ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

حج 2020 : بھوپال رباط کا تنازع مزید گہرایا ، وزیر اعلی کمل ناتھ سے مداخلت کا مطالبہ

مکہ اور مدینہ میں واقع رباط میں ریاست بھوپال کے عازمین حج کیلئے 103 سال سے مفت قیام کا انتظام کیا جاتا رہا ہے ۔ لیکن یہ پہلا موقع ہے جب ریاست بھوپال کے عازمین حج مدینہ رباط میں قیام نہیں کر سکیں گے ۔

  • Share this:
حج 2020 : بھوپال رباط کا تنازع مزید گہرایا ، وزیر اعلی کمل ناتھ سے مداخلت کا مطالبہ
حج 2020 : بھوپال رباط کا تنازع مزید گہرایا ، وزیر اعلی کمل ناتھ سے مداخلت کا مطالبہ

نیوز 18 اردو کے ذریعہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں نوابین بھوپال اور بھوپال کے عام شہریوں کے ذریعہ تعمیر کی گئی رباط میں بدعنوانی کے معاملہ میں دی گئی خبر کے بعد یہ تنازع مزید گہرا ہوگیا ہے ۔ نیوز 18 اردو کی خبر کے بعد آل انڈیا مسلم تہوار کمیٹی نے پورے معاملہ میں وزیر اعلی کمل ناتھ سے مداخلت کی مانگ کرتے ہوئے بھوپال رباط کو شاہی اوقاف سے واپس لے کرحج کمیٹی کے زیر انتظام کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ وہیں اس پورے معاملہ کی جانچ کرانے کا بھی مطالبہ کیا ہے ۔


واضح رہے کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں نوابین بھوپال کے ذریعہ ریاست کے عازمین حج کے لئے ریاستی عہد میں رباطیں تعمیر کی گئی تھیں ۔ ان رباطوں میں نوابین بھوپال کے ساتھ بھوپال کے عوام ، امراور رؤسا کے ذریعہ بھی تعاون کیا گیا تھا ۔ ریاستی عہد میں رباط کا انتظام و انصرام نوابین بھوپال کے ذریعہ کیا جاتا تھا ، لیکن ریاستی عہد کے خاتمہ کے بعد اس کا انتظام مساجد کمیٹی کے تحت کیا گیا ۔ 1972 تک رباط کا نظم و نسق مساجد کمیٹی کے ذریعہ کیاجاتا رہا۔ اس کے بعد مساجد کمیٹی کے ذمہ دار کرنل محبوب  نے ساجدہ سلطان کی ایما پر رباط کو مساجد کمیٹی سے نکال کر شاہی اوقاف کے ماتحت کردیا اور یہیں سے بھوپال رباط میں شاہی اوقاف کے ذریعہ بدعنوانی کی خبریں عام ہونے لگیں ۔ سابق صدر جہوریہ ہند فخرالدین علی احمد کے زمانے میں بھی ایسی ہی بدعنوانی کی گئی اور اس معاملہ کو لیکر سابق صدر جمہوریہ ہند نے مدھیہ پردیش کے سی ایم سیٹھی کو اس کے خلاف کارروائی کرنے کی ہدایت بھی دی تھی ۔ اس وقت سابق گورنر ڈاکٹر عزیز قریشی کی کوشش سے یہ معاملہ سلجھ سکا تھا ۔ لیکن اب پھر وہی روایت دہرائی جانے لگی ہے ۔


مکہ اور مدینہ میں واقع رباط میں ریاست بھوپال کے عازمین حج کیلئے ایک سو تین سال سے مفت قیام کا انتظام کیا جاتا رہا ہے ۔ لیکن یہ پہلا موقع ہے جب ریاست بھوپال کے عازمین حج مدینہ رباط میں قیام نہیں کر سکیں گے ۔ نیوز 18 اردو کے ذریعہ جب اس سلسلے میں تفصیلی رپورٹ پیش کی گئی ، تو آل انڈیا مسلم تہوار کمیٹی نے پورے معاملہ کو لیکر وزیر اعلی کمل ناتھ اور وزارت خارجہ کو خط لکھ کر نہ صرف جانچ کا مطالبہ کیا ، بلکہ بھوپال رباط کو حج کمیٹی کے ماتحت کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔


آل انڈیا مسلم تہوار کمیٹی کے قومی صدر ڈاکٹر اوصاف شاہمیری خرم کہتے ہیں کہ ہندستان میں جمہوریت ہے اور یہاں پر بادشاہت کا وجود آزادی کے ساتھ ختم ہوگیا ہے ۔ لیکن یہاں یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ بھوپال میں آج بھی جمہوریت کے برخلاف راج شاہی چل رہی ہے ۔ جب حیدرآباد اور دوسری ریاستوں کے نوابین کے ذریعہ تعمیر کی گئی رباط کا انتظام و انصرام وہاں کی ریاستی حج کمیٹیوں کے ذریعہ دیکھا جا رہا ہے ، تو بھوپال رباط کا انتظام مدھیہ پردیش حج کمیٹی کے زیر انتظام کیوں نہیں ۔ شاہی اوقاف کا مکہ اور مدینہ میں قائم رباط کا نہ صرف ناجائز طریقہ سے قبضہ ہے ، بلکہ اس کی بدعنوانی کے سبب ریاست بھوپال کے عازمین حج مقدس سفر پر جانے کے حق سے محروم ہو رہے ہیں ۔ اس مرتبہ بھی شاہی اوقاف نے صرف مکہ رباط کے لئے قرعہ اندازی کی ہے ، مدینہ رباط کے لئے کوئی انتظام نہیں کیا گیا ہے ۔ شاہی اوقاف کی اس ناقص کارکردگی سے ریاست بھوپال کے تقریبا ایک ہزارعازمین حج پر نہ صرف اضافی خرچ پڑے گا ، بلکہ انہیں مقدس سفر میں مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑے گا ، جس کو کسی طور پر قبول نہیں کیا جا سکتا ہے۔
First published: Mar 15, 2020 10:06 PM IST