ہیں،  پڑھتے ہیں اور لکھتے ہیں۔ کئی طالبات کو 300 اشعار تک یاد ہیں، پچاس پچاس نعتیں بھی طلبہ کو از بر ہیں۔ انگریزی اور کنڑ کے ساتھ طلبہ مادری زبان اردو بھی سیکھ رہے ہیں۔ حافظ کرناٹکی نے کہا کہ اس طرح کا ماحول اگر ہر جگہ قائم کیا جائے تو اردو زبان مزید پھولے گی، پھلے گی۔
94 کتابوں کے مصنف حافظ کرناٹکی اب اپنے کتابوں کی سنچری مکمل کرنے جارہے ہیں۔  مذہب اسلام اور اسلامی شخصیات کے متعلق آپ کی کئی کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ ہمارے نبی اور ذکر نبی صلی اللہ علیہ و سلم جو منظوم سیرت پاک پر مبنی ہیں انکے  بڑے  ادبی کارناموں میں شمار کئے جاتے ہیں۔ شمع ہدی، فانوس حرم، یاد نبی اور پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ، شان مدینہ، آئنیہ جمال اور انکے چند دیگر  نعتیہ کلام کے مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔
رباعیات کی صنف میں بھی آپ نے اپنا لوہا منوایا ہے۔ رباعیات حافظ کی پانچ جلدیں شائع ہوچکی ہیں۔
آپکی ادبی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے کرناٹک اردو اکیڈمی نے آپ پر سال 2015 کا  مجموعی خدمات ایوارڈ تفویض کیا ہے۔
ڈاکٹر امجد حسین حافظ کرناٹکی کئی ملی، تعلیمی، فلاحی، رفاہی  اور ادبی تنظیموں سے وابستہ ہیں۔ آپ  الامین ایجوکیشنل سوسائٹی کے نائب چیئرمین کے عہدے پر فائز ہیں۔ کرناٹک اردو چلڈرنس اکیڈمی کے چیرمین، انجمن اطفال کرناٹک کے سکریٹری، مدیننتہ العلوم ایجوکیشنل سوسائٹی کے سکریٹری،  زبیدہ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوٹ کے بانی اور جنرل سیکرٹری اور چند دیگر اداروں سے وابستہ رہ کر تعلیمی، سماجی اور ادبی خدمات انجام دیتے ہوئے آرہے ہیں۔
ان تمام سرگرمیوں میں بچوں کیلئے ادب تخلیق کرنا ان کا  محبوب مشغلہ بنا ہوا ہے۔ حافظ کرناٹکی کہتے ہیں کہ بچوں کا ادب میرا شوق ہی نہیں میرا عشق ہے، اس لئے کسی صلے اور تمنا کے بغیر میں ادب اطفال سے جڑا ہوا ہوں۔ حافظ کرناٹکی مولانا الطاف حسین حالی اور نظیر اکبرآبادی کو اپنا استاد تسلیم کرتے ہیں اور آخری دم تک بچوں کے ادب سے وابستہ رہنا چاہتے ہیں۔ بقول حافظ کرناٹکی باغ اطفال کی بہاروں میں لمحہ  لمحہ اسیر ہونا ہے بچوں کے واستے ہے فن میرا، مجھ کو غالب نہ میر ہونا ہے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Mar 28, 2021 10:51 PM IST