உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    تلنگانہ کے نلگنڈہ میں تراویح کی امامت کے دوران حافظ صاحب کوپڑا دل کا دورہ ۔ اسپتال میں ہوا انتقال

    حافظ میر احمد الدین۔(تصویر:فائل)۔

    حافظ میر احمد الدین۔(تصویر:فائل)۔

    حافظ صاحب نے اٹھارویں رکعت میں ہی پانچ پارہ مکمل کئے اسی دوران ان کی طبیعت بگڑ گئی جس کے بعد فوری مصلیوں نے انہیں اسپتال منتقل کردیا جہاں پر کچھ منٹ کے بعد ہی وہ اپنے رب حقیقی سے جاملے

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      حیدرآباد: تلنگانہ کے ضلع نلگنڈہ میں تراویح کی امامت کے دوران حافظ صاحب کے قلب پر حملہ ہوا جس کے نتیجہ میں ان کا انتقال ہوگیا۔ تفصیلات کے مطابق حافظ میر احمد الدین رمضان کے آخری عشرہ میں اتوار کی شب ضلع کی مسجد گڑھی میں منعقدہ شہ شبی شبینہ کے پہلے دن اکیلے ایک تا پانچ پارہ تراویح میں سنا رہے تھے۔

      انہوں نے اٹھارویں رکعت میں ہی پانچ پارہ مکمل کئے اسی دوران ان کی طبیعت بگڑ گئی جس کے بعد فوری مصلیوں نے انہیں اسپتال منتقل کردیا جہاں پر کچھ منٹ کے بعد ہی وہ اپنے رب حقیقی سے جاملے ۔ ڈاکٹرس کے مطابق اسپتال پہنچنے سے ایک گھنٹہ قبل ہی دو دفعہ ان کو دل کا دورہ پڑااور اسپتال منتقل کرنے کے بعد آخری بار شدید حملہ ہوا جس کی وجہہ ان کی موت واقع ہوگئی یعنی دوران تراویح ہی قلب پر دو مرتبہ حملہ کا شکار ہوئے لیکن وہ پانچ پاروں کی تکمیل تک ہمت کے ساتھ جائے نمازپر رہے۔

      ان کی موت پر نلگنڈہ میں شدید غم کی لہر دوڑ گئی۔ یہ خبر جیسے ہی عام ہوئی،اسپتال اور پھر ان کی رہائش گاہ مانیعم چلکہ نلگنڈہ میں تمام معززین وعلماء اکرام،حفاظ اکرام، اساتذہ دوست احباب وسیاسی و غیر سیاسی لیڈران اور صحافیوں کی بلا لحاظ مذہب و ملت کثیر تعداد نے پہنچ کر ان کا آخری دیدار کیا اور ارکان خاندان کو پرسہ دیا۔مرحوم نہ صرف جید حافظ قرآن تھے بلکہ سرکاری مدرس بھی تھے۔نماز جنازہ بعد نماز ظہر مولانا سید شاہ احسان الدین قاسمی و رشادی نے پڑھائی۔ نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد ان کی جسد خاکی کو حیدرآباد لے جایا گیا جہاں پر بعد نماز مغرب مسجد معراج سعید آباد میں دوبارہ نماز جنازہ پڑھائی گئی اور بعد میں مسجد سے متصل قبرستان چنچل گوڑہ میں تدفین عمل میں آئی۔ پسماندگان میں بیوہ کے علاوہ ایک لڑکا ڈاکٹر اویس اوردو لڑکیاں شامل ہے۔

       
      First published: